03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

شمالی وزیرستان: ڈرون حملے میں چھہ افراد ہلاک

امریکی ڈرون- رائٹر فوٹو

میرامشاہ: شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ حملے میں کم از کم چھہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق، پیر کے روز شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں ڈرون سے ایک گھر پر آٹھ میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کم از کم چھہ افراد مارے گئے۔

ڈان نیز چینل کے مطابق، مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاشیں تباہ شدہ گھر کے ملبے سے نکالیں، جس کےبعد ہلاکتوں کی تعداد دس ہوگئی ہے۔

اس سے قبل چھ جولائی کو پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے ایک دن بعد ہی  ایک گھنٹے کے دوران دو ڈرون حملے کئے گئے، جس میں اکیس افراد مارے گئے تھے۔

پہلی جولائی کو بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں ڈروں حملے میں آٹھ افراد مارے گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

آپریشن ضرب عضب: اب تک 910 مبینہ دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے 82 جوان اس آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Amir Nawaz Khan
24 جولائ, 2012 10:49
شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہان دنیا بھر کے دہشت گرد موجود ہیں اور جن کی وجہ سے حکومت پاکستان کی رٹ اس علاقہ میں موثر نہ ہے۔ ان لوگوں نے ملک کی خودمختاری اور سیکورٹی کو چیلینج کر رکھا ہے جس کی ان دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جاسکتی ہے۔ یہ ڈرون حملہ دہشت گردوں کے ایک اڈے پر کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں،یہ بات سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہی ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ خودکش بم حملوں کے باعث سرمایہ کی بیرون ملک منتقلی ہوئی اور حکومت کی پرکشش مراعات کے باوجود سرمایہ کار پاکستان مین سرمایہ کاری کیلئے راغب نہ ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خاتمہ کا تہیہ کر رکھا ہے. ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے ۸۰ فیصد تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہیں۔ وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر شدت پسند ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حمائیتی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں فاٹا کے لوگ بری طرح تنگ ہیں۔ ڈرونز کا نشانہ ہ وہ صرف غیر ملکی” القائدہ” اور ملکی دہشت گرد ہیں، جو ڈرونز کے ڈر کی وجہ سے ،اپنی پناہ گاہوں میں دبکے بیٹھے ہیں اور اگر آج ڈرونز ان دہشت گردوں کو نشانہ نہ بنائیں تو یہ دہشت گرد سارے پاکستان میں پھیل جائیں گے اور کل کو ہم و آپ ، ہمارے اور آپ کے بچے ان دہشت گردوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ ہوں گے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔