20 ستمبر, 2014 | 24 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہزارہ قوم پہ حملہ

ہزارہ قوم کے نوجوان اپنے پیاروں کا غم مناتے ہوئے۔ – اے ایف پی فوٹو

یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ مگر ہر حملے کیساتھ، شیعہ قوم کو نشانہ بنانا آج بلوچستان میں معمولات زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ایران سے واپس آنے والی زائرین کی بس پر جمعرات کو ہونے والا حملہ بھی ان حالیہ واقعات کی ایک کڑی تھی جن میں صرف اس سال ہزارہ قوم کے کم از کم ساٹھ ایسے لوگوں کی جان گئی، جو یا تو طالبعلم تھے یا اپنے روزمرہ کاموں سے باہر نکلے تھے۔

اپنے جسمانی خدوخال، علاقوں اور زیارات پہ جانے والے مخصوص راستوں کو استمعال کرنے کی وجہ سے بلوچستان کی ہزارہ قوم آج ایک آسان شکار بن چکی ہے۔ ایک ایسی یکسو مہم کا نشانہ، جسکو صرف ایک ایسی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا جسکا مقصد صرف اس قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگ مارنا ہو۔

اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور حملوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے، اس قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں بلوچستان حکومت اور نیم فوجی دستوں کی ناکامی یا تو حد سے زیادہ نااہلی یا پھر عزم کی ناپختگی کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہے۔

زیادہ تر حملے ان راستوں پہ ہوتے ہیں جنکو استمعال کرتے ہوئے زائرین ایران آتے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان راستوں پہ پولیس گشت بڑھائے جانے کی اطلاعات ہیں مگر اس نگرانی کا مقصد صرف مشکوک حرکات کی نشاندہی یا پھر حملہ آوروں کو بم چھپانے سے روکنا ہے۔

اور جہاں تک زائرین کیساتھ پولیس گاڑیاں روانہ کرنے کی بات ہے، تو یہ قطعاً ناکافی ہے۔ اگر بلوچستان کے سیاستدانوں کیلئے مہنگے اور مکمل حفاظتی انتظامات کئے جاسکتے ہیں تو پھر اس معیار کی حفاظت کم ازکم ہزارہ زائرین کو کیوں نہیں فراہم کی جاسکتی؟

بلاشبہ، زیادہ بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ اس مسلے کوجڑ سے پکڑا جائے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے انکے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا جائے ناکہ پہلے سے منظم شدہ حملوں سے بالکل آخری وقت میں نبٹاجائے۔

بلوچستان کی شیعہ مخالف دہشت گردی ایک ایسی طاقت بن چکی جو حوصلہ افزائی بھی فراہم کرتی ہے، اسکے اپنے اڈے بھی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والے مراکز بھی۔ اسکے شواہد بھی موجود ہیں، ایسے مدارس جہاں شیعہ مخالف نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے اور لشکر جھنگوی کے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں موجود کچھ اڈوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے جن میں وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ مستونگ بھی شامل ہے۔

اب جبکہ ان حملوں کا طریقہ کار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اور ان کے پیچھے موجود لوگوں کی معلومات بھی دستیاب ہے اسکے باوجود انکو روک سکنے میں ناکامی نے بلوچستان کی عوامی اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایسے مفروضے جنم دئے ہیں کہ جیسے وہ جان بوجھ کر فرقہ وارانہ دہشت گردی کیخلاف اقدامات نہیں کرنا چاہتے۔

ایسے نظریات صوبائی نظام پہ کئے جانے والے کم بھروسے کو ظاہر کرتے ہیں،  ایسا صوبائی نظام جسکو علیحدگی پسندوں کیخلاف نبرد آزما تو ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔

سرکاری اداکار چاہے جو بھی سوچیں، ہزارہ قوم کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کا عمل انکی اپنے فرائض سے ایک بڑی روگردانی ہے۔ – اداریہ

اس حصے سے مزید

شکیل اوج قتل، جامعہ کراچی کے تین اساتذہ سے تفتیش

کلیہ معارف اسلامی کےسربراہ کےخلاف چلائےجانےوالےایس ایم ایس میں مبینہ طورپریہ اساتذہ ملوث تھےجن پر2سال قبل کیس درج ہواتھا

کشمیری رہنماؤں کا اسکاٹ لینڈ طرز کے ریفرنڈم کا مطالبہ

کشمیری رہنما سید عبدالرحمن گیلانی نے کہا ہے کہ ' آزادی منتخب کرنا بنیادی حق ہے جو کسی قوم سے چھینا نہیں جانا چاہیے '۔

سول نافرمانی تحریک:عمران خان نےبجلی کابل جلادیا

تحریک انصاف کے چیئرمین نے حکومت مخالف تحریک میں اتوار کو کراچی کے جلسے میں عوام سے بھی بجلی کے بل جلوانے کا اعلان کیا ہے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

رودرہیم کا سبق

بچوں پر ہونیوالے جنسی تشدد پر ہماری شرمندگی کی سمت غلط ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس کو روکنے کی کوشش نہ کریں-

رکاوٹیں توڑ دو

اشرافیہ تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے جو خاص طور سے 1970ء کی دہائی کے بعد سے بد سے بدتر ہورہاہے۔

بلاگ

مووی ریویو: دختر -- دلوں کو چُھو لینے والی کہانی

اپنی تمام تر خوبیوں اور کچھ خامیوں کے ساتھ اس فلم کو پاکستانی نکتہ نگاہ سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر وہی ڈیموں پر بحث

ڈیموں سے زراعت کے لیے پانی ملتا ہے، پانی پر کنٹرول سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور توانائی بحران ختم کیا جاسکتا ہے۔

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔