19 ستمبر, 2014 | 23 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

دوہری شہریت کا بل سینیٹ میں پیش

۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا جس میں آئین میں بائیسویں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔

بل میں دوہری شہریت پر پابندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اے این پی نے بل کی بھرپور مخالفت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

منگل کے سیشن کے دوران وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بائیسویں ترمیمی بل پیش کیا۔

ترمیمی بل کی منظوری پر سولہ ممالک کی دوہری شہریت رکھنے کی اجازت ہوگی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سولہ ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے۔

ان کہنا تھا کہ آرٹیکل تریسٹھ ون سی سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

بل کی منظوری پر شہری شام،کینڈا، آسٹریلیا،اردن، ہالینڈ، جرمنی، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور آئس لینڈ کی شہریت بھی رکھ سکیں گے۔

ایوان میں بل پیش کرتے وقت اے این پی کے حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ اکیسویں ترمیم سے قبل بائیسویں ترمیم کیسے لائی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بل کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

جس پر وزیر قانون نے کہا کہا اکیسویں ترمیم قومی اسمبلی میں پیش ہو چکی ہے جو ججوں کے پینشن میں اضافے سے متعلق ہے اور  آئینی ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس کو بل پر اعتراض ہے وہ ترامیم لے آئے۔

اس حصے سے مزید

'ایمرجنسی کا ریکارڈ پرویز مشرف کے عملے نے غائب کردیا تھا'

غداری کے مقدمے کی سماعت کے دوران تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ خالد قریشی نے یہ بیان خصوصی عدالت کے سامنے دیا۔

'خواتین کو ووٹنگ سے روکنے پر پولنگ کالعدم قرار دی جائے'

الیکشن کمیشن نے انتخابی قانون کے نئے مسودے میں اس طرح کا اختیار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

حکومت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی سے مطمئن

وزیراعظم نے اپنی حد تک ہر ممکن بہترین کوششیں کرکے یہ صورتحال پیدا کی اور اب اپنی حکومت معمول کے مطابق چلارہے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

شاہد آفریدی دوبارہ کپتان، ایک قدم آگے، دو قدم پیچھے

اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح وقار یونس اور شاہد آفریدی کے مفادات میں ٹکراؤ پیدا نہیں ہوگا۔

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔