23 جولائ, 2014 | 24 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

نااہل اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل

۔— اے پی پی فوٹو

اسلام آباد: پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایسے تمام ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے جو دہری شہریت رکھتے ہیں۔

اس اقدام کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ان تمام گیارہ اراکین کی قومی و صوبائی اسمبلی سے رکنیت معطل کردی ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین  رکنی بنچ نے جمعرات کو مقدمہ کا محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  ایسے تمام ارکان اسمبلی کسی بھی عوامی عہدے کےاہل نہیں ہیں۔

عدالتی فیصلہ کے بعد گیارہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نااہل ہو گئے ہیں۔ ان میں فرح ناز اصفہانی (پی پی پی) ، نادیہ گبول ( ایم کیو ایم) ، ڈاکٹراشرف چوہان (ن لیگ)، وسیم قادر( ن لیگ)، فرحت محمد خان (ایم کیو ایم)،  احمد علی شاہ ( پی پی پی)، آمنہ بٹر (پی پی پی)، محمد اخلاق خان (ن لیگ)، ندیم خادم (ن لیگ)، زاہد اقبال (پی پی پی) اور ملک جمیل اعوان ( ن لیگ) شامل ہیں۔

نااہل قرار دیے جانے والے اراکین میں سے چار کا تعلق قومی اسمبلی، پانچ کا تعلق پنجاب جبکہ دو کا سندھ  اسمبلی سے ہے۔

سپریم کورٹ نے ان اراکین کو تریسٹھ ون سی کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ان کے خلاف حلف میں غلط بیانی پر تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہوگی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں آنے والے اراکین پارلیمنٹیرین نہیں رہ سکتے۔

عدالت نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپکیرز اور چیئرمین سینٹ کو فیصلے کی نقول بھجوانے کی ہدایت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ان پالیمنٹیرین کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے رحمان ملک اور نااہل قرار دیے گئے تمام ارکان کو مراعات اور تنخواہیں سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سیکرٹری سینیٹ و قومی اسمبلی کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف سینیٹ انتخابات کے وقت غلط حلف نامہ جمع کروانے پر بھی کارروائی کا حکم دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق رحمان ملک نے غلط بیانی کی لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے، ان کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کرتے ہوئے چئیرمین سینیٹ کو ریفرنس بھجوایا جائے۔

عدالت کے مطابق رحمان ملک نے سینیٹ کے 2008 انتخابات میں الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط حلف نامہ جمع کرایا تھا۔

اس حصے سے مزید

کسی جنرل سے رابطہ نہیں ہے،طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم فوج کو دعوت نہیں دے رہے، ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔

چوہدری نثار سے امریکی سفیر رچرڈ اولسن کی ملاقات

خطے میں استحکام کے لیے پاک امریکہ تعاون اور رابطہ کاری کو فروغ دینا ہوگا، وزیر داخلہ چوہدری نثار۔

زرداری-بائیڈن ملاقات پرافواہیں

ایک سماجی تقریب میں سابق صدر کے امریکی نائب صدر سےطے شدہ افطار- ڈنر کی خبروں نے سیاسی ماحول گرما دیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

SMIQBAL
20 ستمبر, 2012 09:24
well done these 'criminals' must be treated heavy handedly.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔