22 جولائ, 2014 | 23 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

دین کا کاروبار

۔— تصویری خاکہ بشکریہ مصنف

ایک زمانہ تھا کہ جب  دین  نا ہی کاروبار بنا تھا اور نا ہی اس میں دکھاوا آیا تھا، سادگی کا دور دورہ تھا۔ شام ہوتی تو ماں کہتی کہ مولوی صاحب کو کھانا دے آؤ۔ مولوی صاحب بھی دو وقت کی روٹی کھا کر خدا کا شکر ادا کرتے اورمحلے کے بچے پڑھا کر اطمینان سے رہتے۔

نا ہی انسان کی ضرورتوں میں اضافہ ہوا تھا نا ہی مسجد کی راہ سیاست نے دیکھی تھی۔ تھوڑی بہت جو سیاست کر بھی رہے تھے وہ بھی اپنے رکھ رکھاؤ اورعزتِ نفس سے دستبردار نہیں ہوئے تھے۔ انہیں بھی معلوم تھا کہ وہ صرف اپنے خدا کو ہی جوابدہ ہیں، ابھی دوسرے جواب طلب کرنے والے میدان میں نہیں اترے تھے۔

اب جو دیکھتے ہیں تو مولوی صاحب لینڈ کروزر میں بیٹھے ہیں اور ان کی حفاظت کے لئے ہتھیاربند چاک و چوبند بیٹھے نظر آتے ہیں۔ مسجدوں پر پہرہ ہے اور اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو کلاشنکوف بردار بھی ساتھ میں حفاظت کے لئے کھڑا ہے۔

جب ستر کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں تیل کے کاروبار میں ابھار آیا تو ہمارے جیسے مسلم ممالک کی بھی قسمت کھلی۔  محنت مزدوری کرنے والے اور ہنر پیشہ لوگ بھی چل پڑے اپنی اپنی قسمت آزمانے۔

اسطرح یہاں بھی جو تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے ان کے بھی حالات بدلے اور آہستہ آہستہ لوگوں کے رہن سہن میں بھی بدلاؤ آنے لگا۔ مسجد اور مولوی کے بھی حالات بہتر ہوئے تو مدرسوں میں بھی اضافہ دکھائی دیا اور مذہبی پارٹیوں نے بھی  آہستہ آہستہ زور پکڑنا شروع کیا۔

ستتر میں  نظام ِمصطفےٰ کی تحریک چلی جس کا نعرہ تھا ستر والی قیمتیں واپس لائیں گے، قیمتیں تو کیا واپس آنی تھیں البتہ پاک افواج نے ایک بار پھر جنرل ضیا کی سربراہی میں ملک کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے لی۔ (ویسے وہ ہمیشہ باگ دوڑ اپنے ہی ہاتھ میں رکھنا پسند کرتے ہیں)۔

پھر  اقتدار میں آنے والوں نے دین کا سہارا لیا اوراذانیں جو مسجد سے ہوتی تھیں اب ٹی وی پر بھی سنائی دینے لگیں، اب مسجد کا مولوی بھی سترہویں گریڈ کا حقدارمانا گیا۔ نمازیں نا صرف مساجد میں ،اب  دفاترمیں بھی لازم ٹھہریں۔ اب جو نماز کا بہانہ ملا تو  دفاتر میں کام نہ کرنے  کی ابتدا بھی ہوئی۔

ادھر دو سال بعد سوویت یونین  کی افواج نے کابل پر جھنڈے گاڑے تو پھر پاک فوج اور مولوی حضرات کے وارے نیارے ہوگئے۔ امریکہ سرکار نے جہاد کے نام پر دنیا بھر سے غنڈے بھرتی کرکے ڈالروں اور ہتھیاروں سمیت پاکستان بھیجنے شرع کئے۔

دینی جماعتیں  جو آج امریکہ  کے نام سے بھی آگ بگولہ ہوجاتی ہیں، انہی کےپیسوں پر پھلنا پھولنا شروع کیا، جہاد کے نام پر آئے ڈالروں سےنا صرف انہوں نے اپنے گھر بھرے ،  مسجدیں تعمیر کیں ، مدرسے بنائے۔

بلکہ جنرلز بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئےاورڈیفنس سوسائٹیز کا کاروبار تو پھلا پھولا ہی لیکن دوسرے کاروباری شعبوں میں بھی اتنی سرمایہ کاری ہوئی کہ آج ملک کی معیشت میں ساٹھ ستر فیصد رقم  اپنے وردی والےبھائیوں کی ہی لگی ہوئی ہے۔

انہوں نے نا صرف دین میں پیسہ لگایا بلکہ سیاسی پارٹیاں بھی کھڑی کیں ، بڑے بڑے کاغذی شیر بھی بنائے ،  لوگوں کو برادریوں اور فرقوں میں بانٹا،  جتھے بنائے، لشکر بنائے  اور سب کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا کردیا۔

اقلیتوں کا تو کوئی والی وارث  ویسے بھی نہیں  تھا، لیکن اب تو مسلمان بھائی ایک دوسرے کو بھی مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اب دین جو کاربار بنا ہے تو اس میں پیسہ ہی پیسہ ہے۔

بینک بھی اسلامی ہے تو ٹی وی بھی اسلامی، کپڑا بیچنا ہے یا نیا فیشن لانچ کرنا ہے یا پھر تیل مصالحہ اور کھانے کی ترکیب ، اسلام کا تڑکا لگائیں، آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیگا۔ اب توٹی وی ڈرامہ بھی  دین کے ارد گرد  ہی پھرنے لگا ہے۔

پہلے ہم اگر مولوی  حضرات کودیکھتے تو انکے لباس اورداڑھی  کی تراش خراش سے ہی پتہ لگ جاتا کہ کس جماعت یا مسلک کے پیروکار ہیں لیکن اب تو اتنے قسم کی ٹوپیاں، داڑھی کے اسٹائل، لباس کی تراش خراش ، پگڑی کے رنگ،  پھر انکو باندھنے کے طریقے اور پھر لباس بھی الگ الگ رنگ کے، ان پر بیل بوٹے یاکڑھائی ،ان سب  کو وہ اسٹیٹمینٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

پھر اگر خواتین کے فیشن دیکھیں تو آپ فیشن ہی بھول جائینگے، جس کے پاس جتنا  پیسہ ہے وہ اسکے نقاب سے  ہی پتہ لگ جاتا ہے،  میک اپ، دستانے، جرابیں اور جوتے چیخ چیخ کر بتا رہے ہوتے ہیں  کہ ہم  بھی کسی سے کم نہیں۔

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے یہ سب آخر کہاں دیکھیں گے۔ویسے تو اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو سب دکھائی دیگا لیکن دور نا جانا چاہیں  تواپنا ٹی وی آن کرلیں ۔

بس صرف چینل بدلنے کی ضرورت ہے، دیکھتے جائیں، کتنے قسم کی داڑھیاں ہیں، کتنے قسم کی نقابیں ہیں، حالات حاضرہ کا چینل ہو یا فیشن کا، کھانے پکانے کا پروگرام ہو یا پھر ڈرامہ، بھائی لوگوں  نےکچھ بھی نہیں چھوڑا، مجھے تو چکر آگئے جب  چینل بدلتے بدلتے فلمیزیا پر پہنچا، انہوں نے بھی ایک مولوی بٹھایا ہوا تھا۔

سوچیں اتنی پاکستانی، پنجابی ،پشتو فلمیں  جو وہ دن رات دکھاتے ہیں  اورجن میں کپڑے پہنی ہوئی اداکارائیں بھی ننگی دکھائی دیتی ہیں،  وہ بھی  دین کا درس دے رہے ہیں۔

بس آجکل ایک بھونچال آیا ہو ہے۔ ہر طرح کے موسمی کیڑے نکل آئے ہیں، جن کا دین سے کچھ بھی لینا دینا نہیں وہ بھی دین کو بیچ رہے ہیں، سب کو اپنی ریٹنگ کی فکر ہے، کسی کی کوئی بھی شہرت ہو، کوئی بھی پس منظر ہو لیکن بن سنور کے  ہمیں  دین کی خوبیاں بتا رہا ہے۔

رمضان کو ختم ہونے دیں پھر یہی چہرے کچھ اور بیچ رہے ہونگے۔ آج کل جو بک رہا ہے وہ بھی وہی بیچ رہے ہیں، کل جو بکنے کی امید ہوگی پھر وہ بھی وہی بیچیں گے۔  سارا مسئلہ مارکیٹنگ کا ہے۔ آپ دل کیوں چھوٹا کرتے ہیں، تھوڑے ہی دن کی تو بات ہے۔


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں، ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (7)

فیصل
09 اگست, 2012 09:00
میں صرف اتنا کاہوں گا کہ مہربانی کرکے علماء کی فوٹو ہٹا دیں.
عبیداعوان
09 اگست, 2012 09:30
جناب ابڑو صاحب! مارکیٹنگ کی اس دنیا میں‌ ہرکوئی اپنی دکانداری اسی اندازمیں چلا رہاہے. ذرابائیں بازو والوں ہی کو دیکھ لیجئے. کل وہ سامراج کے خلاف بلند آہنگ باتیں کرتے تھے لیکن آج اسی سامراج کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ کل افغانستان میں وہ ملائوں کے جہاد کے اس لئے مخالف تھے کہ وہ ملااس سویت یونین کے خلاف لڑرہے تھے جہاں سے بائیں بازو والی کی دال روٹی آتی تھی. جب سویت یونین ختم ہوا تو بائیں بازو والوں نے دال روٹی کا نیامرکز تلاش کرناشروع کردیا۔ نائن الیون کے بعد یہی بائیں‌بازو والے ڈالر اکٹھے کرنے لگے. انھیں‌ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اپنے سارے نظریات بھول گئے اور امریکہ کے غیرمشروط نوکر بن گئے. ذرا اے این پی اور پی پی پی ہی دیکھ لیں‌نا
راحیل
09 اگست, 2012 09:31
ابڑو صاحب، خدا آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
kashif
09 اگست, 2012 12:20
herat ki baat tu ye hai ..keh .. app deeen talash karney bhi nikley tu TV per... kuch tu nafas martey .. ghar k naram sofoon per AC main bhait ker ye column likha ja sakta hai per deeen nahee sekha ja sakta ....baki media tu naam hi marketing ka hai ..phir kis baat ka rona... rona iss baaat per chayee k ye jo chand din hain usss main bhi app vo hi dhaikhna aur sunna chahtey hain jo baki saal ... hai affsoos :(
شمس
10 اگست, 2012 04:41
ابڑو صاحب وینا ملک کی وجھ سے پریشان ہو گے ہین۔
قیزل
10 اگست, 2012 13:30
بہت خوب- اس ملک میں مذہب کی تبلیغ تو ہر کوئی کر رہا ہے، مگر انسانیت کی کوئی نہیں....
Muhammad Shahid
10 اگست, 2012 20:49
it is our problem we claim to be muslims and we wish to do deeds like nonmuslims.it is dual policy which kills us..one may be either muslim or kafir there is no in between...am i right sir?
مقبول ترین
بلاگ

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا پے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔

تحریکِ انصاف سے معزرت کے ساتھ

عمران خان کو ملکی اداروں پر تو اعتماد نہیں، تو پھر کیا پی ٹی آئ افغانستان کی طرح "انٹرنیشنل آڈٹ" چاہتی ہے؟

قومی شناختی کارڈ اور گونگا مصلّی -- 3

پورے پنجاب کے دیہی علاقوں میں وارداتوں کے بعد شک کی بنا پر سب سے زیادہ پکڑی جانے والی قوم مصلّیوں کی ہے۔