25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور کے قریب مزید دو اسکول تباہ

پشاور اور قبائلی علاقوں میں اسکولوں کو شرپسندوں کی جانب سے تباہ کرنے کا عمل جاری ہے۔ فائل تصویر

پشاور: خیبرپختونخواہ اور دیگر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی جانب سے تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

آج مزید دو اسکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے۔

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر میں نامعلو م شرپسندوں نے گورنمنٹ پرائمری سکول ماشو پیکے کو بارودی مواد سے اُڑا دیا۔

دھماکے سے سکول کے دو کمر ے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں پندرہ سے بیس کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیاہے ۔

بم دسپوزل سکواڈ نے سکول میں موجود ایک آئی ڈی کو بھی ناکارہ بنادیا جو دھماکہ کرنے کیلئے بطور ڈیٹونیٹر استعمال ہوتا ہے۔۔

دوسرا واقعہ خیبر ایجنسی کے علاقے اکاخیل میں پیش آیا جہاں شدت پسندوںنے گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔

سیکورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کرسرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

اس حصے سے مزید

پشاور: سڑک کنارے نصب دھماکا، دو افراد ہلاک

دوسری جانب جنداللہ بازار کے علاقے میں ایک ایف سی اہلکار کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

اورکزئی: مکان میں دھماکا، کمانڈر سمیت 5 جنگجو ہلاک

آوٹ میلہ کے ایک گھر میں دھماکے سے وہاں موجود پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے، سرکاری ذرائع۔

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ - پاکستان کی آواز
12 ستمبر, 2012 11:04
[...] گورنمنٹ پرائمر ی سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔ پشاور کی نواح میں مزید دو اسکول تباہ | Dawn Urdu ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [...]
سروے
مقبول ترین
قلم کار

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بلاگ

گھریلو تشدد: پاکستانی 'کلچر' - حقیقت کیا ہے؟

پاکستانی سماج میں عورت مرد کی جائداد اور اس سے کمتر ہے چناچہ اس کے ساتھ کسی قسم کا سلوک روا رکھنا مرد کا پیدائشی حق ہے-

ریاستی تنہائی اور اجتماعی مہاجرت

جب تک سوچنے اور سوچ کے اظہار کے لیے ممکنہ حد تک ازادی موجود نہ ہو تب تک سماج میں تکثیریت پروان نہیں چڑھ سکتی

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔