03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بجلی غائب، سازشیں شروع

blackout670

اتوار کی رات ملک کا بیشتر حصہ اندھیروں میں ڈوب گیا تھا۔ جہاں ملک کے بڑے بڑے شہروں سے روشنی غایب تھی، وہیں ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر کہیں گھبراہٹ اور کہیں خوشی کا اظہار کیا جارہا تھا۔ کچھ لوگ تو کسی دہشت گردی کے واقعے، سائبر حملے، یہاں تک کے فوجی بغاوت کی بھی قیاس آرائیاں کرتے نظر آئے:

tweet-2

tweet3

 اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستان میں بجلی کا اچانک غایب ہونا کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، جلد ہی گھبراہٹ پھیلنے لگی اور لوگوں کو موبائلوں پر 'کچھ گڑبڑ ہے' کے پیغامات موصول ہونے لگے۔

 بجلی کا اچانک غایب ہونا وہ واحد پیش رفت نہیں ہے جسے لوگ 'سازش' کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔

 ہماری میڈیا اور سیاست دان لفظ 'سازش' کا استعمال عام جام کسی بھی حوالے سے کرتے رہتے ہیں۔ چاہیں پھر وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) یا مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کے رہنما کیوں نہ ہوں جو جمہوریت کے خلاف ہونے والی 'سازشوں' کے بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔

 یہاں تک کے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک یا پھر دفاع پاکستان کونسل کے رہنما پاکستان میں ہونے والے واقعات میں 'بیرونی ہاتھ' تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

 آپ کی نظر میں یہ سب قیاس آرائیاں آخر کتنی جائز ہیں؟ پاکستان کے مسائل بشمول بجلی کا بحران، دہشت گردی، کمزور سویلین حکومت اور دیگر کو سازش سے جوڑنا کتنا درست ہے؟ کیا ان افواہوں میں کچھ صداقت بھی ہوتی ہے؟

 اس حقیقت کے باوجود کے اس طرح کی افواہوں میں صداقت ہونے کا امکان کم ہی ہے، کیا پاکستان میں ماضی میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر لوگ فرضی سازشیں بنالیتے ہیں؟

 ڈان اردو آپ کی قیمتی آراء کا منتظر رہے گا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

Israr Muhammad Khan
26 فروری, 2013 18:12
اس واقعہ سے ایک بات ثابت هوگئی هے که ملک کے لوگ مارشللا کو کتنی قریب اور کتنی آسان سمجھتی هے جو که همارے ملک کی انتہائی بدقسمتی هے
Israr Muhammad Khan
01 مارچ, 2013 15:38
همارا صوبہ خیبر پختونخوا آج بھی ‏5هزار میگا وواٹ بجلی پیدا کررہا هے اور صوبے کی زیادہ سے زیادہ ضرورت 16سو میگا واٹ هے اسکے باوجود یہاں پر 20/22 گھنٹے لوڈشیڈنگ هورهی هے اور بجلی کے نرخ بھی ملک کے برابر وصول کی جاتی هے جو کۂ ناجائز اور غیر قانونی هے کوئی اسکا نہیں پوچھ رہا هے اپنے وسائل پر اپنا اختیار والوں نے بھی پانچ سال حکومت کی انہوں نے دوران حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ایزی لوڈ اور نوکریاں اور ٹهیکے فروخت کرنے میں نام کمایا اور مال بنایا
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔