02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان حکومت سے لاپتہ افراد کے متعلق جواب طلب

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کو لاپتہ افراد سے متعلق کل حتمی جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی سیکریٹری دفاع و داخلہ کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کل عدالت میں پیش ہوکر اپنا بیان جمع کرانے کا حکم بھی جاری کیا۔

جسٹس افتخار کے مطابق وفاق، صوبائی حکومت اور ایف  سی نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن تین ماہ گذرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اس موقع پر ایف سی کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے زبردستی یقین دہانی کروائی تھی۔

جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ وہ عدالت میں سوچ سمجھ کر بات کیا کریں،کیونکہ ان کی بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

سماعت کے دوران آئی جی ایف سی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پانچ سال میں دو ہزارافراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور تقریباً اتنے ہی لوگ زخمی ہوئے۔

چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے بائیس ادارے اور ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ لوگ ناکام  ہوچکے ہیں، اگر آپ سے کچھ نہیں ہوسکتا تو لکھ کر دیں،گورنر اور وزیراعلٰی کو بلا کر بتائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مخصوص مکتبہ فکر کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کا اقوام متحدہ نے بھی نوٹس لیا ہے۔

دوران سماعت آئی جی ایف سی نے اعتراف کیا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کی کارکردگی متاثرکن نہیں ہے۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا' (الجھتے رشتوں کی کہانی)

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔