03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لہری انتقال کرگئے

اداکار لہری- یو ٹیوب فوٹو

کراچی: پاکستانی فلموں کے معروف اداکار سفیر اللہ صدیقی عرف لہری طویل علالت کے بعد آج کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

لہری گزشتہ کافی عرصے سے  پھیپڑوں اور گردوں میں عارضے میں مبتلا تھے۔

گزشتہ کچھ عرصے کےدوران انہیں کئی بار طبیعت خراب ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

انتقال کےوقت بھی وہ ہسپتال میں زیرعلاج تھے، جہاں ان کی حالت خطرے میں تھی اور کئی دنوں سے انہیں وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس فراہم کیا جا رہا تھا۔

تاہم آج حالت بگڑنے پر ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹرہٹانے کافیصلہ کیا۔

ان کی نماز جنازہ آج گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین بعد نماز عصر یاسین آباد قبرستان میں کی جائے گی۔

لہری کے انتقال پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے گہرے دکھ کااظہار کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

بولی وڈ باکس آفس

فلم ‘راجہ نٹور لال’ کو ملا جلا رسپانس مل رہا ہے، جو اب تک 17 کروڑ کا بزنس کر چکی ہے۔

پاکستانی ڈرامے بولی وڈ فلموں سے بہتر ہیں: پریش راول

اداکار کا کہنا ہے کہ ہندی فلموں کا موازنہ ہالی وڈ تو کیا پاکستانی ڈراموں سے بھی نہیں کیا جاسکتا۔

کوک سٹوڈیو سیزن سیون آٹھ دن کی دوری پر

پچھلے پروگراموں کی کامیابی کے پیش نظر اس سیزن سے وابستہ توقعات بڑھ گئی ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔