22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

یوم عشق رسول: تئیس افراد ہلاک، دو سو سے زائد زخمی

اکیس ستمبر کو پولیس مشتعل مظاہرین کو روکتے ہوئے - اے پی فوٹو

جمعے کے روز حکومت کی طرف سے گستخانہ فلم کے خلاف یوم عاشق رسول (ﷺ) بنایا گیا۔

احتجاج کے دوران کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ رات گئے تک کچھ جگاہوں پر تشدد واقعات جاری رہے۔

ایسے موقع پر اندرونی سیکیورٹی بلکل بے بس نظر آئی جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف شہروں میں جس میں شامل پشاور سے اسلام آباد، لاہور سے کراچی میں تھوڑ پھوڑ کرتے نظر آئے اور دکانوں، سینیما گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا اور لوٹا۔

لیکن کئی شہروں میں جس میں شامل دارلحکومت اسلام آباد میں مکمل انتشار نظر آیا جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اور کافی جگاہوں پر تھوڑ پھوڑ ہوئی۔

مشتعل افراد نے ان جگاہوں پر جہاں مسلح فورس موجود تھی اور کنٹینر لگے تھے، وہاں بھی بیریئر توڑے اور سرکاری عمارتوں اور سفارتی مرکبات کو محفوظ رکھنے کے لیئے لگائے گئے بڑے بڑے کنٹینرز کو بھی ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ مشتعل افراد نے سرکاری اور نجی پراپرٹی کو بھی جلایا۔

کچھ ہی دیر میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ پولیس ان مشتعل مظاہرین پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔

آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی بیکار ثابت ہوئی اور الٹا پولیس کو ہی مشتعل مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پندرہ بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرکے اور پولیس اور پیراملٹری فورس تعینات کرکے حکام مطئن تھے کہ احتجاج پرسکون ہوگا۔

مسئلہ پشاور سے جب شروع ہوا جب صبح وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قوم کو پرامن احتجاج کرنے کی تلقین کررہے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے جن کا تعلق مذہبی جماعتوں سے تھا، دکانوں اور سینیما گھروں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں جلانا شروع کیا۔

لیکن اصل تشدد کی لہر جمعے کی نماز کے بعد اٹھی۔ شروع میں تو ایسا لگا کہ ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین اور چند بڑی جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی یہ ریلیاں پر امن رہے گیں۔

رپورٹوں کے مطابق حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ پہلے پیدل یا موٹر سائیکل پر سوار مظاہرین بیریئر کے دوسرے طرف جانے کی کوشش کرتے، لیکن جب انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ کنٹینرز کو ہٹا کر جلوس کو ریڈ زون میں داخل  کرتے۔

جہاں بڑی تعداد میں مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت کو مغرب کے خلاف اس گستخانہ فلم کے خلاف ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگایا وہاں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ان مشتعل مظاہرین کی مذمت کی۔

اس حصے سے مزید

آئندہ 48 گھنٹے’حساس‘ ہیں، وفاقی وزیر داخلہ

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ فوج کو اس آزمائش سے نکالیں اور آپریشن کی طرف ان کو لے کر جائیں جہاں ان کی ضرورت ہے۔

نواں دن: اسلام آباد دھرنوں کے باعث سیاسی بے یقینی برقرار

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی

عمران خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کے 34 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے اسپیکر کےدفتر میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

بلاگ

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

اب مارشل لاء کیوں ناممکن؟

ایوب، ضیاء اور مشرّف، تینوں ہی مغربی قوّتوں کے جغرافیائی سیاسی کھیلوں میں اسٹریٹجک کردار کے بدلے جیتے تھے۔

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔