28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چھہ افراد ہلاک

امریکی ڈرون- رائٹر فوٹو

میرامشاہ: شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ حملے میں کم از کم چھہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق، پیر کے روز شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں ڈرون سے ایک گھر پر آٹھ میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کم از کم چھہ افراد مارے گئے۔

ڈان نیز چینل کے مطابق، مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں تباہ شدہ گھر کے ملبے سے نکالیں، جس کےبعد ہلاکتوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

اس سے قبل چھ جولائی کو پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے ایک دن بعد ہی  ایک گھنٹے کے دوران دو ڈرون حملے کئے گئے، جس میں اکیس افراد مارے گئے تھے۔

پہلی جولائی کو بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں ڈروں حملے میں آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

لانگ مارچ پر حکومت سے 'ڈیل' کی تردید

عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے معاملے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔

چودہ اگست سے بروغل فیسٹیول کا آغاز

چترال سے 260 کلومیٹر کے فاصلے پر بروغل کی جنت نظیر وادی سطح سمندر سے 13 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔

لوئر دیر: سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک

سرچ آپریشن کے دوران ایک گھر پر چھاپے میں سیکیورٹی فورسز کے تین اہلکار جبکہ حملہ آوروں میں سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Amir Nawaz Khan
24 جولائ, 2012 10:49
شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہان دنیا بھر کے دہشت گرد موجود ہیں اور جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کی رٹ اس علاقہ میں موثر نہ ہے۔ ان لوگوں نے ملک کی خودمختاری اور سیکورٹی کو چیلینج کر رکھا ہے جس کی ان دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جاسکتی ہے۔ یہ ڈرون حملہ دہشت گردوں کے ایک اڈے پر کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں،یہ بات سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ خودکش بم حملوں کے باعث سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہوئی اور حکومت کی پرکشش مراعات کے باوجود سرمایہ کار پاکستان مین سرمایہ کاری کیلئے راغب نہ ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے. ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے ۸۰ فیصد تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہیں۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حمائیتی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں فاٹا کے لوگ بری طرح تنگ ہیں۔ ڈرونز کا نشانہ ہ وہ صرف غیر ملکی” القائدہ” اور ملکی دہشت گرد ہیں، جو ڈرونز کے ڈر کی وجہ سے ،اپنی پناہ گاہوں میں دبکے بیٹھے ہیں اور اگر آج ڈرونز ان دہشت گردوں کو نشانہ نہ بنائیں تو یہ دہشت گرد سارے پاکستان میں پھیل جائیں گے اور کل کو ہم و آپ ، ہمارے اور آپ کے بچے ان دہشت گردوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ ہوں گے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔