30 ستمبر, 2014 | 4 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

یوم عشق رسول: تئیس افراد ہلاک، دو سو سے زائد زخمی

اکیس ستمبر کو پولیس مشتعل مظاہرین کو روکتے ہوئے - اے پی فوٹو

جمعے کے روز حکومت کی طرف سے گستخانہ فلم کے خلاف یوم عاشق رسول (ﷺ) بنایا گیا۔

احتجاج کے دوران کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ رات گئے تک کچھ جگاہوں پر تشدد واقعات جاری رہے۔

ایسے موقع پر اندرونی سیکیورٹی بلکل بے بس نظر آئی جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف شہروں میں جس میں شامل پشاور سے اسلام آباد، لاہور سے کراچی میں تھوڑ پھوڑ کرتے نظر آئے اور دکانوں، سینیما گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا اور لوٹا۔

لیکن کئی شہروں میں جس میں شامل دارلحکومت اسلام آباد میں مکمل انتشار نظر آیا جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اور کافی جگاہوں پر تھوڑ پھوڑ ہوئی۔

مشتعل افراد نے ان جگاہوں پر جہاں مسلح فورس موجود تھی اور کنٹینر لگے تھے، وہاں بھی بیریئر توڑے اور سرکاری عمارتوں اور سفارتی مرکبات کو محفوظ رکھنے کے لیئے لگائے گئے بڑے بڑے کنٹینرز کو بھی ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ مشتعل افراد نے سرکاری اور نجی پراپرٹی کو بھی جلایا۔

کچھ ہی دیر میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ پولیس ان مشتعل مظاہرین پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔

آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی بیکار ثابت ہوئی اور الٹا پولیس کو ہی مشتعل مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پندرہ بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرکے اور پولیس اور پیراملٹری فورس تعینات کرکے حکام مطئن تھے کہ احتجاج پرسکون ہوگا۔

مسئلہ پشاور سے جب شروع ہوا جب صبح وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قوم کو پرامن احتجاج کرنے کی تلقین کررہے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے جن کا تعلق مذہبی جماعتوں سے تھا، دکانوں اور سینیما گھروں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں جلانا شروع کیا۔

لیکن اصل تشدد کی لہر جمعے کی نماز کے بعد اٹھی۔ شروع میں تو ایسا لگا کہ ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین اور چند بڑی جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی یہ ریلیاں پر امن رہے گیں۔

رپورٹوں کے مطابق حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ پہلے پیدل یا موٹر سائیکل پر سوار مظاہرین بیریئر کے دوسرے طرف جانے کی کوشش کرتے، لیکن جب انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ کنٹینرز کو ہٹا کر جلوس کو ریڈ زون میں داخل  کرتے۔

جہاں بڑی تعداد میں مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت کو مغرب کے خلاف اس گستخانہ فلم کے خلاف ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگایا وہاں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ان مشتعل مظاہرین کی مذمت کی۔

اس حصے سے مزید

عیدالاضحیٰ پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان

وزراتِ داخلہ کے مطابق چھ سے آٹھ اکتوبر تک تعطیلات کے دوران تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور دفاتر بند رہیں گے۔

آخر کیا پایا؟ 'انقلاب' کی خواہش لیے دھرنے والوں کی واپسی

پی اے ٹی کے کارکنان دھرنے سے گھر واپسی پر جہاں خوش ہیں، وہیں یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آخر انہوں نے کیا حاصل کیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو روپے 94 پیسے کی کمی

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاع آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

فائرنگ کی زد میں

پولیس کی قیادت کو ادراک ہوا ہے کہ اسے صاحب اختیار لوگوں کے غیر قانونی مطالبات کو نا کہنے کی ہمت دکھانے کی ضرورت ہے.

پالیسی سازی کا فن

پنجاب میں باربارآنے والے سیلاب نے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے درمیان خلا کو بےنقاب کردیا ہے۔

بلاگ

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟

مووی ریویو: دی پرنس — انسپائر کرنے میں ناکام

مجموعی طور پر روبوٹ جیسی پرفارمنسز اور کمزور پلاٹ کی وجہ سے یہ فلم ناظرین کی دلچسپی قائم رکھنے میں ناکام رہی-

مخلص سیاستدانوں کے سچے بیانات

جب سے دھرنے جاری ہیں، تب سے ہم نے سیاستدانوں سے طرح طرح کی باتیں سنی ہیں جن میں سے کچھ پیش خدمت ہیں۔