25 اپريل, 2014 | 24 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

یوم عشق رسول: تئیس افراد ہلاک، دو سو سے زائد زخمی

اکیس ستمبر کو پولیس مشتعل مظاہرین کو روکتے ہوئے - اے پی فوٹو

جمعے کے روز حکومت کی طرف سے گستخانہ فلم کے خلاف یوم عاشق رسول (ﷺ) بنایا گیا۔

احتجاج کے دوران کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ رات گئے تک کچھ جگاہوں پر تشدد واقعات جاری رہے۔

ایسے موقع پر اندرونی سیکیورٹی بلکل بے بس نظر آئی جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف شہروں میں جس میں شامل پشاور سے اسلام آباد، لاہور سے کراچی میں تھوڑ پھوڑ کرتے نظر آئے اور دکانوں، سینیما گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا اور لوٹا۔

لیکن کئی شہروں میں جس میں شامل دارلحکومت اسلام آباد میں مکمل انتشار نظر آیا جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اور کافی جگاہوں پر تھوڑ پھوڑ ہوئی۔

مشتعل افراد نے ان جگاہوں پر جہاں مسلح فورس موجود تھی اور کنٹینر لگے تھے، وہاں بھی بیریئر توڑے اور سرکاری عمارتوں اور سفارتی مرکبات کو محفوظ رکھنے کے لیئے لگائے گئے بڑے بڑے کنٹینرز کو بھی ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ مشتعل افراد نے سرکاری اور نجی پراپرٹی کو بھی جلایا۔

کچھ ہی دیر میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ پولیس ان مشتعل مظاہرین پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔

آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی بیکار ثابت ہوئی اور الٹا پولیس کو ہی مشتعل مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پندرہ بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرکے اور پولیس اور پیراملٹری فورس تعینات کرکے حکام مطئن تھے کہ احتجاج پرسکون ہوگا۔

مسئلہ پشاور سے جب شروع ہوا جب صبح وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قوم کو پرامن احتجاج کرنے کی تلقین کررہے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے جن کا تعلق مذہبی جماعتوں سے تھا، دکانوں اور سینیما گھروں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں جلانا شروع کیا۔

لیکن اصل تشدد کی لہر جمعے کی نماز کے بعد اٹھی۔ شروع میں تو ایسا لگا کہ ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین اور چند بڑی جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی یہ ریلیاں پر امن رہے گیں۔

رپورٹوں کے مطابق حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ پہلے پیدل یا موٹر سائیکل پر سوار مظاہرین بیریئر کے دوسرے طرف جانے کی کوشش کرتے، لیکن جب انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ کنٹینرز کو ہٹا کر جلوس کو ریڈ زون میں داخل  کرتے۔

جہاں بڑی تعداد میں مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت کو مغرب کے خلاف اس گستخانہ فلم کے خلاف ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگایا وہاں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ان مشتعل مظاہرین کی مذمت کی۔

اس حصے سے مزید

مشرف غداری کیس: 'ایف آئی اے کی رپورٹ فراہم نہ کرنا بدنیتی ہے'

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں میں بنیادی حقوق کو ہر قانون سے بالاتر قرار دیا ہے، بیرسٹر فروغ نسیم۔

'پاکستانی اداروں پر ہندوستانی الزامات بے بنیاد ہیں'

پاکستان نے صحافی حامد میر پر حملے سے متعلق ہندوستانی میڈیا کے پاکستانی سیکورٹی اداروں پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

سات سالوں میں 2090 فرقہ وارانہ ہلاکتیں

سینیٹ میں حزب اختلاف کے اراکین نے حکومتی اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

مقدّس ریپ

دو دن وہ اسی گاؤں میں ماں کے بازؤں میں تڑپتی رہی۔ گھر میں پیسے ہی کہاں تھے کہ علاج کے لئے بدین تک ہی پہنچ پاتے۔

میڈیا اور نقل بازی کا کینسر

ایسا نہیں کہ میں کوئی پہلا انسان ہوں جس کے خیالات پر نقب لگائی گئی ہو، مگر آخری ضرور بننا چاہتا ہوں

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟