23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستانی حکام کی افغانستان پر راکٹ فائر کیے جانے کی تردید

پاکستانی فوجی پاک افغان بارڈر پر۔ فائل فوٹو

راولپنڈی: پاکستانی عسکری حکام نے افغانستان کے سرحدی علاقوں پر چارسو راکٹ فائر کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے الزام کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔

پاکستانی عسکری حکام کہنا ہے کہ پاکستان اسی وقت جوابی کارروائی کرتا ہے جب کسی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کی جائے۔

گوکہ افغان حکومت نے پاک فوج پر براہ راست الزام نہیں لگایا لیکن افغان حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی سرحدی علاقے سے افغانستان کے علاقے کنڑ کے ضلع ڈانگم  پر تین سو آرٹلری شیل  فائر کیے گئے۔ جس کے چار افراد ہلاک ہوئے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان پاک افغان سرحدی علاقے سے کارروائیاں کررہے ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے نائب وزیر خارجہ جواد نے اتوار کے روز کابل میں پاکستان کے سفیر کو ڈیورنڈ لائن پر ہونے والے حالیہ شیلینگ کے حوالے سے بات چیت کے لیئے بلایا ہے۔

اس حصے سے مزید

طاہر القادری کا دھرنے کے شرکاءکو واپسی کی اجازت دینے سے انکار

طاہر القادری نے پیر کو دھرنے میں شریک اپنے حامیوں کو گھر واپسی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی خامیوں کا ذمہ دار آر اوز کو قرار دے دیا

آر اوز قانونی طور پر پولنگ اسٹیشنز کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر انہوں نے یہ ٹاسک خود مکمل نہیں کیا۔

حکومت کو پولیو ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کی جلدی

ایسا نظر آتا ہے کہ اس مرکز کا قیام انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈکو مطمین کرنے کے لیے عمل میں لایا جارہا ہے ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-