02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

دوہری شہریت کا بل سینیٹ میں پیش

۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا جس میں آئین میں بائیسویں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔

بل میں دوہری شہریت پر پابندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اے این پی نے بل کی بھرپور مخالفت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

منگل کے سیشن کے دوران وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بائیسویں ترمیمی بل پیش کیا۔

ترمیمی بل کی منظوری پر سولہ ممالک کی دوہری شہریت رکھنے کی اجازت ہوگی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سولہ ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے۔

ان کہنا تھا کہ آرٹیکل تریسٹھ ون سی سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

بل کی منظوری پر شہری شام،کینڈا، آسٹریلیا،اردن، ہالینڈ، جرمنی، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور آئس لینڈ کی شہریت بھی رکھ سکیں گے۔

ایوان میں بل پیش کرتے وقت اے این پی کے حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ اکیسویں ترمیم سے قبل بائیسویں ترمیم کیسے لائی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بل کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

جس پر وزیر قانون نے کہا کہا اکیسویں ترمیم قومی اسمبلی میں پیش ہو چکی ہے جو ججوں کے پینشن میں اضافے سے متعلق ہے اور  آئینی ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس کو بل پر اعتراض ہے وہ ترامیم لے آئے۔

اس حصے سے مزید

لائن آف کنٹرول: ہندوستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق انڈین فورسز نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں فائرنگ کی جس کا بھر پور جواب دیا گیا۔

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔

پاکستان میں پولیو کا 14سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب

اس سے قبل 2000 میں 199 کیس رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں برس 184 کیس سامنے آچکے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟