30 اگست, 2014 | 3 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

میں پاکستانی ہوں

میں روز ہی خبروں میں رہتا ہوں۔ ساری دنیا میں سب سے الگ۔ ہزاروں کہ درمیان کھڑا کردیں، میں سب سے الگ ہی نظر آؤں گا۔

اسی لیے دنیا میں جس بھی دھرتی پر قدم دھروں، مجھے تو سب سے پہلے الگ کھڑا کردیتے ہیں اور میری باری بھی سب سے آخر میں ہی آتی ہے۔

معلوم نہیں کیوں ساری دنیا کی نظریں مجھ پر ہی گڑی ہیں۔ ساری دنیا کو مجھ سے ہی خطرہ کیوں نظر آتا ہے۔

دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی  ہوجائے،لیکن گھوم پھر کر سازش کے سرے مجھ تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔

میں تو سادہ سا ان پڑھ انسان ہوں، جس کے لیے نہ اسکول ہیں نا کالج، یونیورسٹیاں تو ہیں ہی بڑے لوگوں کے لیے، وہاں تک  تو میری پچھلی نسلیں تو کیا، اگلی نسلوں کے پہنچنے کی  بھی کوئی امید نہیں۔

لے دے کے جو مدرسے ہیں وہیں سے سیکھا ہے اگر کچھ سیکھا بھی ہے۔

اب تو لوگ میری صلاحیتوں کے گرویدہ ہوتے جارہے ہیں۔ مجھے تھوڑی سی چھوٹ دے دیں پھر دیکھیں، شہر کا شہر  پل بھر میں ڈھیر کرسکتا ہوں۔

مجھ سے زیادہ غیرت مند اور سچا مسلمان دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں ملے گا۔حتی کہ سعودی عرب میں  بھی نہیں۔

عربی سے چاہے میں نا بلد ہوں، لیکن مجھ سے بہتردین سے واقف کوئی بھی نہیں۔

اب تو انٹرنیٹ کا زمانہ ہے۔ ہمارے مدارس میں بھی جدید سہولیتیں موجود ہیں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی اپنا ہی راج ہے۔

کوئی اسٹیٹس  بدل رہا ہے تو کوئی کور فوٹو۔ اقوال زریں نقل پہ نقل ہو رہے ہیں۔ سب  کا ایمان فیس بوک پر ہی تازہ ہورہا ہے۔

ویسے بھی اب دین انگریزی کے ذریعے ہی پھیل رہا ہے  اور جن کو آپ ایلیٹ اسکول کہتے ہیں وہاں بھی  دھیرے دھیرے تبدیلی آ ہی رہی ہے ۔

جلد ہی مدارس اوران نام نہاد انگریزی اسکولوں میں جو فرق باقی رہ گیا ہے وہ بھی مٹنے والا ہے۔

کے ایف سی، میکڈونلڈ ہو یا پیزا ہٹ، جتنے  بھی چین ہیں ،اپنی ہی وجہ سے پھل پھول رہے ہیں۔

جدھر بھی نگاہ ڈالیں گے آپ کو نقاب اورٹوپی کا ہی راج دکھائی دے گا۔

آزادی اظہار کے تو ہم ہمیشہ سے ہی قائل ہیں، ہمیں دنیا بھر میں وہی سہولیات چاہیئیں جس کے وہاں کےباقی شہری حقدار ہیں۔

لیکن یہاں پاکستان میں تو آپ کو معلوم ہے کہ جب ہمیں ہی وہ سہولیات میسر نہیں تو ہم دوسروں کو کیسے دے سکتے ہیں۔

دنیا  توخوامخواہ شور مچاتی  رہتی ہے۔ جب ہمیں ہی اظہار رائے کی آزادی نہیں تو دوسرے مذاہب والوں کو کیسے دے سکتے ہیں۔

ان کو اتنا ہی شوق ہے تو کہیں اور نکل جائیں۔ ہمیں دیکھیں، ہم بھی توجہاں موقع ہاتھ لگتا ہے ، بال بچوں سمیت نکل پڑتے ہیں۔

امریکہ ہو یا اور دنیا کا کوئی اور ملک، ہمیں آج  ویزا دے تو ہمیں کوئی شوق ہے اس ملک میں رہنے کا، ہم تو خاندان کے خاندان نکلنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

ویسے یہ  بھی کوئی جگہ ہے رہنے کے لیے؟  وہاں کم از کم تعلیم فری ہے، حکومت روزی روٹی کی بھی ذمہ دار ہے اور سب سے بڑی بات  لوڈشیڈنگ  کا عذاب تو نہیں۔

بندہ آرام سے اپنی نیند تو پوری کرسکتا ہے۔ یہ توآپ بھی مانتے ہیں نا کہ ہم محنتی لوگ ہیں، برتن مانجھ کر بھی گذارا کرسکتے ہیں۔

باقی رہا اسلام وہ تو ویسے بھی بین الاقوامی مذہب ہے، دنیا کے ہر کونے میں مسجد ہے۔ ہمیں کوئی ملک عبادت سے تو روک نہیں سکتا۔

سعودی عرب کا کیا ہے، جہاں بھی ہوں گے  جب  بھی بلاوا آئے گا چلے جائیں گے اپنے گناہ معاف کروا آئیں گے۔

باقی، آپ کو تو معلوم ہے عربی وربی ہمیں تو آتی بھی نہیں اور سعودی عرب تو ہم پاکستانیوں کو نیشنلٹی دینے کو تیار نہیں۔

جن کو غلطی سے دے بیٹھے ہیں ان کے بھی آئے دن سر قلم کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کسی کا ہاتھ کاٹ دیا تو کبھی پاؤں۔

ویسے بھی  ہمیں تو انگریزی آتی ہے اس لیے ہماری منزل تو امریکہ  اور کینیڈا سے کم نہیں۔

باقی آپ تو جانتے ہیں ہمارے حقوق تو کوئی غصب نہیں کرسکتا، دنیا کے جس بھی کونے میں ہوں، اپنے  حقوق لے کر رہتے ہیں۔

ملینیم گولز؟ وہ کیا چیز ہوتی ہے، وہ تو دیکھیں کوئی ایسی چیز اگر دنیا میں ہے تو اسکا نفاذ تو حکومت کا ہی کام ہے نا۔

ویسے بھی ہماری حکومت تو ان کرپٹ سیاست دانوں کے حوالے ہے اور سیاست دان تو آپ کو معلوم ہے ہوتے ہی کرپٹ ہیں۔

آتے ہی کھانے پینے کے لیے ہیں۔ انہیں کھانے پینے سے فرصت ہوگی تو باقی چیزوں کی طرف بھی دھیان دیں گے۔

فوج  کو تو کچھ بھی نا کہیں، اسی کے دم سے تو ابھی تک یہ ملک قائم و دائم ہے۔

اسی نے تو اس ملک کو سنبھالا ہوا ہے، ورنہ دشمن تو جب سے یہ ملک بنا ہے آنکھیں ڈال کے بیٹھا ہواہے۔

دیکھیں کوئی مصیبت آجائے، سیلاب، زلزلہ، بارش اور تو اور امن امان کے لیے بھی ہم اسی کی طرف دیکھتے ہیں۔

ہماری فوج  کا دنیا کی سب  سے بہترین افواج میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کوئی ہمارا بال بھی بھیگا نہیں کرسکتا۔ پاک افواج زندہ باد۔

آپ تو جانتے ہی ہیں خدا ترسی تو ہمارے دل میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔

بھوکے کو کھلانا، بیمار کی تیمارداری، غریبوں کی دادرسی یہ تو ہماری سرشت میں ہے۔

پتہ نہیں کیوں دنیا ہماری اچھائیوں کو نظر انداز کرکے ہمیں بدنام کرتی رہتی  ہے۔ چند لوگوں کی غلطیاں اٹھارہ کروڑ لوگوں کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے۔

یہ دہشت گرد، یہ تخریب کار، یہ آئے دن دھماکے کرنے والے تو چند لوگ ہیں اور ضرور ان کے پیچھے ہمارے دشمنوں کا ہاتھ ہے جو اس ملک کو ترقی کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔

اب ان چند لوگوں کی وجہ سے  پوری قوم کو کیوں بدنام کرنے پر تلے ہیں۔

ہم تو سادہ سے نمازی اور پرہیزگار لوگ ہیں، کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔

باقی اگر کوئی اپنے لباس سے بے پردگی کا مظاہرہ کرے گا  تو اسے تو ہم معاف نہیں کرسکتے۔

ہم تو دنیا میں کہیں بھی ہوں، اپنی ماؤں بیٹیوں کو اس طرح کی بے راہ روی کی اجازت نہیں دے سکتے۔

غیرت ہماری یہاں بھی زندہ تھی اور وہاں بھی ہے۔ اگر وہ لوگ اپنی نیشنلٹی دے دیتے ہیں تو ہم ان کے لیے اپنی غیرت تو قربان نہیں کرسکتے۔

اپنی بہو بیٹیوں کو قتل تو ہم کہیں بھی کرسکتے ہیں۔ نہیں تو اپنا ملک تو ہے نا، کسی بھانجے بھتیجے سے شادی کروا دیں گے۔

اپنا بھی مسئلہ حل ہوجائے گا تو  بیٹھے بٹھائے اس کا بھی بھلا ہوجائے گا۔ اس کا جو ویزہ لگ گیا تواس کے بھی دن پھر جائیں گے۔

دیکھیں نا، ہماری عدلیہ جیسی کوئی عدلیہ ہے کسی ملک میں؟ وزیراعظم تک بھی روز حاضری  دیتا ہے اور اگر اسے کسی دورے پر جانا ہے تو منصف اعلیٰ کی اجازت سے ہی جاسکتا ہے۔

پچھلے وزیر اعظم کا کیا ہوا؟ عدلیہ کے احکامات کی پیروی نہیں کریں گے تو یہی حشر ہوگا۔

بس ایک بار سونامی کو آنے دیں  پھر دیکھیں کیسے سارے مسائل حل ہوتے ہیں۔ چوہدری صاحب کو صدر بنائیں گے اور اپنے خان صاحب تو ابھی سے وزیر اعظم  ہیں ہی۔

ایسا سمارٹ اور سوہنا منڈہ جو فر فر انگریزی بولے تو ساری دنیا کو بھی سمجھ لگے گی نا کہ  پاکستان سے کوئی پڑھا لکھا اور ماڈرن وزیراعظم آیا ہے۔

ہمیں دنیا کو اپنا ماڈرن چہرہ دکھانا ہے، پڑھا لکھا اور ماڈرن پاکستانی چہرہ۔

مولانا فضل الرحمان کب  سے وزیراعظم کے امیدوار ہیں، لیکن صرف اسی وجہ سے مار کھا جاتے ہیں، ورنہ افہام و تفہیم کے دور میں وہ بھی وزیر اعظم بن سکتے تھے۔

لیکن  فیصلے کرتے وقت باقی دنیا کا بھی تو خیال رکھنا پڑتا ہے۔ گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے فنڈ تو وہیں سے آتے ہیں نا۔

بدلے میں کچھ خیال ہمیں بھی رکھنا پڑتا ہے، باقی یہ جو  ہمارے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل ہے وہ تو جاری رہے گا۔

ادھر ہم شہر بند کریں گے اور سنیما گھر جلائیں گے، ادھر اسی دن کانگریس ہماری امداد بھی منظور کرے گی۔

باقی ٹی وی  چینلزکو ستر ملین ڈالر کے اشتہار تو پہلے ہی مل گئے ہیں۔ جسے آپ جھنڈہ جلانے کی فلم کے ساتھ ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں ایک ٹکٹ میں دو مزے۔


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے بند ہیں.

تبصرے (7)

Raza
27 ستمبر, 2012 17:35
Assalamu alaikum khuda bkhash abro ap na kitni masumiyat se apnay jazbat ka izhar kia amrica ma sab khuch hai load shading ka masla kabi patrol mehga pakitani awam k leya hai. Yeh bat bhi such hai amrica ka viza laga our yeh pakistani foran phoh cha ga yeh pakistani ahtijaj bhi karay to konsa hoqumat na sunna hai dawn news khbar 30,000 asamiya bharti ki jani gi magar malay gi kisa yeh pakistani wasa hi rahay ga.
اقبال افغانی
27 ستمبر, 2012 18:46
بھایی! کچھ لوگ مرنےکےلیے پیدا ہوتے ہیں. وہ زمین کی بہتر مخلوق کا چارا ہوتے ہیں. ہم ان ہی میں سے ہیں. بس حیرت یہ ہے کہ چارا رہنے پر اس سے قبل کسی نے بھی اتنا اصرار نہیں کیا. سو یقینا کہیں نہ کہیں اس دماغ کی رگیں نہ صرف ڈھیلی ہویی ہیں بلکہ انہوں نے واپس جاکر اپنی جانور جبلت پر ایمان کا درجہ حاصل کر لیا ہے. اس سے زیادہ آج پیغمبر کس بات پر دکھی ہوں گے؟ 
نادیہ خان
28 ستمبر, 2012 14:59
ای خدا! ہمیں ایمان کی نعمت سے سرفراز فرما مگر بغیر عقل کے نہیں. کہ اندھا ایمان اپنےہی گھر کو جلا ڈالتا ہے. آمین
عرفانا ماللاھ
28 ستمبر, 2012 19:08
بھترعن،
rebail
28 ستمبر, 2012 19:39
بھائی واہ! زبردست....اتنے بہترین انداز میں ترجمانی کرنے پر مصنف صاحب تعریف کے مستحق ہیں...!
شمائلہ
29 ستمبر, 2012 14:46
آئینہ خانہ میں پاکستان کی صرف بد صورتی ہی کیوں نظر آتی ہے. کیا کوئی خوبصورتی نہیں ہے یہاں
Hector
13 اکتوبر, 2012 01:50
What a joy to find someone else who thkins this way.
مقبول ترین
سروے
بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔