25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون؛ سماعت ۲۳ جولائی کو ہوگی

سپریم کورٹ.— فائل فوٹو اے ایف پی

کوئٹہ: سپریم کورٹ نے توہین عدالت  کے نئے منظور کردہ قانون کے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جرنل اور وفاق کو ۲۳ جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیےہیں۔  

جمعہ کے روز سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں توہین عدالت قانون کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جس میں درخواست گزار باز محمد کاکڑ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون آئین کی بنیادی شقوں سے متصادم ہے۔ آرٹیکل دو اے عدلیہ کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل پچیس کے تحت تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دلائل سن کر محسوس ہوتا ہے کہ عدالت صبح فیصلہ کرے گی اور شام کو اسے رد کر دیا  جائے گا۔ جو لوگ ملک چلاتے ہیں انھیں آئین کی توہین نہیں بلکہ پاسداری کرنی چاہئے۔

معروف قانون دان اطہر من اللہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کے مطابق تمام ایگزیکٹیو بھی آئین پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس نوعیت کے تمام مقدمات کو یکجا کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان تمام درخواستوں کی سماعت ۲۳جولائی کو اسلام آباد میں ہوگی۔

ادھر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بھی مقامی وکیل نے توہین عدالت کے قانون کو چیلنج کردیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ نیا قانون توہین عدالت قانون دوہزار بارہ، صدر آصف علی زرداری کی مبینہ کرپشن کیخلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو ممکنہ توہین عدالت کی کاروائی سے بچانے کےلیے بنایا گیا ہے۔ یہ قانون عدلیہ پر حملہ اور آئین توڑنے کے مترادف ہے۔

صرف دو روز پہلے بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرکے منظوری حاصل کی گئی تھی۔ حزبِ اختلاف کی اکثریت اور خود کئی حکومتی ارکان کی مخالفت کے باوجود اسے منظور کرالیا گیا تھا۔

منظور کردہ بل پر جمعرات کو صدرِ آصف علی زرداری نے دستخط کیےتھے۔ صدر کی توثیق کے بعد، پارلیمنٹ کے منظور کردہ توہینِ عدالت بل کو قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟