01 ستمبر, 2014 | 5 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'بلوچستان سے ایف سی واپس نہیں بلاسکتے'

وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ۔ — اے پی پی فوٹو

لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے مطالبے پر فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) کو بلوچستان سے واپس نہیں بلایا جاسکتا۔

منگل کو لاہور ائیرپورٹ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کائرہ نے کہا کہ نواز شریف کی بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں خوش آئند ہیں مگران کے کہنے پر صوبے سے ایف سی کو نکالنا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے مطالبے پر جنوبی پنجاب صوبے پر کمیشن بنایا گیا تھا مگراب ن لیگ کو ہی اس پراعتراض ہے۔

حج کوٹہ کیس کی سماعت کے لیے لاہورآنے والے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور خورشید شاہ نے کہا کہ انہیں نواز شریف کی کسی بات پر اعتبار نہیں۔

شاہ نے کہا کہ حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ سے کوئی غداری نہیں کی بلکہ نواز شریف پنجاب کے لوگوں سے غداری کررہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

عمران، قادری کیخلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

دونوں رہنماؤں کے خلاف ایس ایچ او محبوب احمد کی مدعیت میں سیکریٹریٹ پولیس تھانےمیں ایف آئی آر نمبر 182 31/8 درج کی گئی۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات ختم

وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان آج ہونے والی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔

شاہراہِ دستور پر صحافت ایک جرم ہے

میڈیا کے نمائندے جو کچھ منظر میں ہوتا ہے، وہی ناظرین کو دکھاتے ہیں، لیکن شاہراہِ دستور پر ان کا یہ فرض جرم بن گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔