29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ریلی کی اجازت نہیں مل سکتی'

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ۔ — فائل فوٹو

پشاور: جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو کوٹ کئی علاقے میں ریلی منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے پیر کو بتایا کہ نہ تو وزیرستان میں حالات موزوں ہیں اور نہ ہی پولیٹیکل انتظامیہ کے پاس کوٹ کئی میں تقریباً ایک  لاکھ لوگوں پر مشتمل ریلی کو حفاظت فراہم کرنے کے وسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں دہشت گرد ریلی پر حملہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی قبائلیوں کی جانب سے ریلی کی مخالفت کے بعد حکام کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

' مقامی افراد نے ریلی کے منعقد کرنے کے منصوبے  کے خلاف انتظامیہ کو درخواستیں بھیجیں ہیں'۔

اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی نے مقامی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت طلب کی تھی کہ پارٹی کے رہنما عمران خان کو جنڈولہ فرنٹئیر ریجن کے قریب کوٹ کئی میں ریلی منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔

پارٹی کے مقامی رہنما دوست محمد نے پیر کو ٹانک میں پولیٹیکل ایجنٹ شاہداللہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر کوٹ کئی کے قریب سپن کائی راغزائی میں ریلی کا منصوبہ بنایا تھا۔

حکام کے مطابق انتظامیہ نے محمد کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے کسی بھی علاقے میں کسی بھی سیاسی تنظیم کو ریلی کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب، عمران خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ غیر ملکیوں پر مشتمل تیس رکنی وفد جنوبی وزیرستان میں 'امن ریلی' میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے۔

عمران کا دعوی تھا کہ محسود، برقی اور بھٹانی قبائل نے نہ صرف ریلی کے انعقاد کو سراہا ہے بلکہ سیکورٹی بھی فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔

میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، نامعلوم طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ریلی میں رکاوٹ نہ ڈالیں گے۔

سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ قواعد کے مطابق کسی بھی غیر مقامی فرد کی حفاظت اس علاقے کے قبائل اور خاصہ دار فورس کی ذمہ داری ہے لیکن موجودہ حالات میں دونوں ہی ریلی میں آنے والے ہزاروں افراد کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

پشاور میں سول سیکریٹریٹ کے عہداے داروں نے ڈان کو بتایا کہ قبائلی علاقے میں بدامنی کی وجہ سے انتظامیہ کی رِٹ کمزور ہو چکی ہے اور وہ علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوج، فرنٹئیر کارپس اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں پر انحصار کرتی ہے۔

'مقامی افراد بھی نقل مکانی کے باعث علاقے میں اپنا اثر رسوخ برقرار نہیں رکھ سکے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد کو علاقے میں آنے جانے کے لیے حکام سے اجازت لینا ہوتی ہے اور اسی لیے علاقے میں داخلے کے لیے راہداری نظام متعارف کروایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریلی میں شریک تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو اجازت نامہ دینا بہت دشوار ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کو متعدد علاقوں سے نکالنے کے باوجود وہاں ابھی تک استحکام نہیں آیا لہذا حکومت علاقے میں امن کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔

اس حصے سے مزید

پشاور: چار سال سے مغوی پروفیسر اجمل خان بازیاب

رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران پروفیسر اجمل کو بازیاب کیا گیا، ان کو 2010 میں اغوا کیا گیا تھا

پاک افغان سرحد کے قریب بم دھماکا، دو اہلکار زخمی

سڑک کنارے نصب کیا گیا بارودی مواد دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا، جس سے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

پشاور میں سعودی ایئر لائنز کی سروس بحال

سعودی ایئر لائنز کی حج پرواز آج بروز جمعرات سوا دوبجے باچا خان ایئرپورٹ سے جدہ کے لیے روانہ ہو گی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

متوازی سیاست

بعض لحاظ سے ان میں اور ان لوگوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے جنھیِں وہ ہٹانا چاہتے ہیں-

انتخابی اصلاحات کی فوری ضرورت

پاکستان میں انتخابی عمل کوشفاف اور غیر متنازعہ بنانے کے لیے انتخابات کے آٹھ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

بلاگ

پاکستان کی نوجوان نسل اور غیرت بریگیڈ

"فحاشی" ایک دماغی بیماری ہے جس کا شکار ذہن عورت کو گھر کی دہلیز سے باہر دیکھ کر شدید 'صدمے' کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈی چوک، گدھا اور نا تجربہ کار حجام

آپ کے لیڈر رہیں یا چلے جائیں، یا رسی سے گدھا بندھا ہو یا نہیں، لیکن کسی نا تجربہ کار شخص کو اپنی حجامت مت بنانے دیجئے گا

دھرنے بمقابلہ جمہوریت

جمہوریت میں ہر بندے کی رائے برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سیاست دان بھی منتخب ہوجائیں، جو لیڈرشپ کے قابل نہیں۔

آزادی کے سائیڈ افیکٹس

اس قوم کا مزید آزادی کی بات کرنا بہت حیران کن ہے۔ یہ قوم تو آزادی کے سائیڈ افیکٹس کا شکار ہے۔