29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

ہزارہ قوم پہ حملہ

ہزارہ قوم کے نوجوان اپنے پیاروں کا غم مناتے ہوئے۔ – اے ایف پی فوٹو

یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ مگر ہر حملے کیساتھ، شیعہ قوم کو نشانہ بنانا آج بلوچستان میں معمولات زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

ایران سے واپس آنے والی زائرین کی بس پر جمعرات کو ہونے والا حملہ بھی ان حالیہ واقعات کی ایک کڑی تھی جن میں صرف اس سال ہزارہ قوم کے کم از کم ساٹھ ایسے لوگوں کی جان گئی، جو یا تو طالبعلم تھے یا اپنے روزمرہ کاموں سے باہر نکلے تھے۔

اپنے جسمانی خدوخال، علاقوں اور زیارات پہ جانے والے مخصوص راستوں کو استمعال کرنے کی وجہ سے بلوچستان کی ہزارہ قوم آج ایک آسان شکار بن چکی ہے۔ ایک ایسی یکسو مہم کا نشانہ، جسکو صرف ایک ایسی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا جسکا مقصد صرف اس قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگ مارنا ہو۔

اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے اور حملوں کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے، اس قوم کو تحفظ فراہم کرنے میں بلوچستان حکومت اور نیم فوجی دستوں کی ناکامی یا تو حد سے زیادہ نااہلی یا پھر عزم کی ناپختگی کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہے۔

زیادہ تر حملے ان راستوں پہ ہوتے ہیں جنکو استمعال کرتے ہوئے زائرین ایران آتے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان راستوں پہ پولیس گشت بڑھائے جانے کی اطلاعات ہیں مگر اس نگرانی کا مقصد صرف مشکوک حرکات کی نشاندہی یا پھر حملہ آوروں کو بم چھپانے سے روکنا ہے۔

اور جہاں تک زائرین کیساتھ پولیس گاڑیاں روانہ کرنے کی بات ہے، تو یہ قطعاً ناکافی ہے۔ اگر بلوچستان کے سیاستدانوں کیلئے مہنگے اور مکمل حفاظتی انتظامات کئے جاسکتے ہیں تو پھر اس معیار کی حفاظت کم ازکم ہزارہ زائرین کو کیوں نہیں فراہم کی جاسکتی؟

بلاشبہ، زیادہ بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ اس مسلے کوجڑ سے پکڑا جائے اور دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے انکے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا جائے ناکہ پہلے سے منظم شدہ حملوں سے بالکل آخری وقت میں نبٹاجائے۔

بلوچستان کی شیعہ مخالف دہشت گردی ایک ایسی طاقت بن چکی جو حوصلہ افزائی بھی فراہم کرتی ہے، اسکے اپنے اڈے بھی ہیں اور پروپیگنڈہ کرنے والے مراکز بھی۔ اسکے شواہد بھی موجود ہیں، ایسے مدارس جہاں شیعہ مخالف نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے اور لشکر جھنگوی کے بلوچستان کے کچھ علاقوں میں موجود کچھ اڈوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے جن میں وزیراعلیٰ کا اپنا علاقہ مستونگ بھی شامل ہے۔

اب جبکہ ان حملوں کا طریقہ کار بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے اور ان کے پیچھے موجود لوگوں کی معلومات بھی دستیاب ہے اسکے باوجود انکو روک سکنے میں ناکامی نے بلوچستان کی عوامی اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایسے مفروضے جنم دئے ہیں کہ جیسے وہ جان بوجھ کر فرقہ وارانہ دہشت گردی کیخلاف اقدامات نہیں کرنا چاہتے۔

ایسے نظریات صوبائی نظام پہ کئے جانے والے کم بھروسے کو ظاہر کرتے ہیں،  ایسا صوبائی نظام جسکو علیحدگی پسندوں کیخلاف نبرد آزما تو ضرور دیکھا جاسکتا ہے۔

سرکاری اداکار چاہے جو بھی سوچیں، ہزارہ قوم کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کا عمل انکی اپنے فرائض سے ایک بڑی روگردانی ہے۔ – اداریہ

اس حصے سے مزید

اسرائیلی جارحیت شدید تر، آج 100 فلسطینی ہلاک

منگل کو غزہ میں عید کے دوسرے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 100 فلسطینی ہلاک، فلسطینیوں کو سرحدی علاقے خالی کرنیکا حکم

دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کا دوسرا میڈل

پاکستانی ریسلر اظہر حسین نے کامن ویلتھ گیمز میں ریسلنگ کے مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیت پاکستان کو دوسرا تمغہ دلادیا۔

پاکستان میں آج عیدالفطر منائی جا رہی ہے

عید کے موقع پر ملک کے اہم شہروں میں سیکورٹی کے خاص انتظامات کئے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

بلاگ

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔

عید پر انکو نہ بھولیں

رمضان میں انسانی ہمدردی کا جو جذبہ آپ کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اسے محض وقتی ابال ثابت نہ ہونے دیں-

کراچی کی قدیم عید گاہیں

سمجھا یہ جاتا ہے کہ کراچی کی پہلی عید گاہ بندر روڈ پر جامع کلاتھ مارکیٹ کے بالمقابل ہے لیکن تاریخی حقائق کچھ اور ہیں

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے