21 اگست, 2014 | 24 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

نااہل اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل

۔— اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایسے تمام ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے جو دہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس اقدام کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ان تمام گیارہ اراکین کی قومی و صوبائی اسمبلی سے رکنیت معطل کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین  رکنی بنچ نے جمعرات کو مقدمہ کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  ایسے تمام ارکان اسمبلی کسی بھی عوامی عہدے کےاہل نہیں ہیں۔

عدالتی فیصلہ کے بعد گیارہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نااہل ہو گئے ہیں۔ ان میں فرح ناز اصفہانی (پی پی پی) ، نادیہ گبول ( ایم کیو ایم) ، ڈاکٹراشرف چوہان (ن لیگ)، وسیم قادر( ن لیگ)، فرحت محمد خان (ایم کیو ایم)،  احمد علی شاہ ( پی پی پی)، آمنہ بٹر (پی پی پی)، محمد اخلاق خان (ن لیگ)، ندیم خادم (ن لیگ)، زاہد اقبال (پی پی پی) اور ملک جمیل اعوان ( ن لیگ) شامل ہیں۔

نااہل قرار دیے جانے والے اراکین میں سے چار کا تعلق قومی اسمبلی، پانچ کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا سندھ  اسمبلی سے ہے۔

سپریم کورٹ نے ان اراکین کو تریسٹھ ون سی کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان کے خلاف حلف میں غلط بیانی پر تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہوگی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں آنے والے اراکین پارلیمنٹیرین نہیں رہ سکتے۔

عدالت نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپکیرز اور چیئرمین سینٹ کو فیصلے کی نقول بھجوانے کی ہدایت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ان پالیمنٹیرین کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے رحمان ملک اور نااہل قرار دیے گئے تمام ارکان کو مراعات اور تنخواہیں سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری سینیٹ و قومی اسمبلی کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف سینیٹ انتخابات کے وقت غلط حلف نامہ جمع کروانے پر بھی کارروائی کا حکم دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق رحمان ملک نے غلط بیانی کی لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے، ان کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرتے ہوئے چئیرمین سینیٹ کو ریفرنس بھجوایا جائے۔

عدالت کے مطابق رحمان ملک نے سینیٹ کے 2008 انتخابات میں الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط حلف نامہ جمع کرایا تھا۔

اس حصے سے مزید

ایک کے سوا تمام جماعتیں ہماری حامی ہیں، نواز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود بارہ میں سے گیارہ جماعتیں ان کی پارٹی اور جمہوری عمل کی حامی ہیں۔

مظاہرین کے خلاف ایکشن ارادہ نہیں، پرویز رشید

مارچ مظاہرین کے خلاف حکومت نے کسی قسم کی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا اور اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔

مارچ کے شرکاء سے ریڈ زون کے ملازمین دہشت زدہ

ریڈ زون میں کام کرنے والے تمام ملازمین پی اے ٹی کی جانب سے پارلیمنٹ ہاﺅس کے ارگرد قبضہ کے فیصلے پر دہشت زدہ ہوگئے تھے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

SMIQBAL
20 ستمبر, 2012 09:24
well done these 'criminals' must be treated heavy handedly.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

آئینی نظام کو لاحق خطرات

پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی طرح موجودہ آئینی صورت حال میں ممکن سیاسی حل کیلئے تیار نہیں ہے-

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔