03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان میں آزادی کا نعرہ مقبول نہیں، کائرہ

وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ۔اے پی پی فوٹو

کوئٹہ: وفاقی حکومت کی بلوچستان پر کمیٹی کے ارکان کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے آزادی کا نعرہ لگانے والے چند لوگ ہیں اور یہ مقبول نعرہ نہیں۔

کوئٹہ ائرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حوالے سے بیرون ملک موجود بلوچ قیادت سے بھی بات کریں گے۔

قمر زمان کائرہ نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ آزادی کا نعرہ لگانے والوں کے مسائل حل کریں گے اور جائزہ لیں گے کہ بلوچستان مسئلے کے حل کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے اور مسئلے کے حل کیلئے سفارشات تیار کرکے وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔

قمرزمان کائرہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہی صوبائی خودمختاری دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف زرداری نے احساس محرومی دور کرنے کیلئے بلوچوں سے معافی مانگی تھی۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔