24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

یوم عشق رسول: تئیس افراد ہلاک، دو سو سے زائد زخمی

اکیس ستمبر کو پولیس مشتعل مظاہرین کو روکتے ہوئے - اے پی فوٹو

جمعے کے روز حکومت کی طرف سے گستخانہ فلم کے خلاف یوم عاشق رسول (ﷺ) بنایا گیا۔

احتجاج کے دوران کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ رات گئے تک کچھ جگاہوں پر تشدد واقعات جاری رہے۔

ایسے موقع پر اندرونی سیکیورٹی بلکل بے بس نظر آئی جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف شہروں میں جس میں شامل پشاور سے اسلام آباد، لاہور سے کراچی میں تھوڑ پھوڑ کرتے نظر آئے اور دکانوں، سینیما گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا اور لوٹا۔

لیکن کئی شہروں میں جس میں شامل دارلحکومت اسلام آباد میں مکمل انتشار نظر آیا جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اور کافی جگاہوں پر تھوڑ پھوڑ ہوئی۔

مشتعل افراد نے ان جگاہوں پر جہاں مسلح فورس موجود تھی اور کنٹینر لگے تھے، وہاں بھی بیریئر توڑے اور سرکاری عمارتوں اور سفارتی مرکبات کو محفوظ رکھنے کے لیئے لگائے گئے بڑے بڑے کنٹینرز کو بھی ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ مشتعل افراد نے سرکاری اور نجی پراپرٹی کو بھی جلایا۔

کچھ ہی دیر میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ پولیس ان مشتعل مظاہرین پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔

آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی بیکار ثابت ہوئی اور الٹا پولیس کو ہی مشتعل مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پندرہ بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرکے اور پولیس اور پیراملٹری فورس تعینات کرکے حکام مطئن تھے کہ احتجاج پرسکون ہوگا۔

مسئلہ پشاور سے جب شروع ہوا جب صبح وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قوم کو پرامن احتجاج کرنے کی تلقین کررہے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے جن کا تعلق مذہبی جماعتوں سے تھا، دکانوں اور سینیما گھروں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں جلانا شروع کیا۔

لیکن اصل تشدد کی لہر جمعے کی نماز کے بعد اٹھی۔ شروع میں تو ایسا لگا کہ ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین اور چند بڑی جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی یہ ریلیاں پر امن رہے گیں۔

رپورٹوں کے مطابق حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ پہلے پیدل یا موٹر سائیکل پر سوار مظاہرین بیریئر کے دوسرے طرف جانے کی کوشش کرتے، لیکن جب انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ کنٹینرز کو ہٹا کر جلوس کو ریڈ زون میں داخل  کرتے۔

جہاں بڑی تعداد میں مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت کو مغرب کے خلاف اس گستخانہ فلم کے خلاف ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگایا وہاں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ان مشتعل مظاہرین کی مذمت کی۔

اس حصے سے مزید

زرداری-بائیڈن ملاقات میں اہم معاملات پر گفتگو

اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وزیرستان آپریشن، پاک-امریکا تعلقات اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

کسی جنرل سے رابطہ نہیں ہے،طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم فوج کو دعوت نہیں دے رہے، ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا۔

پاک و ہند سیکریٹری خارجہ 25 اگست کو ملیں گے

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق نوازشریف اور نریندر مودی نے مئی میں نئی دہلی میں اس ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

کیا بڑا بہتر ہے؟

ہم اپنی جنوب ایشیائی شناخت سے پیچھا کیوں چھڑانا چاہتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے عرب کے مقابلے میں کہیں زیادہ مالامال ہے؟

بلاگ

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-

مووی ریویو: پیزا - پلاٹ اچھا ہے

اگرچہ سکرین پلے کافی کمزور ہے مگر فلم کی کہانی میں آنے والے موڑ دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھتے ہیں۔

جہادی برائے فروخت

اگر اب بھی سمجھ نہ آئی تو پاکستان کا حشر بھی عراق و شام سے مختلف نہیں ہوگا۔