22 اگست, 2014 | 25 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

عوام عدلیہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری۔ فائل فوٹو

کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ عوام عدلیہ کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس افتخار نے کہا ہے کہ جوڈیشل پالیسی کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے۔

کوئٹہ میں نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں میرٹ پر فیصلے ہونے چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کا حل قانون کی بالادستی ہے اور جہاں انصاف کا بول بالا ہو تو معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش ہے کہ انصاف لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جائے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتا یا کہ ماتحت عدلیہ میں مقدمات کے التوا کم ہوا ہے۔

اجلاس میں چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شریک تھے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ: ایف سی کی کارروائی، بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد

ملزمان کے قبضے سے اینٹی ٹینک مائنز، ایم ایم میزائل، مارٹر رائنڈز، ہینڈ گرنیڈز اور ڈیٹو نیٹرز برآمد ہوئے ہیں۔

خضدار میں اجتماعی قبریں، فورسز بری الذمہ قرار

عدالتی کمیشن نے اس کیس میں مسلح فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

خضدار: اجتماعی قبروں کے معاملے میں حکومت ملوث نہیں

ٹریبیونل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ناکافی شواہد کی وجہ سے اس معاملے میں کچھ زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بڑھتی مایوسی

مایوسی تب اور بڑھتی ہے جب عوام دیکھتے ہیں کہ حکمران عوامی پیسے سے اپنے کام چلانے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔

مضبوط ادارے

ریاستی اداروں پر تمام جماعتوں کی جانب سے حملہ تب کیا گیا جب وہ ابتدائی طور پر ہی سہی پر قابلیت کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔

بلاگ

عمران خان کے نام کھلا خط

گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات پی ٹی آئی ورکرز کی تمام امیدوں اور توقعات کو بچکانہ، سادہ لوح اور غلط ثابت کر رہے ہیں۔

جعلی انقلاب اور جعلی فوٹیجز

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی غیر آئینی حرکتوں کی وجہ سے اگر فوج آگئی تو چینلز ایسی نشریات کرنا بھول جائیں گے۔

!جس کی لاٹھی اُس کا گلّو

ہر دکاندار اور ریڑھی والے سے پِٹنا کوئی آسان عمل نہیں ہوگا شاید یہی وجہ ہے کہ سول نافرمانی کوئی آسان کام نہیں۔

ہمارے کپتانوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس بات کا پتہ لگانا مشکل ہے کہ مصباح الحق اور عمران خان میں سے زیادہ کون بچوں کی طرح اپنی غلطی ماننے سے انکاری ہے۔