22 ستمبر, 2014 | 26 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ دھماکہ:ایک ہلاک، چودہ زخمی

کوئٹہ میں ڈبل روڈ کے پاس دھماکے کے بعد جائے وقوعہ کا ایک منظر۔ رائٹرزتصویر

کوئٹہ : کوئٹہ کی ایک مصروف مارکیٹ میں بم دھماکے سے ایک ہلاک اور چودہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کو سبی اور کراچی سے ملانے والے ڈبل روڈ پر یہ دھماکہ ہوا جس کی آواز دور تک سنی گئ۔

اس روڈ پر مشہور بڑیچ مارکیٹ کے پاس یہ دھماکہ ہوا جس میں چار پولیس اہلکار سمیت پندرہ افراد زخمی ہوئے۔

بعد ازاں دھماکے میں زخمی ایک بچہ ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جن میں سے کئی زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے سے جہاں ایک رکشہ مکمل طور پر تباہ ہوا وہیں اطراف کی دکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

تربت: دو مسلح گروپوں میں تصادم سے 11 ہلاکتیں

مسلح افراد نے یعقوب بالگتری اور ان کے ساتھیوں پر اُس وقت فائرنگ کی جب وہ اپنے داماد کے گھر میں دعوت پر موجود تھے۔

بی این پی کی نئے صوبوں کے مطالبے کی مخالفت

بلوچستان نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی مزاحمت کی جائے گی۔

خضدار سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

مقامی پولیس کے مطابق تینوں افراد کو انتہائی قریب سے گولی مار کر صحرائی علاقے میں پھینک دیا گیا تھا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-