02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ریلی کی اجازت نہیں مل سکتی'

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ۔ — فائل فوٹو

پشاور: جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو کوٹ کئی علاقے میں ریلی منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے پیر کو بتایا کہ نہ تو وزیرستان میں حالات موزوں ہیں اور نہ ہی پولیٹیکل انتظامیہ کے پاس کوٹ کئی میں تقریباً ایک  لاکھ لوگوں پر مشتمل ریلی کو حفاظت فراہم کرنے کے وسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں دہشت گرد ریلی پر حملہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی قبائلیوں کی جانب سے ریلی کی مخالفت کے بعد حکام کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

' مقامی افراد نے ریلی کے منعقد کرنے کے منصوبے  کے خلاف انتظامیہ کو درخواستیں بھیجیں ہیں'۔

اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی نے مقامی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت طلب کی تھی کہ پارٹی کے رہنما عمران خان کو جنڈولہ فرنٹئیر ریجن کے قریب کوٹ کئی میں ریلی منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔

پارٹی کے مقامی رہنما دوست محمد نے پیر کو ٹانک میں پولیٹیکل ایجنٹ شاہداللہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

پی ٹی آئی نے ابتدائی طور پر کوٹ کئی کے قریب سپن کائی راغزائی میں ریلی کا منصوبہ بنایا تھا۔

حکام کے مطابق انتظامیہ نے محمد کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے کسی بھی علاقے میں کسی بھی سیاسی تنظیم کو ریلی کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب، عمران خان نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ غیر ملکیوں پر مشتمل تیس رکنی وفد جنوبی وزیرستان میں 'امن ریلی' میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ چکا ہے۔

عمران کا دعوی تھا کہ محسود، برقی اور بھٹانی قبائل نے نہ صرف ریلی کے انعقاد کو سراہا ہے بلکہ سیکورٹی بھی فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔

میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، نامعلوم طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ ریلی میں رکاوٹ نہ ڈالیں گے۔

سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ قواعد کے مطابق کسی بھی غیر مقامی فرد کی حفاظت اس علاقے کے قبائل اور خاصہ دار فورس کی ذمہ داری ہے لیکن موجودہ حالات میں دونوں ہی ریلی میں آنے والے ہزاروں افراد کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

پشاور میں سول سیکریٹریٹ کے عہداے داروں نے ڈان کو بتایا کہ قبائلی علاقے میں بدامنی کی وجہ سے انتظامیہ کی رِٹ کمزور ہو چکی ہے اور وہ علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے فوج، فرنٹئیر کارپس اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں پر انحصار کرتی ہے۔

'مقامی افراد بھی نقل مکانی کے باعث علاقے میں اپنا اثر رسوخ برقرار نہیں رکھ سکے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد کو علاقے میں آنے جانے کے لیے حکام سے اجازت لینا ہوتی ہے اور اسی لیے علاقے میں داخلے کے لیے راہداری نظام متعارف کروایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریلی میں شریک تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو اجازت نامہ دینا بہت دشوار ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں کو متعدد علاقوں سے نکالنے کے باوجود وہاں ابھی تک استحکام نہیں آیا لہذا حکومت علاقے میں امن کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔

اس حصے سے مزید

پشاور: مسافر بس میں دھماکا، سات افراد ہلاک

دھماکے میں 11 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے چار کی حالات تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

بنوں: سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین شدت پسند ہلاک

دوسری جانب پشاور میں بجلی کے ایک ٹاور کو اڑانے کا منصوبہ ناکام، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے تین بموں کو ناکارہ بنا دیا۔

پشاور: فائرنگ سے پولیس اہلکار ہلاک

فائرنگ کا یہ واقعہ پشاور کے علاقے وزیرآباد میں پیش آیا، جبکہ مسلح افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔