30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چھہ افراد ہلاک

امریکی ڈرون- رائٹر فوٹو

میرامشاہ: شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ حملے میں کم از کم چھہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق، پیر کے روز شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں ڈرون سے ایک گھر پر آٹھ میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کم از کم چھہ افراد مارے گئے۔

ڈان نیز چینل کے مطابق، مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں تباہ شدہ گھر کے ملبے سے نکالیں، جس کےبعد ہلاکتوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

اس سے قبل چھ جولائی کو پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے ایک دن بعد ہی  ایک گھنٹے کے دوران دو ڈرون حملے کئے گئے، جس میں اکیس افراد مارے گئے تھے۔

پہلی جولائی کو بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں ڈروں حملے میں آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

وادیِ تیراہ میں ریمورٹ کنٹرول بم دھماکا، پانچ افراد ہلاک

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا تیراہ میں شدت پسند گروپ لشکر اسلام کی بیس میں ہوا۔

ہنگو: متاثرین کے کیمپ میں دھماکا، سات افراد ہلاک

ہنگو میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آںے والوں کے متاثرین کے کیمپ میں دھماکے سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔

فاٹا میں فضائی کارروائی اور جھڑپ میں 21 شدت پسند ہلاک

حکام کے مطابق شوال اور خیبر میں فضائی کارروائی اور جھڑپ میں غیرملکیوں سمیت 21 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Amir Nawaz Khan
24 جولائ, 2012 10:49
شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہان دنیا بھر کے دہشت گرد موجود ہیں اور جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کی رٹ اس علاقہ میں موثر نہ ہے۔ ان لوگوں نے ملک کی خودمختاری اور سیکورٹی کو چیلینج کر رکھا ہے جس کی ان دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جاسکتی ہے۔ یہ ڈرون حملہ دہشت گردوں کے ایک اڈے پر کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں،یہ بات سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ خودکش بم حملوں کے باعث سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہوئی اور حکومت کی پرکشش مراعات کے باوجود سرمایہ کار پاکستان مین سرمایہ کاری کیلئے راغب نہ ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے. ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے ۸۰ فیصد تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہیں۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حمائیتی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں فاٹا کے لوگ بری طرح تنگ ہیں۔ ڈرونز کا نشانہ ہ وہ صرف غیر ملکی” القائدہ” اور ملکی دہشت گرد ہیں، جو ڈرونز کے ڈر کی وجہ سے ،اپنی پناہ گاہوں میں دبکے بیٹھے ہیں اور اگر آج ڈرونز ان دہشت گردوں کو نشانہ نہ بنائیں تو یہ دہشت گرد سارے پاکستان میں پھیل جائیں گے اور کل کو ہم و آپ ، ہمارے اور آپ کے بچے ان دہشت گردوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ ہوں گے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔