23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

حلب اور دمشق میں خونریز جھڑپیں جاری، این جی او

حلب میں تباہ ہونے والی ایک عمارت۔ رائٹرز فوٹو

بیروت: شام کے دو سب سے بڑے شہروں حلب اور دمشق میں ہفتہ کو بھی خونریز جھڑپیں جاری رہیں جبکہ انسانی حقوق کے گروپ کے مطابق ملک بھر میں تشدد سے کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہوئے۔

انسانی حقوق کیلئے شام کے مبصرین کے مطابق گزشتہ رات حلب میں باغی افواج ازا کے ضلع سے پسپا ہوگئی ہیں جہاں ریاستی ٹیلی ویژن کی عمارت واقع ہے۔

برطانیہ میں قائم اس مبصر ادارے نے بتایا کہ باغی افواج نے وہاں دھماکہ خیز مواد نصب کیا اور حکومتی فورسز نے علاقے پر گولہ باری کی اور اس کے بعد باغی اس علاقے سے نکل گئے۔

مبصر گروپ کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ باغیوں کی جانب سے عمارت پر داخل ہونے کی کوشش کے بعد لڑائی کا آغاز ہوا تھا۔

سرکاری خبرایجنسی سنا کے مطابق عسکریت پسند گروپ نے شہریوں اور حلب میں ریاستی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کیا،جہاں پر فوج نے اس کا دفاع کیا۔

مبصر کے مطابق صلاح الدین اور سیف دوالا کے اضلاع میں بھی ہفتہ کے روز جھڑپیں ہوئی ۔

انھوں نے مزید کہا کہ جھڑپوں کے دوران ہیلی کاپٹر اور لڑکا طیارے حلب کے اوپر دیکھے گئے۔

اس کے علاوہ دمشق کے جنوبی علاقے تدامن کے قریب پرتشدد جھڑپیں ہوئی۔

فوج نے ہفتہ کی صبح مضافاتی علاقوں پر گولہ باری بھی کی،جس کے متعلق مبصر نے بتایا کہ یہ اس ضلع میں اب تک شدید ترین تشدد تھا۔

دارالحکومت کے جوبر کے علاقے میں بھی تشدد پھوٹ پڑا اور گروپ نے مزید بتایا کہ ہفتہ کو دمشق صوبہ میں تشدد سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔

علاوہ ازیں مزید سات افراد بھی ہلاک ہوئے،جن میں سے چھ مشرقی دائر ازور اور ایک ساحلی صوبے لتاکیا میں ہلاک ہوا۔

اس حصے سے مزید

جنوبی کوریا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، پانچ ہلاک

ہیلی کاپٹر تین ماہ قبل ڈوبنے والی فیری کے گم شدہ افراد کی لاشیں تلاش کرنے کے مشن سے واپسی پر حادثے کا شکار ہوا۔

نائیجیریا: 12مغوی لڑکیوں کے والدین ہلاک

ایک رپورٹ کے مطابق ایک ماہ قبل اغوا ہونے والی لڑکیوں میں سے 12 کے والدین ہلاک ہو چکے ہیں۔

نو سالہ بچے کی 62 سالہ خاتون سے شادی

اس بچے نے گزشتہ سال بزرگ خاتون سے زندگی بھر کا تعلق جوڑا تھا مگر جنوبی افریقی روایات کے باعث دوسری بار تقریب سجانا پڑی


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔