01 اکتوبر, 2014 | 5 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہزارہ قوم پہ حملہ

ہزارہ قوم کے نوجوان اپنے پیاروں کا غم مناتے ہوئے۔ – اے ایف پی فوٹو

یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ مگر ہر حملے کیساتھ، شیعہ قوم کو نشانہ بنانا آج بلوچستان میں معمولات زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ایران سے واپس آنے والی زائرین کی بس پر جمعرات کو ہونے والا حملہ بھی ان حالیہ واقعات کی ایک کڑی تھی جن میں صرف اس سال ہزارہ قوم کے کم از کم ساٹھ ایسے لوگوں کی جان گئی، جو یا تو طالبعلم تھے یا اپنے روزمرہ کاموں سے باہر نکلے تھے۔

اپنے جسمانی خدوخال، علاقوں اور زیارات پہ جانے والے مخصوص راستوں کو استمعال کرنے کی وجہ سے بلوچستان کی ہزارہ قوم آج ایک آسان شکار بن چکی ہے۔ ایک ایسی یکسو مہم کا نشانہ، جسکو صرف ایک ایسی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا جسکا مقصد صرف اس قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگ مارنا ہو۔

اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور حملوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے، اس قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں بلوچستان حکومت اور نیم فوجی دستوں کی ناکامی یا تو حد سے زیادہ نااہلی یا پھر عزم کی ناپختگی کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہے۔

زیادہ تر حملے ان راستوں پہ ہوتے ہیں جنکو استمعال کرتے ہوئے زائرین ایران آتے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان راستوں پہ پولیس گشت بڑھائے جانے کی اطلاعات ہیں مگر اس نگرانی کا مقصد صرف مشکوک حرکات کی نشاندہی یا پھر حملہ آوروں کو بم چھپانے سے روکنا ہے۔

اور جہاں تک زائرین کیساتھ پولیس گاڑیاں روانہ کرنے کی بات ہے، تو یہ قطعاً ناکافی ہے۔ اگر بلوچستان کے سیاستدانوں کیلئے مہنگے اور مکمل حفاظتی انتظامات کئے جاسکتے ہیں تو پھر اس معیار کی حفاظت کم ازکم ہزارہ زائرین کو کیوں نہیں فراہم کی جاسکتی؟

بلاشبہ، زیادہ بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ اس مسلے کوجڑ سے پکڑا جائے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے انکے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا جائے ناکہ پہلے سے منظم شدہ حملوں سے بالکل آخری وقت میں نبٹاجائے۔

بلوچستان کی شیعہ مخالف دہشت گردی ایک ایسی طاقت بن چکی جو حوصلہ افزائی بھی فراہم کرتی ہے، اسکے اپنے اڈے بھی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والے مراکز بھی۔ اسکے شواہد بھی موجود ہیں، ایسے مدارس جہاں شیعہ مخالف نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے اور لشکر جھنگوی کے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں موجود کچھ اڈوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے جن میں وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ مستونگ بھی شامل ہے۔

اب جبکہ ان حملوں کا طریقہ کار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اور ان کے پیچھے موجود لوگوں کی معلومات بھی دستیاب ہے اسکے باوجود انکو روک سکنے میں ناکامی نے بلوچستان کی عوامی اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایسے مفروضے جنم دئے ہیں کہ جیسے وہ جان بوجھ کر فرقہ وارانہ دہشت گردی کیخلاف اقدامات نہیں کرنا چاہتے۔

ایسے نظریات صوبائی نظام پہ کئے جانے والے کم بھروسے کو ظاہر کرتے ہیں،  ایسا صوبائی نظام جسکو علیحدگی پسندوں کیخلاف نبرد آزما تو ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔

سرکاری اداکار چاہے جو بھی سوچیں، ہزارہ قوم کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کا عمل انکی اپنے فرائض سے ایک بڑی روگردانی ہے۔ – اداریہ

اس حصے سے مزید

'مکہ کی تعمیر نو: ' تاریخی حقائق کو مٹا دیا گیا

ناقدین کےمطابق "یہ مکہ نہیں بلکہ اس سے الگ کوئی جگہ ہے، یہ ٹاور اور اس کی روشنیاں بالکل لاس ویگاس کا منظر پیش کرتی ہیں"۔

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔

کراچی: ایک گھنٹے میں پولیس پر دو حملے، دو اہلکار زخمی

پہلا واقعہ حسن اسکوائر کے قریب پیش آیا جہاں ایک پولیس موبائل کو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے دستی بم سے نشانہ بنایا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟