02 اگست, 2014 | 5 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی جی بلوچستان سے دوبارہ رپورٹ طلب

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بلوچستان امن ومان کی صورتحال پر کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا تھا۔

ایڈوکیٹ جنرل جنرل امان اللہ کنرائی کی رپورٹ کو عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔

سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے بھی محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی مشینری فیل ہوگئی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحد ہے، اس پر قابو نہیں پاسکتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں میں ایف سی بھیجی ہے لحاضہ ایف سی کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

جسٹس عارف حیسن خلجی نے کہا کہ لگتا ہے کہ انتظامیہ نے ہاتھ اٹھالیے ہیں اور امن و امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔

عدالت نے آئی جی بلوچستان سے دوبارہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔

 

اس حصے سے مزید

عمران خان سے مذاکرات کی ذمہ داری چوہدری نثار کے حوالے

دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات پیر چار اگست کو متوقع ہے، ملاقات میں لانگ مارچ کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

اسلام آباد آج سے فوج کے حوالے

پاک فوج اسلام آباد کی سیکیورٹی کے لیے تین مہینے تک سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔

'دو سو ارب ڈالر واپسی کیلئے سوئس حکومت سے مذاکرات'

مذاکرات کے کئی دور ہوں گے جن میں تین سے چار سال تک کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے، وفاقی وزیر خزانہ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔