28 جولائ, 2014 | 29 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

عوام عدلیہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عوام عدلیہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس افتخار نے کہا ہے کہ جوڈیشل پالیسی کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے۔

کوئٹہ میں نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں میرٹ پر فیصلے ہونے چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل قانون کی بالادستی ہے اور جہاں انصاف کا بول بالا ہو تو معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش ہے کہ انصاف لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جائے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتا یا کہ ماتحت عدلیہ میں مقدمات کے التوا کم ہوا ہے۔

اجلاس میں چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شریک تھے۔

اس حصے سے مزید

خضدار: گریشہ میں دھماکا، سات افراد زخمی

دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو گریشہ سے ضلع خضدار کے سول ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

کوئٹہ میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار ہلاک

سریاب روڈ پر دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

جھل مگسی میں' غیرت' کے نام پر لڑکی قتل

ضلع جھل مگسی کے آخند دانی گاؤں میں ایک باپ نے مبینہ طور پر'غیرت' کے نام پر اپنی بیٹی کو قتل کر دیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

تھوڑا سا احترام

آپ ایک مایوس، خوفزدہ بیوروکریسی سے کیا توقع کرسکتے ہیں جنہیں اپنی سمت کا علم نہ ہو؟

بلاگ

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے

نائنٹیز کا پاکستان -- 1

ضیا سے مشرف کے بیچ گیارہ سال میں کبھی کرپشن کے بہانے تو کبھی وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پانچ جمہوری حکومتیں تبدیل ہوئیں

ٹوٹے برتن

امّی کا خیال ہے کہ ایسے برتن پورے گاؤں میں کسی کے پاس نہیں۔ وہ تو ان برتنوں کو استعمال کرنے ہی نہیں دیتی

مجرم کون؟

کچھ چیزیں ڈنڈے کے زور پہ ہی چلتی ہیں، پھر آہستہ آہستہ عادت اور عادت سے فطرت بن جاتی ہیں۔