23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

لہری انتقال کرگئے

اداکار لہری- یو ٹیوب فوٹو

کراچی: پاکستانی فلموں کے معروف اداکار سفیر اللہ صدیقی عرف لہری طویل علالت کے بعد آج کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

لہری گزشتہ کافی عرصے سے  پھیپڑوں اور گردوں میں عارضے میں مبتلا تھے۔

گزشتہ کچھ عرصے کےدوران انہیں کئی بار طبیعت خراب ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

انتقال کےوقت بھی وہ ہسپتال میں زیرعلاج تھے، جہاں ان کی حالت خطرے میں تھی اور کئی دنوں سے انہیں وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس فراہم کیا جا رہا تھا۔

تاہم آج حالت بگڑنے پر ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹرہٹانے کافیصلہ کیا۔

ان کی نماز جنازہ آج گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین بعد نماز عصر یاسین آباد قبرستان میں کی جائے گی۔

لہری کے انتقال پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے گہرے دکھ کااظہار کیا ہے۔

اس حصے سے مزید

دپیکا پڈوکون اور ٹائمز آف انڈیا کے درمیان لفظوں کی جنگ

بولی وڈ اسٹار اور ٹائمز آف انڈیا کے درمیان ایک تصویر کے معاملے پر جنگ شدت اختیار کرگئی

ششی کپور ہسپتال میں داخل

آئی سی یو میں داخل 76 سالہ اداکار سینے کی انفیکشن میں مبتلا ہیں، رپورٹ۔

فواد خان کی ماہرہ خان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش

میرے پاس اس حوالے سے ایک خیال موجود ہے جو ماہرہ کو پسند بھی آیا، توقع ہے کہ اس آئیڈیے کو جلد کوئی شکل دے دی جائے گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-