02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

یوم عشق رسول: تئیس افراد ہلاک، دو سو سے زائد زخمی

اکیس ستمبر کو پولیس مشتعل مظاہرین کو روکتے ہوئے - اے پی فوٹو

جمعے کے روز حکومت کی طرف سے گستخانہ فلم کے خلاف یوم عاشق رسول (ﷺ) بنایا گیا۔

احتجاج کے دوران کم سے کم تئیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ رات گئے تک کچھ جگاہوں پر تشدد واقعات جاری رہے۔

ایسے موقع پر اندرونی سیکیورٹی بلکل بے بس نظر آئی جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ مختلف شہروں میں جس میں شامل پشاور سے اسلام آباد، لاہور سے کراچی میں تھوڑ پھوڑ کرتے نظر آئے اور دکانوں، سینیما گھروں اور پولیس کی گاڑیوں کو جلایا اور لوٹا۔

لیکن کئی شہروں میں جس میں شامل دارلحکومت اسلام آباد میں مکمل انتشار نظر آیا جس کی وجہ سے کئی ہلاکتیں ہوئیں اور کافی جگاہوں پر تھوڑ پھوڑ ہوئی۔

مشتعل افراد نے ان جگاہوں پر جہاں مسلح فورس موجود تھی اور کنٹینر لگے تھے، وہاں بھی بیریئر توڑے اور سرکاری عمارتوں اور سفارتی مرکبات کو محفوظ رکھنے کے لیئے لگائے گئے بڑے بڑے کنٹینرز کو بھی ہٹا دیا۔ اس کے علاوہ مشتعل افراد نے سرکاری اور نجی پراپرٹی کو بھی جلایا۔

کچھ ہی دیر میں یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ پولیس ان مشتعل مظاہرین پر قابو نہیں پاسکتی ہے۔

آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں بھی بیکار ثابت ہوئی اور الٹا پولیس کو ہی مشتعل مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پندرہ بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرکے اور پولیس اور پیراملٹری فورس تعینات کرکے حکام مطئن تھے کہ احتجاج پرسکون ہوگا۔

مسئلہ پشاور سے جب شروع ہوا جب صبح وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قوم کو پرامن احتجاج کرنے کی تلقین کررہے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں مشتعل مظاہرین نے جن کا تعلق مذہبی جماعتوں سے تھا، دکانوں اور سینیما گھروں کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں جلانا شروع کیا۔

لیکن اصل تشدد کی لہر جمعے کی نماز کے بعد اٹھی۔ شروع میں تو ایسا لگا کہ ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، سنی تحریک اور مجلس وحدت المسلمین اور چند بڑی جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی یہ ریلیاں پر امن رہے گیں۔

رپورٹوں کے مطابق حملوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ پہلے پیدل یا موٹر سائیکل پر سوار مظاہرین بیریئر کے دوسرے طرف جانے کی کوشش کرتے، لیکن جب انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ کنٹینرز کو ہٹا کر جلوس کو ریڈ زون میں داخل  کرتے۔

جہاں بڑی تعداد میں مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت کو مغرب کے خلاف اس گستخانہ فلم کے خلاف ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگایا وہاں وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ان مشتعل مظاہرین کی مذمت کی۔

اس حصے سے مزید

برطانیہ کا شہریوں کو پاکستان کے سفر پر انتباہ

سفارت کار، سرکاری وفود اور شہریپاکستان کے اپنے سفر پر نظرثانی کریں، دفتر خارجہ و کامن ویلتھ۔

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔