02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستانی حکام کی افغانستان پر راکٹ فائر کیے جانے کی تردید

پاکستانی فوجی پاک افغان بارڈر پر۔ فائل فوٹو

راولپنڈی: پاکستانی عسکری حکام نے افغانستان کے سرحدی علاقوں پر چارسو راکٹ فائر کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے الزام کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔

پاکستانی عسکری حکام کہنا ہے کہ پاکستان اسی وقت جوابی کارروائی کرتا ہے جب کسی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کی جائے۔

گوکہ افغان حکومت نے پاک فوج پر براہ راست الزام نہیں لگایا لیکن افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی سرحدی علاقے سے افغانستان کے علاقے کنڑ کے ضلع ڈانگم  پر تین سو آرٹلری شیل  فائر کیے گئے۔ جس کے چار افراد ہلاک ہوئے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان پاک افغان سرحدی علاقے سے کارروائیاں کررہے ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ جواد نے اتوار کے روز کابل میں پاکستان کے سفیر کو ڈیورنڈ لائن پر ہونے والے حالیہ شیلینگ کے حوالے سے بات چیت کے لیئے بلایا ہے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔