16 اپريل, 2014 | 15 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

عدالت کا 423 کراچی پولیس افسران معطل کرنے کا حکم

۔—فائل فوٹو
۔—فائل فوٹو

کراچی: کراچی بدامنی عمل درآمد کیس کی سماعت کےدوران سپریم کورٹ نے چارسو تیئس پولیس افسران کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پولیس فیاض لغاری کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی بدامنی عمل درآمد کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سپرریم کورٹ نے آئی جی سندھ فیاض لغاری پر برہم ہوتے ہوئے کہا کہ محکمہ میں خامیوں اورخرابیوں کے ذمہ  وہ خود ہیں۔

عدالت نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا۔

عدالت نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث اہلکار اب بھی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور جرائم پیشہ پولیس افسران حساس مقامات پر بھی تعینات ہیں۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمیشن کی جانب سے کراچی میں ازسر نو انتخابی حلقہ بندیوں کے حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی گئی تھی جبکہ عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے دونوں درخواستیں واپس لینے پر کیس خارج کر دیا تھا۔

جسٹس انور ظہیر نے کہا تھا کہ کراچی میں ٹریفک جام کے دوران شہریوں سے لوٹ مار معمول بن چکی ہے پولیس اور رینجرز تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

اس حصے سے مزید

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔

الطاف حسین نفرت اور تفریق ختم کرنے کے خواہاں

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ سندھی عوام کو اپنے حقوق کے لیے ایک ہو کر متحرک ہونا پڑے گا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔