18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

دس وزیرِ اعظم قربان، خط نہیں لکھیں گے، نثارکھوڑو

اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو۔ تصویر سہیل یوسف / ڈان ڈاٹ کام

کراچی: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی دس وزیراعظم قربان کرنے کیلئے تیار ہے لیکن صدارتی استثناء کے خلاف خط نہیں لکھے گی۔

میڈیا سیل بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف کئے جانے والے فیصلوں سے سازش کی بو آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کی حمایت کی اور بعد میں معافی مانگی۔

عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ایوب خان کے مرنے کے بعد عدلیہ نے معافی مانگی اب عدالتوں کو ہر ماہ معافی مانگنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی چیف جسٹس کی جانب سے بیان آیا ہے کہ پاکستانی ججز براہ راست سیاست نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ صدر کو استثناء حاصل ہے لہذا اب عدالتوں کو یہ فیصلہ دینا چاہیے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر کے عہدے پر ہیں ان کے خلاف مقدمہ قائم نہیں ہوگا۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

خیبر ایجنسی: شدت پسندوں کا ایف سی قلعے پر حملہ

دونوں جانب سے ہلکےاور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی, تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی طلاع نہیں ملی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

سعید
27 اگست, 2012 00:06
فی الحال تو چور اُچکے قوم کو اپنے اوپر قربان کر رہے ہیں۔.
مقبول ترین
بلاگ

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے