25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

نااہل اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل

۔— اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایسے تمام ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے جو دہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس اقدام کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ان تمام گیارہ اراکین کی قومی و صوبائی اسمبلی سے رکنیت معطل کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین  رکنی بنچ نے جمعرات کو مقدمہ کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  ایسے تمام ارکان اسمبلی کسی بھی عوامی عہدے کےاہل نہیں ہیں۔

عدالتی فیصلہ کے بعد گیارہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نااہل ہو گئے ہیں۔ ان میں فرح ناز اصفہانی (پی پی پی) ، نادیہ گبول ( ایم کیو ایم) ، ڈاکٹراشرف چوہان (ن لیگ)، وسیم قادر( ن لیگ)، فرحت محمد خان (ایم کیو ایم)،  احمد علی شاہ ( پی پی پی)، آمنہ بٹر (پی پی پی)، محمد اخلاق خان (ن لیگ)، ندیم خادم (ن لیگ)، زاہد اقبال (پی پی پی) اور ملک جمیل اعوان ( ن لیگ) شامل ہیں۔

نااہل قرار دیے جانے والے اراکین میں سے چار کا تعلق قومی اسمبلی، پانچ کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا سندھ  اسمبلی سے ہے۔

سپریم کورٹ نے ان اراکین کو تریسٹھ ون سی کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان کے خلاف حلف میں غلط بیانی پر تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہوگی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں آنے والے اراکین پارلیمنٹیرین نہیں رہ سکتے۔

عدالت نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپکیرز اور چیئرمین سینٹ کو فیصلے کی نقول بھجوانے کی ہدایت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ان پالیمنٹیرین کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے رحمان ملک اور نااہل قرار دیے گئے تمام ارکان کو مراعات اور تنخواہیں سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری سینیٹ و قومی اسمبلی کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف سینیٹ انتخابات کے وقت غلط حلف نامہ جمع کروانے پر بھی کارروائی کا حکم دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق رحمان ملک نے غلط بیانی کی لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے، ان کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرتے ہوئے چئیرمین سینیٹ کو ریفرنس بھجوایا جائے۔

عدالت کے مطابق رحمان ملک نے سینیٹ کے 2008 انتخابات میں الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط حلف نامہ جمع کرایا تھا۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

SMIQBAL
20 ستمبر, 2012 09:24
well done these 'criminals' must be treated heavy handedly.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟