22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور کے قریب مزید دو اسکول تباہ

پشاور اور قبائلی علاقوں میں اسکولوں کو شرپسندوں کی جانب سے تباہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ فائل تصویر

پشاور: خیبرپختونخواہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

آج مزید دو اسکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں نامعلو م شرپسندوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول ماشو پیکے کو بارودی مواد سے اُڑا دیا۔

دھماکے سے سکول کے دو کمر ے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں پندرہ سے بیس کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیاہے ۔

بم دسپوزل سکواڈ نے سکول میں موجود ایک آئی ڈی کو بھی ناکارہ بنادیا جو دھماکہ کرنے کیلئے بطور ڈیٹونیٹر استعمال ہوتا ہے۔۔

دوسرا واقعہ خیبر ایجنسی کے علاقے اکاخیل میں پیش آیا جہاں شدت پسندوںنے گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔

سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرسرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

ہری پور میں ٹریفک حادثہ، نو افراد ہلاک

ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، تاہم مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس سال 149 متاثرہ بچے پولیو ویکسین سے محروم رہے

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق جب تک ایک وائرس بھی دنیا میں کہیں باقی ہے، وہ بچوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

ہنگو: نامعلوم افراد کی فائرنگ، تین پولیس اہلکار ہلاک

لاشوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ - پاکستان کی آواز
12 ستمبر, 2012 11:04
[...] گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔ پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-