24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشا کیس کی سماعت جاری

عدالت نے رمشا مسیح کیس کی تحقیقات ایس پی سطح کے کسی افسر سے کرانے کا حکم دے دیا۔ اے پی فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد کی ایک عدالت نے رمشا کیس کی تحقیقات ایس پی سطح کے کسی افسر سے کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

 پیر کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں قرآن کی مبینہ توہین کی مرتکب عیسائی لڑکی رمشا کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوئی۔

 تفتیشی افسر نے جج عامر عزیز کو بتایا کیس کی تفتیش مکمل ہوچکی ہےتاہم چالان کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

 دوران سماعت، مدعی کے وکیل راؤ عبدالرحیم نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے لیے عدالت سے دو مرتبہ وقت مانگ چکی ہے، عدالت نے آخری تاریخ میں نامکمل چالان جمع کرانے  کا حکم دیا تھا۔

 درخواست گزار کے وکیل حاجی فضل نیازی نے عدالت سے کہا کہ وہ پولیس کو پابند کرے کہ درخواست گزار کو بار بار تنگ نہ کیا جائے۔

 انہوں نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ رمشا کی ضمانت خارج کی جائے۔

 نیازی نے کہا کہ یہ توہین رسالت قانون کو تبدیل کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی اوراق کا معاملہ لڑکی سے ملایا جارہا ہے۔

اس حصے سے مزید

سرحدی دراندازی کے ہندوستانی الزامات مسترد

سیکریٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تمام معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا، اعزاز چوہدری

افتخار چوہدری کا عمران خان کو ہتک عزت کا نوٹس

سابق چیف جسٹس نے نوٹس میں عمران خان کی جانب سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں 20 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پی آئی اے میں صرف انیس طیارے پرواز کے قابل

اس بات کا انکشاف پی آئی اے کے چیئرمین محمد علی گردیزی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو ایک بریفننگ میں کیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-