24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہزارہ قوم پہ حملہ

ہزارہ قوم کے نوجوان اپنے پیاروں کا غم مناتے ہوئے۔ – اے ایف پی فوٹو

یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ مگر ہر حملے کیساتھ، شیعہ قوم کو نشانہ بنانا آج بلوچستان میں معمولات زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ایران سے واپس آنے والی زائرین کی بس پر جمعرات کو ہونے والا حملہ بھی ان حالیہ واقعات کی ایک کڑی تھی جن میں صرف اس سال ہزارہ قوم کے کم از کم ساٹھ ایسے لوگوں کی جان گئی، جو یا تو طالبعلم تھے یا اپنے روزمرہ کاموں سے باہر نکلے تھے۔

اپنے جسمانی خدوخال، علاقوں اور زیارات پہ جانے والے مخصوص راستوں کو استمعال کرنے کی وجہ سے بلوچستان کی ہزارہ قوم آج ایک آسان شکار بن چکی ہے۔ ایک ایسی یکسو مہم کا نشانہ، جسکو صرف ایک ایسی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا جسکا مقصد صرف اس قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگ مارنا ہو۔

اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور حملوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے، اس قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں بلوچستان حکومت اور نیم فوجی دستوں کی ناکامی یا تو حد سے زیادہ نااہلی یا پھر عزم کی ناپختگی کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہے۔

زیادہ تر حملے ان راستوں پہ ہوتے ہیں جنکو استمعال کرتے ہوئے زائرین ایران آتے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان راستوں پہ پولیس گشت بڑھائے جانے کی اطلاعات ہیں مگر اس نگرانی کا مقصد صرف مشکوک حرکات کی نشاندہی یا پھر حملہ آوروں کو بم چھپانے سے روکنا ہے۔

اور جہاں تک زائرین کیساتھ پولیس گاڑیاں روانہ کرنے کی بات ہے، تو یہ قطعاً ناکافی ہے۔ اگر بلوچستان کے سیاستدانوں کیلئے مہنگے اور مکمل حفاظتی انتظامات کئے جاسکتے ہیں تو پھر اس معیار کی حفاظت کم ازکم ہزارہ زائرین کو کیوں نہیں فراہم کی جاسکتی؟

بلاشبہ، زیادہ بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ اس مسلے کوجڑ سے پکڑا جائے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے انکے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا جائے ناکہ پہلے سے منظم شدہ حملوں سے بالکل آخری وقت میں نبٹاجائے۔

بلوچستان کی شیعہ مخالف دہشت گردی ایک ایسی طاقت بن چکی جو حوصلہ افزائی بھی فراہم کرتی ہے، اسکے اپنے اڈے بھی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والے مراکز بھی۔ اسکے شواہد بھی موجود ہیں، ایسے مدارس جہاں شیعہ مخالف نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے اور لشکر جھنگوی کے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں موجود کچھ اڈوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے جن میں وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ مستونگ بھی شامل ہے۔

اب جبکہ ان حملوں کا طریقہ کار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اور ان کے پیچھے موجود لوگوں کی معلومات بھی دستیاب ہے اسکے باوجود انکو روک سکنے میں ناکامی نے بلوچستان کی عوامی اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایسے مفروضے جنم دئے ہیں کہ جیسے وہ جان بوجھ کر فرقہ وارانہ دہشت گردی کیخلاف اقدامات نہیں کرنا چاہتے۔

ایسے نظریات صوبائی نظام پہ کئے جانے والے کم بھروسے کو ظاہر کرتے ہیں،  ایسا صوبائی نظام جسکو علیحدگی پسندوں کیخلاف نبرد آزما تو ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔

سرکاری اداکار چاہے جو بھی سوچیں، ہزارہ قوم کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کا عمل انکی اپنے فرائض سے ایک بڑی روگردانی ہے۔ – اداریہ

اس حصے سے مزید

الجزائر کا مسافر طیارہ تباہ، مسافروں سمیت 116 ہلاک

برکینا فاسو سے الجائر جانے والا مسافر طیارہ گر کر تباہ، طیارے میں سوار مسافروں اور عملے سمیت 116 افراد ہلاک ہو گئے

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-