02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

عوام عدلیہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عوام عدلیہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس افتخار نے کہا ہے کہ جوڈیشل پالیسی کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے۔

کوئٹہ میں نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں میرٹ پر فیصلے ہونے چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل قانون کی بالادستی ہے اور جہاں انصاف کا بول بالا ہو تو معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش ہے کہ انصاف لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جائے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتا یا کہ ماتحت عدلیہ میں مقدمات کے التوا کم ہوا ہے۔

اجلاس میں چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شریک تھے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ: ڈبل روڈ پر دھماکا، تین افراد ہلاک

نامعلوم افراد نے ایک حمام کو دستی بم سے نشانہ بنایا جس سے نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی خان آف قلات کی واپسی کی خواہش مند

بلوچستان اسمبلی نے ایک متقفہ قرارداد کے ذریعے خان آف قلات پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی دھرا میں شامل ہوں۔

بلوچستان کے 27 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز

تقریباً چار ہزار سے زائد ٹیمیں اس مہم میں حصہ لی رہی ہیں، جبکہ 14 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنوبی پنجاب کا کیس

پنجاب اس وقت دنیا کی سب سے بڑی وفاقی اکائیوں میں سے ہے۔ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے۔

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

بلاگ

کیا آپ کی گائے برانڈڈ ہے؟

ہرعید الاضحیٰ کے ساتھ جانوروں پر شوبازی بڑھتی ہی جارہی ہے، جس سے اس مذہبی تہوار کی روحانیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری: حقیقت یا سراب؟

حکومت نے کئی ارب روپے سے میٹرو بس منصوبہ شروع کر رکھا ہے مگر عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گو نواز گو!

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔