28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

برکتوں والے لوگ

290x230-tv-remote-control
تصویر بشکریہ - کریٹیو کامنز

دنیا کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں قدرت نے نظام ہی ایسا بنایا ہے کہ کام کرنا اور کروانا انتہائی مشکل، اور اکثر ناممکن ہوتا ہے۔ کام ذہنی، جسمانی یا کسی بھی قسم کا ہو اور سال کے کسی بھی مہینے یا ہفتے میں، اس کا  نہ ہونا ہمیشہ متوقع ہوتا ہے اور ہو جانا جدید زمانے کا معجزہ۔ ایسے خطوں میں پاکستان ایک بلند مقام رکھتا ہے۔

یوں تو سبھی مسلم ممالک کام سے ہر ممکن پرہیز برتنے کو صحت مند اور پروقار زندگی کا راز سمجھتے ہیں لیکن اصل کمال انہی لوگوں کو حاصل ہے جو مسلمان ہیں اور پاکستانی بھی۔ خلیجی ریاستوں کے رہنے والے کو اگر ’مدیر’ کی نوکری دی جائے، ساتھ میں ایک بڑا سا خالی میز، ایک اینگلو انڈین سیکرٹری جو یاد دلاتی رہے کیا کام ہونے والے ہیں اور ایک ملباری معاون جو ان کاموں کو کرتا رہے، تو اس کے پاس نوکری نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو گی۔

افغان کو کمپنی کی طرف سے راکٹ لانچر دیا جائے اور ہر مہینے دو  چار کافروں کو ہلاک کرنے پر بونس کا وعدہ تو وہ بھی خوشی خوشی نوکری کر لے گا۔ لیکن پاکستانی کسی بھی ملازمت کے لیے ہاں کرنے سے پہلے صرف ایک چیز دیکھتے ہیں: اس سے ان کی غریب کے طور پر پہچان تو متاثر نہیں ہو گی؟

پاکستان میں غریب ہونا تو بہت ہی برا ہے لیکن غریب کہلوانے کے بہت سے فائدے ہیں۔  پہلا یہ کہ غریب ہونے کا دعویٰ کرتے ہی ایک فرد ہر ذمہ داری سے آزاد ہو جاتا ہے۔ کوئی ایسا ٹریفک حادثہ یاد کریں جس میں کار کو ٹکر مارنے والا سائکل یا موٹر سائکل سوار تھا، اور اس بارے میں شک و شبہے کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ غلطی اسی کی تھی۔

تو پھر اس نے غلطی مان لی؟ ہر بار ایسا ہی ہوا ہو گا۔ اس نے گاڑی کا نقصان بھرا؟ کبھی نہیں، کیونکہ آخر میں اس نے اپنے دفاع میں یہی کہا: 'غلطی ہو گئی، معاف کر دیں میں غریب آدمی ہوں۔' غریب آدمی کو ہر غلطی کرنے کا اختیار ہے اور مخاطب کا فرض ہے کہ غلطی تسلیم کر لینے پر اسے معاف کر دے۔

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس غریب کو کبھی کام کی حاجت نہیں ہوتی۔  لوگ لاپرواہ، کام چور، بیکار، گپ باز، جھوٹے، مکار - - - کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن انہیں نوکری سے نکالا نہیں جا سکتا کیونکہ غریب کے پیٹ پر لات مارنا بہت ہی نیچ حرکت ہے۔ اگر آج تک نہیں کیا تو کبھی کر دیکھیں کہ سڑک پر بھیک مانگنے والے یا والی کو اپنے گھر یا دفتر میں مناسب تنخواہ پر کام کرنے کی پیشکش کریں۔

اس کی آنکھوں میں امڈتی ہوئی بے بسی پلکوں سے چھلکنے لگے گی اور اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر اپنی صفائی میں صرف اتنا آئے گا: 'لیکن میں تو غریب ہوں۔' اتنے میں ہی آپ کا دل پسیج جائے گا۔ آپ اسے دس روپے کا نوٹ دیں گے اور اپنے اس ارادے پر کہ آپ نے ایک غریب پاکستانی سے کام کروانا چاہا، بہت دنوں تک خود سے شرمندہ بھی رہیں گے۔

ہر قسم کے کام کو بوجھ سمجھنے کی ایک اور وجہ گرمی بھی ہو سکتی ہے۔ اب یہ ٹھنڈے دیسوں کے رہنے والے کیا جانیں اس گرمی کی شدت، یہ تو جاننے والے جانتے ہیں کہ سرگودھا سے سکھر تک، لوگ آٹھ مہینے کس تنور میں پکتے ہیں۔

وہ گرمی جو ہوش اڑا دیتی ہے، جسم کی ساری طاقت نچوڑ پھینکتی ہے، چلتے پھرتے بندے کو زندہ لاش بنا دیتی ہے۔ اسی مٹی کے ایک فرزند نے 'کام جوان کی موت ہے' کا نعرہ بلند کیا جس کی بدولت ہم آج زندہ ہیں۔

کام کرنے والے ہوتے تو جسم میں پانی کی کمی سے ہماری نسلیں ختم ہو چکی ہوتیں لیکن ہم نے اپنی آب و ہوا کے مطابق خود کو ڈھالا اور صبح دیر تک سونے، ناشتے میں لسی پینے اور پھر اس کی غنودگی میں دوبارہ سو جانے، اور سہ پہر کو قیلولہ کرنے کی عادات سے آگ برساتے سورج کو ایک فاصلے پر رکھا۔

ہماری غربت اور ہماری گرمی کے باوجود چند لوگ ہوتے ہیں جو کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سے جتنا ہو پاتا ہے ہم ایسوں کو بیرون ملک بھجوا دیتے ہیں تا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے ماحول میں محنت کرنا سیکھیں۔ جو باقی بچتے ہیں ان کی اصلاح کے لیے ہم ہر رمضان کے دوران خصوصی مہم چلاتے ہیں۔ اس مہم کا فلسفہ یہ ہے کہ کام سے نجات ایک فطری تقاضا ہے جسے پورا کرنے کے لیے کم از کم سال کے ایک مہینے میں کام پر لازمی بندش ہونی چاہیے اور اس کا اطلاق پوری آبادی پر بلا تفریق ہونا چاہیے۔

جب سے یہ مہم نجی ٹی وی پر آنے لگی ہے، اس میں زیادہ جان پڑ گئی ہے۔ جو لوگ روزہ رکھ کر معمول کی زندگی گذارنے کے عادی تھے، رمادان کریم اور برکتوں کا مہینہ جیسی تراکیب عام ہونے سے وہ بھی ایک مہینہ کام چوری کرنے لگے ہیں اور جو شروع سے ہڈ حرام تھے وہ پتھر پر لکیر ہو گئے ہیں۔

بناسپتی گھی سے روحانی بالیدگی کا حصول، موبائل فون سروس کے ذریعے ثواب کمانے کے طریقے، جنت بذریعہ حلال بینک اکاؤنٹ، کپڑے دھونے کے صابن سے طہارت کا تعلق، ان سب اہم موضوعات پر سوچنے اور ایسے نایاب سودے کرنے کے لیے ہی دفتری اوقات کار میں کمی کر دی جاتی ہے۔

ویسے کوئی کام پر آنا ہی نہ چاہے تو اس کی مرضی کیونکہ جو آتے ہیں وہ کون سا کوئی کام کر پاتے ہیں۔ بازار میں جس کا جب جی چاہا دکان بند کر کے گھر چلا گیا۔ جو دکان کھلی ہے اس کو چلانے والا نماز پڑھنے گیا ہے یا کاؤنٹر کے نیچے سو رہا ہے اور یا کاروبار کرنے کے موڈ میں نہیں۔ کسی پلمبر، الیکٹریشن سے کام پڑ گیا تو ایک گھنٹے کا کام وہ پانچ منٹ روزانہ کے حساب سے کریں گے، بھلے آپ پانی بجلی کے بغیر تڑپتے رہیں۔

محلے کا واحد شراب فروش دھندہ بند کر کے توبہ استغفار کر رہا ہے اور رو رو کر دعا کرتا ہے کہ پروردگار کچھ ایسا کرم کراس غریب بندے پر کہ پورے مہینے کا نقصان عید کی چھٹیوں میں ہی پورا ہو جائے۔

یہاں کوئی کام نہیں ہو رہا۔ اور یہاں سب خوش ہیں۔ برکتوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ اور جو ہم وطن روزہ رکھ کر دور ممالک میں معمول کے کام کرتے ہیں، ان کی حالت پر کڑھ رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

اخلاقیات: غیر مسلم پاکستانیوں کے لیے

اگر آج پاکستان میں غیر مسلم پاکستانیوں کا تناسب 5 فی صد بھی ہے تو 20 کروڑ کے ملک میں یہ ایک کروڑ پاکستانی بنتے ہیں۔