سب کچھ خالق کی طرف سے ہوا
“آسمان کی اور زمین کی کوئی ایسی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے، جسکا ذکر اس روشن کتاب میں نہ ہو”
وہ جس طرح سے آیات بمعہ ترجمہ گوش گزار کرتا جا رہا تھا، میرے اندر خوف کی چادرپھیلتے آسمان جتنی وسیع ہوتی جا رہی تھی. احساسِ تحفظ اتنا ہی سکڑتا پاوں کے تلووں میں منجمد ہوتا جا رہا تھا۔ یہ سندھ کے ایک چھوٹے سے گاوں ‘سیتا’ کا ایک کلین شیو پیش امام تھا جو کبھی ہائی سکول کا ماسٹر رہ چکا تھا مگر ریٹائرمینٹ کے بعد خود ہی امامت کے پیشے سےوابستہ ہوگیا تھا۔ وہ اس دِلخراش واقعے کے بارے میں تفصیل بتا رھا تھا۔
واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ سیتا، ضلع دادو میں مشتعل ھجوم نے گاوں کی مسجد میں قرآنِ پاک جلانے کے الزام میں پولیس لاک اپ میں بند ایک نامعلوم شخص کو تھانے کی دو منزلہ عمارت سے دھکا دیکر نیچے گرایا۔ پھر اسکو دو تین کلو میٹرگھسیٹے ہوئے شہر سے باھر جا کر ڈنڈے، اینٹیں اور پتھر برسا کر مارا اور پھر اسکی لاش تک کو جلا ڈالا۔

تھانے کی دو منزلہ عمارت جس سے نیچے دھکا دے کر پھینکا گیا اور پھر گھسیٹتے ہوئے چوک تک لے جایا گیا۔
اس کلین شیو پیش امام نے قرآن پاک کی آیات و ترجمہ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوے اس رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح سے سنانی شروع کی؛
‘میں بھی ایک مسجد شریف کا پیش امام ہوں، نماز پڑھا کر واپس آیا تو شہر میں یہ بات سنی کہ پانچ قرآن پاک جلائے گئے ہیں۔ کسی کافر نے سیپارے جلائے ہیں، درود شریف جلائے ہیں، خالق کا اسم پاک جلایا گیا، نبی پاک کا اسمِ پاک جلایا گیا۔ بات خالق کے کلامِ پاک کی ہے، میں کہتا ہوں کافر تھا جس کو جلایا گیا۔ پاگل ہمارے گاوّں میں بھی ہیں مگر ایسی حرکت آج تک کسی نے نہیں کی۔ یہ رات کے ڈھائی بجے کا واقعہ ہے، جب اس کافر نے قرآن جلائے تو چوکیدار نے پکڑ کر اس کو تھانے میں دے دیا۔ بات جب لوگوں نے سنی تو ان کا ‘ایمانی جوش’ جاگا کیونکہ بات قرآنِ پاک کی تھی، اس ‘مسلمانی جوش’ اور ‘غیرت’ میں وہ تھانے پہ ٹوٹ پڑے اور ‘کافر’ کو جلا ڈالا. میں کہتا ہوں یہ قرآن پاک کے جلانے کا بدل تو نہیں، کیونکہ دنیا میں تو ہم الف لام میم کا بدل بھی نہیں دے سکتے۔
“ھمارے رسول نے کیا کہا تھا؟
I am leaving two things among you
ایک میری اولاد اور دوسرا قرآن
if you act according to Quran you will never go wrong”
وہ دوران گفتگو انگریزی کا استعمال کر تا جا رھا تھا۔ اسکا گلا گلوگیر ہوتا جا رہا تھا اور چونکہ وہ ریٹائرڈ ماسٹر تھا، آواز کی لو کہاں مدہم اور کہاں اونچی رکھنی ہے، اس فن میں اسکو کمال حاصل تھا۔ ‘ایمانی جوش’ اور ‘مسلمانی غیرت’ کی ادائیگی کے وقت اس کے چہرے کے تاثرات اس کے اپنے جوشِ ایمانی کی صاف گواہی دے رہے تھے۔ قرآنی تقدس کا درس وہ دوران گفتگو بار بار دیتا جا رہا تھا۔ حاصلِ گفتگو یہ بات اہم ٹہری کہ یہ شخص جو اپنے والد کی وفات پہ بھی نہیں رویا تھا، خدا کے کلام کی بے حرمتی نے اس پہ دکھ کی ایسی کیفیت طاری کی کہ وہ دکان پہ بیٹھا مسلسل روتا رہا اور جب جمعہ پڑھانے گیا تو دعا پڑھاتے وقت اس پہ رقّت طاری تھی، سنت میں بھی وہ پھوٹ پھوٹ کہ روتا رہا، البتہ نفل کے وقت اس نے اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھا۔
مگر کیا لازم نہ تھا کہ اگر پیش امام نے دوران نماز رقّت کا یہ سماں باندھا ہو تو نمازیوں کی حالت دیدنی کیوں نہ ہوگی۔ بقول اسکے لوگوں کا مشتعل ہونا بھی فطری تھا کیونکہ اگر کسی کے لختِ جِگر کو کوئی اس طرح جلاتا تو موقع پہ ہی مارا جاتا۔ مگر چونکہ یہ خدا کے کلام کی بے حرمتی تھی، اس لئے سب کچھ خالق کی طرف سے ہوا۔
سارے واقعے میں ان کے لئے اگر کچھ مذمت کے لائق بات تھی تو وہ صرف یہ تھی کہ واقعہ کے بعد پولیس نے جو کارروائی کی وہ بے رحمانہ تھی اور تو اور میڈیا کی خاموشی بھی قابلِ مذمت تھی کیونکہ میڈیا نے بھی پولیس کارروائی پہ بات کرنا پسند نہیں کیا۔
یہ صرف کلین شیو پیش امام کی بات نہیں تھی پورا گاوں اس پہ متفق تھا کہ گاوں والوں کے ساتھ بڑی زیادتی ھوئی ھے، پولیس نے گھر گھر چھاپے مار کر گھروں کے اندر گھس کر لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی ہے، اور یہ کہ ایسا تو کبھی مارشل لا میں بھی نہیں ہوا۔ ان کو یہ بھی شکایت تھی کہ پولیس کی ان بلاجواز گرفتاریوں پہ جب گاؤں کی خواتین نے جلوس نکالا اور احتجاج کیا تو میڈیا نے اہمیت ہی نہیں دی۔
حیرت تھی کہ کس طرح بے حرمتی کے الزام تلے بے رحمانہ طریقے سے اجتماعی طور مارے گئے اس نامعلوم شخص کے قتل کا قصہ پس منظر میں چلا گیا تھا اور پولیس کارروائی زبانِ عام په تھی۔ وہاں پہ موجود مجمعے میں کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہیں تھا، جس نے ازراہِ ہمدردی اس مارے گئے نامعلوم مسافر کے لئے دو لفظ کہے ہوں۔ انکا نکتہ نظر یہ تھا کہ انہوں نے کسی ’قاتل‘، چور، لٹیرے، یا رہزن کو نہیں ایک کافر کو جلایا اور مارا ہے، جو مسلمانوں میں اللہ کی طرف سے عین ’ایمانِ مسلمانی‘ اور ’غیرتِ ایمانی‘ کے جذبات بیدار ھونے سے ممکن ہوا۔

یہ پیش امام کے اندازِ خطابت کا ’رعب و دبدبہ تھا یا ہجوم میں بیدار ’فطری دینی غیرت‘ کے جذبات سے خوف کا غلبہ کہ ہم میں سے کسی میں بھی سوال کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ ’جوشِ ایمانی‘، ’مسلمانی غیرت‘، ’غیرتِ اسلامی‘ یا اس قسم کی اور اصطلاحات خطباتِ جمعہ میں تو کبھی ہوسکتا ہے ہم لوگوں نے سن رکھی ہوں مگر اس طرح ہجومِ عام کی طرف سے بات چیت کا یہ انداز ہمارے لئے یقیننا نیا تھا۔
ہم اس لیئے بھی گھبرا گئے کہ ہم اپنے تصور میں ابھی جس سندہ میں سفر کر رھے تھے وہ کتابی سندہ تھی جس کا چرچا ہمارے دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اورصحافیوں کے ہاں اکثر سننے کو ملتا ہے۔ ہم بھی اسی مغالطے کا شکار تھے کہ صوفیوں کے سندھ میں مذہبی رواداری عام ہے مگر یہ حیدرآباد اور کراچی پریس کلب کی آنکھ سے دیکھی جانے والی سندھ نہیں تھی۔ پھر یہ خوف ھمارے اندر بھی اتر آیا تھا کہ کسی بھی سوال پہ کہیں کوئی ’غیرت‘ والی بات نہ ہو جائے۔ ویسے بھی اب کے سندھ میں صرف غیرت کی ہی فصل باقی بچی ہے جو ہر سال پہلے سے زیادہ اعلیٰ پکتی ہے اور سالانہ سینکڑوں عورتیں اس فصل کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہیں۔ یـہ ’مسلمانی و ایمانی ‘ بھی غیرت کی کوئی نئی قسم تھی جو امسال سندھ کی مارکیٹ میں نئی متعارف ہوئی تھی۔

مگر باوجود خوف و ہراس، سوالات تو تھے؛
۔ یه پیش امام جس نے نہ جائے واردات دیکھی، نہ اس نامعلوم شخص کو دیکھا، صرف سنی سنائی پہ وہ ایمانی غیرت کے غلبے میں کیسے بہہ گیا اور کیسے اس نے دورانِ نماز، نمازیوں پہ رقّت طاری کی۔ کیا اسلام میں سنی سنائی پہ یہ ردِعمل شرعی کہلایا جا سکتا ہے؟
۔ یه ہجوم کیوں بضد ھے کہ وہ شخص پاگل نہیں تھا، جبکہ وہ سب متفق تھے کہ اس نے مسجد میں داخل ہو کر پانی کی موٹر چلایی، کہیں چھپا کر رکھی ھوئی چابی ڈھونڈھی، کمرے کا تالا کھولا، کمرے کے سارے پنکھے تک چلادیئے۔ (بائیس دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں پنکھے چلانا اور صحن میں پانی کی موٹر چلا دینا، یہاں تک کہ پانی بہتا ہوا باھر سڑک تک پہنچ جائے کیا یہ کسی ذی ھوش کا کام تھا جو بقول گاؤں والوں کے اس نیت سے آیا ہو کہ فتنہ برپا ہو۔)؟
۔ سوال یہ بھی تھا کہ وہ اجنبی مسافر جس نے گھٹنوں تک کی لمبائی کی میلی کچیلی دھوتی باندھی ھو، بغیرآستین کے چار جیبوں والی صدری پہنی ھو، ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں کے ناخن بڑھے اور گند مٹی سے بھرے ہوئے، دو انچ کی ڈاڑھی اور سر کے بال بھی مٹی سے اٹے ھوئے جیسے وہ راستے میں مٹی میں ہی سوتا ہوا آیا ہو، گاوں کی اس مسجد تک کیسے پہنچا؟
۔ کیوں یہ سارا گاوں صرف اس بات پہ دکھی ہے کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں بے گناہ لوگ پکڑے گیے ہیں جبکہ ایف آئی آر میں اکیس لوگ نامزد ہیں، جن میں سے صرف سولہ لوگ پکڑے گئے ہیں، اور پینتیس لوگ تفتیش کے سلسلے میں لایے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق تھانے پہ دو ہزار سے زائد لوگوں نے حملہ کیا، سپاہیوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی، مگر ھجوم نے سپاہیوں سے رائفلیں اور میگزین تک چھین لیئے۔ بےہتھیار پولیس سپاہی ابھی تک معطل ہیں کہ انہوں نے اس شخص کی حفاطت کیونکر نہیں کی۔ یہ دو ہزار لوگ جو جوشِ ایمانی میں اس پاگل کو تھانے سے گھسیٹتے ہوئے لایے اور پتھر مارتے ہوئے اس کی لاش کو شہر کے چوک پہ جلایا، ایک ایک نے اسکی لاش پہ اسی طرح پاوں رکھ کر وڈیو بنوائی جس طرح شکاری شیر کے شکار کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں، کیا وہ کسی اور گاوں کے تھے؟ (عورتوں نے تو یہ تک بتایا کہ بعد میں یہ ویڈیو ایک ہزار روپے میں فروخت تک کی گئی۔ ہاں فقط عورتیں تھیں جو کہہ رھی تھیں کہ پاگل مسافر کے ساتھ بے واجبی ہوئی ہے۔) ایک پورا گاوں جو پولیس کارروائی سے خوف کا شکار تو ضرور تھا مگر اپنے کیئے پہ پشیمان یا نادم ھرگز نہ تھا۔
خودکش بمبار نے کبھی اپنی جان کی پرواہ کی ہے؟
اب ہم عین اسی مسجد میں تھے جہاں ایک نیم پاگل شخص مبینہ طور پہ مسجد میں قرآنی نسخوں آگ لگاتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
مسجد کے اندر مذکورہ ڈاکٹر نواب علی میمن نے پیش امام کے محتاط لہجے کے عین برعکس اس غصے اور برہمگی سے اپنی بات شروع کی کہ ہم سب سٹپٹا سے گئے کہ خدانخواستہ ہم سے کیا جرم ہوا ہے۔

وہ مسجد جس میں مسافر نے پناہ لی اور وہاں پی قرآن جلانے کا الزام لگا۔
‘تم ہمارے مہمان ہو، اس لئے عزت کر رہے ہیں ورنہ ہمارے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے وہ کم نہیں ہے۔ زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی ہے مگر زیادتی پولیس نے نہیں کی پوری سندھ نے کی ہے، صحافیوں نے کی، سندھ کی سول سوسائٹی نے کی۔ ‘امر’ نے ہمارے ساتھ کی ہےـ’.
میرے سارے ساتھیوں کی نگاہ مجھ پہ جم گئی کہ اب نجانے وہ بندہ میرے ساتھ کیا حشر کرے گا مگر دوسرے لمحے ہم سب نے سکھ کی سانس لی کہ اسکی تبرے بازی تو بےشک ہمارے لئے تھی، لعن طعن کا مرکز بھی ہم ہی تھے مگر ‘امر’ سے مراد میں ناچیز نہیں بلکہ سندہ کے بڑے رائٹر امر جلیل تھے جو کہ اس وقت ہم میں موجود نہیں تھے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے پروگرام میں اس واقعے کی مذمت کی تھی۔
یہ نواب علی، عطائی ڈاکٹر ہونے کے ساتھ مسجد کے نگہبان بھی تھے اور یہ مسجد ان کی کاوشوں سے بقول انکے دوردراز کے علاقوں کے چندے سے بنی تھی۔ لیکن اس کا طیش میں آکر ہم سے یوں بات کرنا ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ اگر اس کی بات کو مان بھی لیا جائے کہ یہ ‘سیتا’ کے پرامن ماحول کو تباہ کرنے کی بہت بڑی سازش تھی جسکو گاوں والوں نےایک’ کافر’ کو جلا کر ناکام بنایا ہے تو اس میں ہمارا قصور کیا تھا؟
کیا سندھ کی سول سوسائٹی اور میڈیا نے ‘سیتا والوں’ کے ساتھ یہ زیادتی کی کہ ان کو سندھ کا ممتاز قادری نہیں بننے دیا؟ ان کو انسانیت کے ناطے پھولوں کے ہار کیوں نہیں پہنائے گئے؟ انکا لہجہ، غصہ اور جارحانہ انداز اب برداشت سے باہر ھوتا جا رھا تھا۔

میں نے غصے میں آنے کے بجائے حلق میں دیر سے پھنسے ہوئے سوالات آخر پوچھنے شروع کر دیئے۔
ایک ایسا شخص جس کی کو ئی شناخت نہیں ہو سکی، نا نام، نا پتہ، آخر وہ سیتا آکر اپنی سیکیورٹی کا خیال کیئے بغیر ایسی حرکت کیونکر کرے گا؟
اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ ایک سازش ہے تو اس سازش کا فائدہ آخر کسے ہونا ہے؟
مگر نواب علی کے جوابات میں موجود سوالات نے ہمیں اور بھی پریشان کردیا۔
‘کیا خودکش بمبار نے کبھی اپنی جان کی پرواہ کی ہے’؟ ‘تم لوگوں کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ ھمارے ملک کے خلاف سازشیں ھوتی رھتی ہیں’؟
میرا سوال یہ بھی تھا کہ جب آپ نے اسے پولیس کے حوالے کردیا تو پھر۔ ۔ ۔ ۔ مگر اس کا غصہ تھا کہ بڑھتا جا رھا تھا اور سوالات ابھی باقی تھے۔
جب موت کا قصہ ٹھنڈا پڑ جائے
جائے وقوعہ سے نہیں لگتا تھا کہ وہاں اتنی تعداد میں قرآن پاک جلائے گئے ہونگے، چھت پہ دھوئیں کے کوئی نشانات موجود نہیں تھے، جلا ہوا فرش بھی بمشکل کوئی ڈیڑھ دو فٹ جلا تھا۔ اندازے سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر آگ بھی جلی ہو تو اس کا دورانیہ پانچ دس منٹ سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ اتنی دیر میں چوکیدار کا واپس جاکر دو تین لوگوں کو اکٹھا کرنا اور پھر مسجد تک لے کے آنا، تب تک مجذوب (بقول انکے’کافر’) کا بھاگنے کے بجائے اپنی کارروائی میں مشغول رہنا، بات میں کئی جھول تھے مگر یہ جاننا تو پولیس کا کام تھا۔

مسجد میں فرش کا جلا ھوا فٹ دو فٹ کا ٹکڑا
پولیس بھی بچاری کہاں تک سیاسی اثر سے اپنے آپ کو بچا پاتی۔ گاوں پہ حاوی سیاست کا منظر یہ تھا کہ گاوں کے وڈیرے نے حال ہی میں فنکشنل لیگ جوائن کی ہے اور وہ ماضی میں ہمیشہ پیپلز پارٹی مخالف رہا ہے۔ جبکہ مبینہ کافر کے خلاف ‘ایمانی غیرت’ جگانے والوں میں پی پی پی کے مقامی رہنما کے فرزندِ ارجمند بہت زیادہ متحرک رہے۔ انہوں نے موبائل مسیجز پہ پورے گاوں کی مسلمانی غیرت کو للکارتے ہوئے انکو قرآنِ پاک کی بےحرمتی کرنے والے ایک پاگل مسافر کے قتل کی ترغیب کو عین اسلامی قرار دے کر ثوابِ دارین میں حصہ لینے پہ اکسایا۔ انکے کیا سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں، یہ بھی پولیس اس وقت جان پائے گی جب دادو کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک منسٹر اسکی سرپرستی کرنا چھوڑیں گے۔
گاوں کی سرگوشیوں میں یہ بھی سنا گیا، کہ گاوں کے وڈیرے نے اس واقعے کا الزام پی پی پی کی مقامی قیادت پے لگایا ہے کہ یہ واقعہ جان بوجھ کر کیا گیا تاکہ اس کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ان کے کہنے پہ جتنی سرعت کے ساتھ پولیس نے گرفتاریاں کیں، پی پی پی کے منسٹر کے دباو پہ پی پی کے کارکنوں کے ساتھ رعایت برتی گئی۔ نتیجتاً، مقامی وڈیرے کو بھی گرفتار لوگوں کی ضمانتیں کروانی پڑیں اور یوں قصہ ٹھنڈا پڑتا گیا۔

کسی کی بھی موت کا قصہ ٹھنڈا پڑجائے تو نہ صرف روح کو سکون آجاتا ہے بلکہ کبھی کبھار طیش میں آئے ضمیر کو بھی چین نصیب ہو جاتا ہے۔ کون یاد کرتا ہے، سینکڑوں جلائے گئے ان دیوانوں، فرزانوں کو جو ہجومِ عام کے بے رحم پاوں تلے کچلے گئے۔
یہ ایک انجان مسافر کی کہانی نہیں تھی جسکو روشِ عام میں مسجد سے کافر کہہ کر اٹھایا گیا، جسکی دماغی صحت جانے بغیر اسکو پولیس کے حوالے کیا گیا، پھر ایمانی غیرت میں آکر چند گھنٹوں میں لاٹھیاں، ڈنڈے برساکر، اینٹوں سے اسکا سر کچلا گیا اور پھر شناخت کے بغیر اسکی لاش جلا دی گئی تھی۔ یہ بےشناخت سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے معاشرے کی کہانی ہے، جس کو ہمارا پاگل پن گلیوں میں گھسیٹتا ہوا چوک تک لے آیا ہے، اب اسکے نچلے دھڑ کی دھوتی اتار کر ننگا پن دکھا کر آگ لگانا ہی چاھتا ہے، کئی من چلے اس کے خون رستے جسم پر پاؤں رکھ کر اپنی شکاری ذہنیت کی تسکین کر رہے ہیں اور دیکھو تو کئی ماچیس کی تیلیاں اور آگ لئے آتے ہونگے۔
“تم روح پہ خراش مت آنے دو؛ مرے ہوئے جسم کی تذلیل بس تمام ھوا چاھتی ہے۔”
امر سندھو ایک لکھاری، ایکٹوسٹ اور کالمنسٹ ہیں اور ہمارے سماج میں ابھی تک ان فٹ ہیں۔
اس فیچر کو سننے کیلئے پلے کے بٹن پر کلک کیجئے۔







We Pakistani are AFICIONADOS and missing the true sense of FAITH
مزہب کے نام پر بربریت کی شرمناک مثال ہے. اگر سلمان تاثیر جیسے باشعور لیڈر توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانے میں کامیاب ہو جاتے تو آج مزہبی جنونیوں کو یوں کھل کھیلنے کا موقع نہ ملتا. مجھے ڈر ہے کہ توہین قرآن ہر قتل کی سزا دینے والے کل کلاں توہین صحابہ اور توہین اولیاء کا مہلک قانون بھی لے کر آ جائیں گے….
yeh hay mulla mardood ka islam . sada sy islam ki aar may apni hewaneyat ki taskeen apny mufadad ka tahuffuz . koi in mulla aur onkay safak jahil bay zameer pearo karun sy pochny wala nahe hay . rahe state tow wo khod in mullaon k reham o karam par hay . es leye k wo in mullaon ki waja sy apny mufad ka tahuffuz karte hy . rahe amur sundu j c pagal log tow roshny hay . tum apni karne kar guzro jo hoga deakha jaega . . ab wo waqt door nahe jab in jahil mullaon aur in k jahil pero karon ki koe nhe sunay ga . . hun jab sy aadam e khaki k haq may naghma sira . may deotaon k bhepray hoe aatab may hun
masla mazhab o mullayeat ya phir toheen risalat qanoon ka nahi INSANIYAT ka hy jis mashray may insaniat dam tour day insan ki takreem na ho wahan aisay nahi issay bad tar waqiyat bhi janam letay hain agar aisay waqiat sirf mazhabi tashaddud pasand kar rahay hotay to bhi maana ja sakta tha issay pehlay QUETTA aur dosray shehar may bhi tasshadud k aisay dildouz manazir dekhay o sunay hain lekin afsoos mujrimon ko saza nahi mili jub tak sazaen nahi milen gi aisay waqiat hotay rahen gay islye ek dosray ko galiyan denay say ziada zaroori hy k ham pakistan mai qanoon ki baladasti k lye muttahid ho kar kuch eqdamat karen
عوام کا رد عمل- باقی سب باتین ہی فضول ہین عوامی رد عمل ایسے ہی ہوتے ہیں -کیا ہیان تبصرہ کرنے والون میں کوئی قابل فہم یا کسی اہلیت کا شخص ہے ہی نہٰٰیں؟؟؟
اس واقعہ سے ملائیت یا مذہبی انتہا پسندی کا کوئی تعلق ہی نہین- یورپ کے انقلابات کی تفصیل جو جانتے ہین وہ بیان کرین کہ جب انصاف نہین ملتا تو عوام کا رد عمل ایسے ہی ہوتا ہے- پاکستانی پاکستان مین اگر شعار وجہ قیام پاکستان کی حفاظت کرنا بربریت ہے ہو پاکستان میں فوج ہی نہیں ہونی چاہئے کہ فوج جب پاکستانی کی حفاظت کریگی بم اور توپ کے گولہ اور ہوائٰی جہاز سے جو عمل کریگی نقصان تو انسان کا ہوگا؟؟؟؟ انسانیت خطرہ مین پڑ جائیگی کیا صرف پاکستان کے جنون میں انسانیت کو تباہ کرنا صحیح ہوگا؟؟؟؟