24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

دوہری شہریت کا بل سینیٹ میں پیش

۔فائل فوٹو

اسلام آباد: چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا جس میں آئین میں بائیسویں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔

بل میں دوہری شہریت پر پابندی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اے این پی نے بل کی بھرپور مخالفت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

منگل کے سیشن کے دوران وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے بائیسویں ترمیمی بل پیش کیا۔

ترمیمی بل کی منظوری پر سولہ ممالک کی دوہری شہریت رکھنے کی اجازت ہوگی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سولہ ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کا معاہدہ موجود ہے۔

ان کہنا تھا کہ آرٹیکل تریسٹھ ون سی سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

بل کی منظوری پر شہری شام،کینڈا، آسٹریلیا،اردن، ہالینڈ، جرمنی، امریکہ، فرانس، برطانیہ اور آئس لینڈ کی شہریت بھی رکھ سکیں گے۔

ایوان میں بل پیش کرتے وقت اے این پی کے حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ اکیسویں ترمیم سے قبل بائیسویں ترمیم کیسے لائی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بل کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

جس پر وزیر قانون نے کہا کہا اکیسویں ترمیم قومی اسمبلی میں پیش ہو چکی ہے جو ججوں کے پینشن میں اضافے سے متعلق ہے اور  آئینی ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس کو بل پر اعتراض ہے وہ ترامیم لے آئے۔

اس حصے سے مزید

وفاقی حکومت نے آزادی تقریبات کا اعلان کر دیا

تقریبات کا اعلان کرتے ہوئے سعد رفیق نے تحریک انصاف کے مارچ کے حوالے سے سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-