03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور کے قریب مزید دو اسکول تباہ

پشاور اور قبائلی علاقوں میں اسکولوں کو شرپسندوں کی جانب سے تباہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ فائل تصویر

پشاور: خیبرپختونخواہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

آج مزید دو اسکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں نامعلو م شرپسندوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول ماشو پیکے کو بارودی مواد سے اُڑا دیا۔

دھماکے سے سکول کے دو کمر ے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں پندرہ سے بیس کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیاہے ۔

بم دسپوزل سکواڈ نے سکول میں موجود ایک آئی ڈی کو بھی ناکارہ بنادیا جو دھماکہ کرنے کیلئے بطور ڈیٹونیٹر استعمال ہوتا ہے۔۔

دوسرا واقعہ خیبر ایجنسی کے علاقے اکاخیل میں پیش آیا جہاں شدت پسندوںنے گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔

سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرسرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

پروفیسر اجمل کے بدلے تین طالبان قیدی رہا کرائے، مُلا فضل اللہ

اسلام آباد میں 30 ہزار لوگوں نے حکومت کو یرغمال بنا لیا ہے جس سے طالبان کا کام آسان ہو گیا،سربراہ تحریک طالبان پاکستان

بے گھر افراد کے لیے 1.5 ارب روپے کے فنڈز کی درخواست

فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنڈز کے اجراء میں تاخیر سے نقد امداد کی تقسیم کا پروگرام معطل ہوسکتا ہے۔

۔’’ضرب عضب‘‘: 32 دہشت گرد ہلاک، 3ٹھکانے تباہ

آئی ایس پی آر کے مطابق بارودی مواد سے بھری ہوئی 23 گاڑیاں اور اسلحے کے 4 ذخائر بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ - پاکستان کی آواز
12 ستمبر, 2012 11:04
[...] گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔ پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔