25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

دس وزیرِ اعظم قربان، خط نہیں لکھیں گے، نثارکھوڑو

اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو۔ تصویر سہیل یوسف / ڈان ڈاٹ کام

کراچی: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی دس وزیراعظم قربان کرنے کیلئے تیار ہے لیکن صدارتی استثناء کے خلاف خط نہیں لکھے گی۔

میڈیا سیل بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف کئے جانے والے فیصلوں سے سازش کی بو آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کی حمایت کی اور بعد میں معافی مانگی۔

عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ایوب خان کے مرنے کے بعد عدلیہ نے معافی مانگی اب عدالتوں کو ہر ماہ معافی مانگنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی چیف جسٹس کی جانب سے بیان آیا ہے کہ پاکستانی ججز براہ راست سیاست نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ صدر کو استثناء حاصل ہے لہذا اب عدالتوں کو یہ فیصلہ دینا چاہیے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر کے عہدے پر ہیں ان کے خلاف مقدمہ قائم نہیں ہوگا۔

اس حصے سے مزید

کراچی: پی ایس 114 میں دوبارہ انتخابات کا حکم

ایم کیو ایم کے رؤف صدیقی نے پی ایس 114 سے مسلم لیگ (ن) کے عرفان اللہ مروت کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔

اسلام آباد فوج کے حوالے کرنا چوہدی نثار کی ناکامی قرار

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہےکہ جن لوگوں سے ایک شہر نہیں سنبھل سکتا وہ ملک کیا سنبھالیں گے۔

ماڈل ٹاؤن ٹربیونل: وزیر اعلٰی کے بیان کے لیے ایک دن کی توسیع

وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو آج ایک جج پر مشتمل ٹربیونل کے سامنے اپنا بیان پیش کرنا تھا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

سعید
27 اگست, 2012 00:06
فی الحال تو چور اُچکے قوم کو اپنے اوپر قربان کر رہے ہیں۔.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔