29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئی جی بلوچستان سے دوبارہ رپورٹ طلب

سپریم کورٹ۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بلوچستان امن ومان کی صورتحال پر کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا تھا۔

ایڈوکیٹ جنرل جنرل امان اللہ کنرائی کی رپورٹ کو عدالت نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔

سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے بھی محفوظ نہیں ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ریاستی مشینری فیل ہوگئی۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحد ہے، اس پر قابو نہیں پاسکتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صوبے میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبوں میں ایف سی بھیجی ہے لحاضہ ایف سی کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔

جسٹس عارف حیسن خلجی نے کہا کہ لگتا ہے کہ انتظامیہ نے ہاتھ اٹھالیے ہیں اور امن و امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔

عدالت نے آئی جی بلوچستان سے دوبارہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک کے لیئے ملتوی کردی۔

 

اس حصے سے مزید

آئی ایس پی آرکابیان حکومتی منظوری سے جاری ہوا، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثارنےکہاہےکہ حکومت نےکسی کو ضامن اور ثالث نہیں بنایا,آئی ایس پی آرکابیان وزیراعظم کودیکھانے کےبعدجاری کیاگیا۔

نواز شریف نے آرمی چیف سے 'معاونت' مانگی، آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حکومت نےآرمی چیف سے موجودہ صورتحال کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

عمران خان کا کراچی،لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں مظاہروں کا اعلان

آئی ایس پی آر کے بیان کے بعد چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ایک اور جھوٹ بولنے پر قوم سے معافی مانگیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔