25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں پرتشدد واقعات جاری، سات ہلاک

کراچی میں تعینات پولیس۔ فائل فوٹو

کراچی: کراچی میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید سات ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں لسبیلہ پل کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سایک شخص ہلاک ہوگیا۔ ہلاک ہونے والا نوجوان مجلس وحدت المسلمین کا کارکن تھا۔

واقعہ کے بعد علاقہ مکین سڑک پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔

اس دوران کاروبار اور دکانیں بھی بند ہوگئیں اور علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

فائرنگ کی زد میں آکر دیگر چار افراد زخمی ہوگئے جبکہ ۔زخمی ہونے والا ایک شخص نجی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

احتجاج کے باعث لسبیلہ پل سے گولی مار جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی گئی جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری طلب کرکے تعینات کردی گئی۔

تاہم علاقے میں صورتحال کشدگی برقرار ہے۔

دوسری جانب سولجر بازار کے دکانداروں نے تھانے کےباہر احتجاج کیا۔

مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس کی موجودگی میں دودھ فروش کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور وہاں موجود افراد نے تعاقب کے بعد ایک ملزم کو پکڑ لیا جسے پولیس چھڑا کر لے گئی۔

مظاہرین نے  مطالبہ کیا کہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔

دوسری جانب بھینس کالونی میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

سہراب گوٹھ جمالی گوٹھ میں سیکیورٹی گارڈ جبکہ نرسری پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور پیرآباد سیکٹر فور ای میں فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن ہلاک جبکہ اسکے دو بھائی زخمی ہوگئے۔

ادھر گلشن اقبال میں پولیس نے کارروائی کرکے دو مبینہ بھتہ خوروں کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

کامران خان نے بھی جیونیوز چھوڑ دیا

صحافی برادری سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ کامران خان عنقریب آنے والے میڈیا گروپ ’’بول‘‘ سے وابستہ ہو رہے ہیں۔

'این آر او کے تحت پندرہ سال تک مارشل لاء نافذ نہیں ہو سکتا'

شہلا رضا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، برطانیہ ، یواے ای اور جنرل پرویز اشفاق کیانی نےبھی اس کی گارنٹی دی تھی۔

کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد ہلاک

دوسری جانب گودھرا میں ایک پولیس مقابلے میں مشتبہ ملزمان کی فائرنگ سے اے ایس آئی ہلاک ہوگیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-