22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور کے قریب مزید دو اسکول تباہ

پشاور اور قبائلی علاقوں میں اسکولوں کو شرپسندوں کی جانب سے تباہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ فائل تصویر

پشاور: خیبرپختونخواہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

آج مزید دو اسکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں نامعلو م شرپسندوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول ماشو پیکے کو بارودی مواد سے اُڑا دیا۔

دھماکے سے سکول کے دو کمر ے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں پندرہ سے بیس کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیاہے ۔

بم دسپوزل سکواڈ نے سکول میں موجود ایک آئی ڈی کو بھی ناکارہ بنادیا جو دھماکہ کرنے کیلئے بطور ڈیٹونیٹر استعمال ہوتا ہے۔۔

دوسرا واقعہ خیبر ایجنسی کے علاقے اکاخیل میں پیش آیا جہاں شدت پسندوںنے گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔

سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرسرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

پشاور: تیز بارش میں حادثات، 8 افراد ہلاک، 42زخمی

پشاور اور گرد ونواح میں تیزہواؤں کے ساتھ آندھی اورگردآلود طوفان شروع ہوا جس کے بعد گرج چمک کے ساتھ شدید بارش شروع ہوگئی۔

خیبرایجنسی: نیٹو ٹینکر پر فائرنگ، دو افراد ہلاک

فائرنگ کے بعد آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی، جبکہ امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں ہیں۔

پشاور بڑی تباہی سے بچ گیا

دس کلو گرام وزنی بم کو چمکنی پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک پریشر ککر میں رکھا گیا تھا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ - پاکستان کی آواز
12 ستمبر, 2012 11:04
[...] گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔ پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔