25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

حکومت کی جانب سے پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔۔ فائل فوٹو اے پی

کراچی: حکومت نے  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  چار روپے پچاسی پیسے  فی لٹر تک اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم  مصنوعات مہنگی کرنے سے متعلق  نوٹیفکیشن بھی  جاری کر دیا گیا۔

بدھ کے روز جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق  پٹرول تین روپے اکیس پیسے، ہائی اوکٹین چار روپے پچاسی پیسے ، ہائی سپیڈ ڈیزل چار روپے چالیس پیسے، لائٹ ڈیزل تین روپے انیس پیسے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں  تین روپے باون  پیسے  فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

پٹرولیم  مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔

حکومت نے عید الفطر کے موقع پر  پٹرولیم مصنوعات برقرار رکھنے کااعلان  کیا تھا تاہم  وزارت  خزانہ کی شدید مخالفت کے باعث   قیمتیں دوبارہ بڑھا دی  گئیں ہیں۔

سی این  جی کی قیمت میں بھی  دوروپے پچانوے پیسے  فی کلو تک اضافہ متوقع ہے۔

پٹرول کی نئی قیمت چھیانوے روپے  اٹھتر  پیسے، ہائی اوکٹین ایک سو پچیس روپے  ایک پیسہ، ہائی سپیڈ ڈیزل ایک سو چھ  روپے انیس پیسے، لائٹ ڈیزل ترانوے روپے تیس پیسے اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت چھیانوے روپے پینتیس پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

افتخار چوہدری ن لیگ کے 'اوپننگ بیٹسمین' قرار

حکمران جماعت کی طرف سے تمام مبینہ حکمت عملی کے باوجود چودہ اگست کو اسلام آباد میں مارچ کریں گے، شیریں مزاری

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

جھل مگسی میں' غیرت' کے نام پر لڑکی قتل

ضلع جھل مگسی کے آخند دانی گاؤں میں ایک باپ نے مبینہ طور پر'غیرت' کے نام پر اپنی بیٹی کو قتل کر دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-