24 ستمبر, 2014 | 28 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی جی بلوچستان سے دوبارہ رپورٹ طلب

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بلوچستان امن ومان کی صورتحال پر کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا تھا۔

ایڈوکیٹ جنرل جنرل امان اللہ کنرائی کی رپورٹ کو عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔

سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے بھی محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی مشینری فیل ہوگئی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحد ہے، اس پر قابو نہیں پاسکتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں میں ایف سی بھیجی ہے لحاضہ ایف سی کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

جسٹس عارف حیسن خلجی نے کہا کہ لگتا ہے کہ انتظامیہ نے ہاتھ اٹھالیے ہیں اور امن و امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔

عدالت نے آئی جی بلوچستان سے دوبارہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔

 

اس حصے سے مزید

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے موقف کی توثیق کردی، شاہ محمود

الیکشن کمیشن کی رپورٹ نےسب کچھ عیاں کردیا اور یہ چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے، رہنما پی ٹی آئی۔

عمران خان استعفی کی تصدیق کیلئے 13اکتوبر کو طلب

اسپیکرقومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے ارکان کو 25ستمبر سےطلب کرنے کااعلان کیا ہےجبکہ 31ارکان کو 3گروپس میں بلایا جائے گا

ای او بی آئی کرپشن اسکینڈل کا مرکزی ملزم گرفتار

پولیس اور ایف آئی اے نے ملزم ظفر گوندل کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرکے تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کردیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

سوشلزم کیوں؟

اگر ہم مسلسل بحث کرسکتے ہیں کہ جمہوریت کیوں نہیں، شریعت کیوں نہیں، تو اس سوال پر بھی بحث ضروری ہے کہ سوشلزم کیوں نہیں؟

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

بلاگ

مووی ریویو: 'خوبصورت' - فواد اور سونم کی خوبصورت کہانی

اپنے پُر مزاح کرداروں کے باوجود فلم شوخ اور رومانٹک ڈرامہ ہے، جسے آپ باآسانی ڈزنی کی طلسماتی کہانی کہہ سکتے ہیں-

کراچی میں بجلی کا مسئلہ اور نیپرا کا منفی کردار

اپنی نااہلی کی وجہ سے نیپرا نے بیرونی سرمایہ کاروں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے، جن میں سے کچھ تو کام شروع کرنے کو تیار ہیں۔

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔