29 جولائ, 2014 | 1 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

دس وزیرِ اعظم قربان، خط نہیں لکھیں گے، نثارکھوڑو

اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو۔ تصویر سہیل یوسف / ڈان ڈاٹ کام

کراچی: پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی دس وزیراعظم قربان کرنے کیلئے تیار ہے لیکن صدارتی استثناء کے خلاف خط نہیں لکھے گی۔

میڈیا سیل بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نثار کھوڑو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف کئے جانے والے فیصلوں سے سازش کی بو آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کے تحت مارشل لاء کی حمایت کی اور بعد میں معافی مانگی۔

عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ایوب خان کے مرنے کے بعد عدلیہ نے معافی مانگی اب عدالتوں کو ہر ماہ معافی مانگنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی چیف جسٹس کی جانب سے بیان آیا ہے کہ پاکستانی ججز براہ راست سیاست نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ صدر کو استثناء حاصل ہے لہذا اب عدالتوں کو یہ فیصلہ دینا چاہیے کہ جب تک آصف علی زرداری صدر کے عہدے پر ہیں ان کے خلاف مقدمہ قائم نہیں ہوگا۔

اس حصے سے مزید

لانگ مارچ پر حکومت سے 'ڈیل' کی تردید

عمران خان کا کہنا ہے کہ آئی ڈی پیز کے معاملے میں وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی۔

کوئٹہ ایکسپریس بم حملے میں بچ گئی

کوئٹہ میں مسافر ٹرین کے پہنچنے سے پہلے ہی بم پھٹ گیا، دھماکے سے ٹریک کو نقصان جبکہ دو افراد زخمی۔

منی لانڈرنگ کیس: الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع

لندن پولیس نے منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم سربراہ کی ضمانت میں دسمبر، 2014 تک توسیع کر دی۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

سعید
27 اگست, 2012 00:06
فی الحال تو چور اُچکے قوم کو اپنے اوپر قربان کر رہے ہیں۔.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔