03 ستمبر, 2014 | 7 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی سانحہ: ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ

کراچی: آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کا اندرونی منظر۔— اے ایف پی

کراچی: کراچی پولیس نے ایک گارمنٹ فیکٹری میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 250 ہلاکتوں کے بعد جمعرات کو فیکٹری مالکان اور حکومتی عہدے داروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

منگل کی شام سائیٹ کے علاقے میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری میں آگ لگنے سے ملازمین کی بڑی تعداد جلھسنے اور دم گھٹنے کے باعث ہلاک ہو گئی تھی۔

ایک سرکاری عہدے دار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فیکٹری مالکان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مقامی پولیس اسٹیشن کے محمد نواز گوندل نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے فیکٹری مالکان اور حکومتی عہدے داروں کے خلاف ملازمین کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی غفلت برتنے پر قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔

گوندل نے مزید بتایا کہ مقدمہ میں عبدالعزیز، محمد ارشد، شاہد بھائیلا اور فیکٹری انتظامیہ کے دیگر ارکان کو ملزمان نامزد کیا گیا ہے۔

کراچی پولیس کے ایک سینئر افسر نعیم اکرم نے مقدمہ کے اندارج کی تصدیق کی ہے۔

پولیس منگل کو پیش آنے والے واقعے کے بعد سے روپوش فیکٹری مالکان کی تلاش میں ہے۔

دوسری جانب، سندھ حکومت نے سابق جج پر مشتمل ایک کمیشن بھی بنادیا ہے۔

ڈان نیوز نے کمشنرکراچی کے حوالے سے بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔

کراچی میں آگ بجھانے والے عملے کے سربراہ نے عمارت کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کی تلاشی کا کام مکمل ہو گیا ہے۔

اس حصے سے مزید

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

قحط کا شکار تھر، لوگ غربت کے باعث خودکشی کر رہے ہیں

محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں اکتیس افراد غربت کے باعث موت کو گلے لگا چکے ہیں۔

وزیراعظم، وزیرداخلہ کی نااہلی کے لیے درخواست دائر

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کو آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار دیا جائے


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔