17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی میں پرتشدد واقعات جاری، سات ہلاک

کراچی میں تعینات پولیس۔ فائل فوٹو

کراچی: کراچی میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید سات ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں لسبیلہ پل کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سایک شخص ہلاک ہوگیا۔ ہلاک ہونے والا نوجوان مجلس وحدت المسلمین کا کارکن تھا۔

واقعہ کے بعد علاقہ مکین سڑک پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔

اس دوران کاروبار اور دکانیں بھی بند ہوگئیں اور علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

فائرنگ کی زد میں آکر دیگر چار افراد زخمی ہوگئے جبکہ ۔زخمی ہونے والا ایک شخص نجی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

احتجاج کے باعث لسبیلہ پل سے گولی مار جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی گئی جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی اضافی نفری طلب کرکے تعینات کردی گئی۔

تاہم علاقے میں صورتحال کشدگی برقرار ہے۔

دوسری جانب سولجر بازار کے دکانداروں نے تھانے کےباہر احتجاج کیا۔

مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس کی موجودگی میں دودھ فروش کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور وہاں موجود افراد نے تعاقب کے بعد ایک ملزم کو پکڑ لیا جسے پولیس چھڑا کر لے گئی۔

مظاہرین نے  مطالبہ کیا کہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔

دوسری جانب بھینس کالونی میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

سہراب گوٹھ جمالی گوٹھ میں سیکیورٹی گارڈ جبکہ نرسری پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور پیرآباد سیکٹر فور ای میں فائرنگ سے سیاسی جماعت کا کارکن ہلاک جبکہ اسکے دو بھائی زخمی ہوگئے۔

ادھر گلشن اقبال میں پولیس نے کارروائی کرکے دو مبینہ بھتہ خوروں کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

کراچی کی دوسری خاتون پولیس ایس ایچ او

پولیس حکام نے ادارے میں صنفی توازن قائم کرنے کے لیے ایک اور خاتون کو سٹیشن ہاؤس افسر تعینات کیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟