22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

توہین عدالت قانون؛ سماعت ۲۳ جولائی کو ہوگی

سپریم کورٹ.— فائل فوٹو اے ایف پی

کوئٹہ: سپریم کورٹ نے توہین عدالت  کے نئے منظور کردہ قانون کے خلاف دائر درخواست پر اٹارنی جرنل اور وفاق کو ۲۳ جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیےہیں۔  

جمعہ کے روز سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں توہین عدالت قانون کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جس میں درخواست گزار باز محمد کاکڑ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون آئین کی بنیادی شقوں سے متصادم ہے۔ آرٹیکل دو اے عدلیہ کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل پچیس کے تحت تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دلائل سن کر محسوس ہوتا ہے کہ عدالت صبح فیصلہ کرے گی اور شام کو اسے رد کر دیا  جائے گا۔ جو لوگ ملک چلاتے ہیں انھیں آئین کی توہین نہیں بلکہ پاسداری کرنی چاہئے۔

معروف قانون دان اطہر من اللہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کے مطابق تمام ایگزیکٹیو بھی آئین پر عمل درآمد کرنے کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس نوعیت کے تمام مقدمات کو یکجا کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان تمام درخواستوں کی سماعت ۲۳جولائی کو اسلام آباد میں ہوگی۔

ادھر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بھی مقامی وکیل نے توہین عدالت کے قانون کو چیلنج کردیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ نیا قانون توہین عدالت قانون دوہزار بارہ، صدر آصف علی زرداری کی مبینہ کرپشن کیخلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو ممکنہ توہین عدالت کی کاروائی سے بچانے کےلیے بنایا گیا ہے۔ یہ قانون عدلیہ پر حملہ اور آئین توڑنے کے مترادف ہے۔

صرف دو روز پہلے بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرکے منظوری حاصل کی گئی تھی۔ حزبِ اختلاف کی اکثریت اور خود کئی حکومتی ارکان کی مخالفت کے باوجود اسے منظور کرالیا گیا تھا۔

منظور کردہ بل پر جمعرات کو صدرِ آصف علی زرداری نے دستخط کیےتھے۔ صدر کی توثیق کے بعد، پارلیمنٹ کے منظور کردہ توہینِ عدالت بل کو قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: سیاسی بے یقینی برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، عمران خان

ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان نے کہا کہ انہیں ایسا تحقیقاتی کمیشن قبول نہیں جس کا سربراہ حکومتی نمائندہ ہو۔

عدالت سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، عوامی تحریک

دوسری جانب ممکنہ ماورائے آئین اقدام کیخلاف درخواست کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا آئینی حق ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔