25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستانی حکام کی افغانستان پر راکٹ فائر کیے جانے کی تردید

پاکستانی فوجی پاک افغان بارڈر پر۔ فائل فوٹو

راولپنڈی: پاکستانی عسکری حکام نے افغانستان کے سرحدی علاقوں پر چارسو راکٹ فائر کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے الزام کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔

پاکستانی عسکری حکام کہنا ہے کہ پاکستان اسی وقت جوابی کارروائی کرتا ہے جب کسی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کی جائے۔

گوکہ افغان حکومت نے پاک فوج پر براہ راست الزام نہیں لگایا لیکن افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی سرحدی علاقے سے افغانستان کے علاقے کنڑ کے ضلع ڈانگم  پر تین سو آرٹلری شیل  فائر کیے گئے۔ جس کے چار افراد ہلاک ہوئے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان پاک افغان سرحدی علاقے سے کارروائیاں کررہے ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ جواد نے اتوار کے روز کابل میں پاکستان کے سفیر کو ڈیورنڈ لائن پر ہونے والے حالیہ شیلینگ کے حوالے سے بات چیت کے لیئے بلایا ہے۔

اس حصے سے مزید

پاکستان کی صحافی فیض اللہ کی رہائی کیلئے صدر کرزئی سے اپیل

ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز رپورٹر فیض اللہ خان کو افغان سیکورٹی فورسز نے اپریل میں صوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا۔

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

اسرائیلی جارحیت: نواز شریف کا ملک میں یومِ سوگ کا اعلان

جعمہ کوسرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، وزیراعظم نے غزہ کے متاثرین کیلئے 10لاکھ ڈالرامداد کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-