16 اپريل, 2014 | 15 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

علیم ڈار کیلئے نیا اعزاز

علیم ڈار مسلسل تین مرتبہ بہترین امپائر کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔—فائل فوٹو

پا کستانی امپائرعلیم ڈارنےڈیڑھ سو ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کرنے کا نیا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

جمعے کے روز لارڈز میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا پہلا ایک روزہ میچ چوالیس سالہ علیم ڈار کےکیرئیر کا ایک سو پچاسواں  ون ڈے میچ تھا۔

میچ کی اختتامی تقریب میں میچ ریفری جواگل سری ناتھ نے انہیں آئی سی سی کی جانب سے ٹرافی پیش کی۔

علیم ڈار نے اپنے انٹرنیشنل کیرئیر کا آغاز پاکستان اور سری لنکا کے درمیان فروری، دو ہزار میں گوجرانوالہ میں کھیلے گئے ایک روزہ میچ سے کیا۔

دو ہزار دو میں وہ آئی سی سی کے انٹرنیشنل پینل میں شامل ہوئے جبکہ اپریل، دو ہزار چار میں وہ الیٹ پینل کا حصہ بنے۔

وہ مسلسل تین مرتبہ آئی سی سی کی جانب سے بہترین امپائر کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں ۔

سترہ اکتوبر، دو ہزار سات کو آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والا میچ ان کے کیرئیر کا ایک سواں میچ تھا۔

اب تک صرف چھ امپائرعلیم ڈار سے زیادہ ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کر چکے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے روڈی کرٹزن دو سو سے زیادہ ون ڈے میچوں میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

اس حصے سے مزید

' میچ فکسرز کے ساتھ کام نہیں کرسکتا '

میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ کام نہیں کرسکتا، اسی وجہ سے چیف سیلیکٹر کا عہدہ قبول نہیں کیا، راشد لطیف۔

' چھ پاک –انڈیا سیریز کھیلے جانے کا امکان'

موجودہ فیوچر ٹور کیلنڈر میں موجود خلا کو دیکھتے ہوئے بی سی سی آئی پاکستان کے خلاف چھ سیریز کھیلنے کا سوچ رہا ہے، رپورٹ۔

فلنٹوف کی کرکٹ میں واپسی

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انڈریو فلنٹوف کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے باوجود کلب کرکٹ میں واپسی کرسکتے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟

جادو کا چراغ: نبض کے بھید اور ایک برباد محبت

بوڑھے دانا طبیب نے مختلف ناموں پر بدلتی نبض کو دیکھ کر لڑکی کی پراسرار بیماری کا علاج کیا-

سارے جہاں سے مہنگا - ریویو

فلم میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح 'جگاڑ' کر کے ایک مڈل کلاس آدمی مہنگائی کا توڑ نکالتا ہے۔