25 جولائ, 2014 | 26 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: عسکریت پسندوں کا تھانےاور چیک پوسٹوں پرحملہ

پولیس ہیلپ لائن۔ —فائل فوٹو

پشاور: پشاور متنی پولیس اسٹیشن اور چیک پوسٹوں پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد جوابی کارروائی میں چار عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

جبکہ حملے میں اے ایس آئی سمیت چار پولیس اہلکار زخمی اور ایک بکتربند کو نقصان پہنچا۔

عسکریت پسندوں نے گزشتہ رات پشاور کے متنی تھانے اور فرنٹیئر روڈ پر قائم چیک پوسٹوں پر بڑا حملہ کیا۔

ذرائع کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی میں چار عسکریت پسند مارے گئے۔

حملے میں زخمی ہونے والے چاروں پولیس اہلکاروں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

دوسری جانب شہر میں مزید دو بم ناکارہ بنادئے گئے۔

اس حصے سے مزید

اورکزئی: مکان میں دھماکا، کمانڈر سمیت 5 جنگجو ہلاک

آوٹ میلہ کے ایک گھر میں دھماکے سے وہاں موجود پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے، سرکاری ذرائع۔

پشاور میں فائرنگ، سابق رکن قومی اسمبلی کا پرسنل سیکرٹری ہلاک

مقتول بسم اللہ کو نامعلوم افراد نے رنگ روڈ تاج آباد کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنایا، پولیس۔

سراج الحق وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے مستعفی

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Raza
04 اکتوبر, 2012 16:05
Dawn news karachi ma Allama qamar al-ditta ko goli mar ker Halaq ker diya gaya mari samaj ma yeh nahi Ataa k shia ulmaa ko kou maara jata hai kia shi kafir hain? Islam kisi ko nahaq Qatal ki Ijazat nahi data, mari ek shia se baat hoi us ka kehna tha k Lashkar-e-Taiba walay na Qatal ka Fatwa jari kia howa hai. Agar Aisa hai to Firqa wariyat khbi khatam nahi ho saqti.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-