25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلوچستان حکومت سے لاپتہ افراد کے متعلق جواب طلب

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کو لاپتہ افراد سے متعلق کل حتمی جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے وفاقی سیکریٹری دفاع و داخلہ کی غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کل عدالت میں پیش ہوکر اپنا بیان جمع کرانے کا حکم بھی جاری کیا۔

جسٹس افتخار کے مطابق وفاق، صوبائی حکومت اور ایف  سی نے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن تین ماہ گذرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اس موقع پر ایف سی کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ سپریم کورٹ نے زبردستی یقین دہانی کروائی تھی۔

جس پر چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ وہ عدالت میں سوچ سمجھ کر بات کیا کریں،کیونکہ ان کی بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے۔

سماعت کے دوران آئی جی ایف سی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پانچ سال میں دو ہزارافراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور تقریباً اتنے ہی لوگ زخمی ہوئے۔

چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے بائیس ادارے اور ایجنسیاں کام کر رہی ہیں، لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ لوگ ناکام  ہوچکے ہیں، اگر آپ سے کچھ نہیں ہوسکتا تو لکھ کر دیں،گورنر اور وزیراعلٰی کو بلا کر بتائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مخصوص مکتبہ فکر کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کا اقوام متحدہ نے بھی نوٹس لیا ہے۔

دوران سماعت آئی جی ایف سی نے اعتراف کیا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ان کی کارکردگی متاثرکن نہیں ہے۔

اس حصے سے مزید

جھل مگسی میں' غیرت' کے نام پر لڑکی قتل

ضلع جھل مگسی کے آخند دانی گاؤں میں ایک باپ نے مبینہ طور پر'غیرت' کے نام پر اپنی بیٹی کو قتل کر دیا۔

بلوچستان: ڈھائی سال میں پہلا پولیو کیس

یونیسیف کے مطابق پولیو وائرس کا شکار 18 ماہ کی بچی کا خاندان رواں سال کراچی سے قلعہ عبداللہ منتقل ہوا تھا۔

تیزاب پھینکنے کے واقعات پر بی این پی کا احتجاج

بلوچ قوم پرستوں کا کہنا تھا کہ مذہبی انتہاء پسند آزادانہ کارروائی کررہے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-