18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

ملالئے کو نوبل انعام ملنا چاہیے، انجلینا جولی

۔— فائل فوٹو

ہالی ووڈ کی سپر اسٹار اور اقوام متحدہ کی سفیربرائے خیر سگالی انجلینا  جولی نے کہا ہے کہ ملالئے یوسف زئی کا نام نوبل امن انعام کے لیے زیر غور آنا چاہیے۔

اپنے ایک مضمون میں جولی نے طالبان کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والی سوات کی چودہ سالہ طالب علم کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔

جولی کے مطابق ملالئے پر حملے کا ان کے بچوں کو بھی دکھ ہے۔

ان کی بیٹی زاہرہ کا کہنا ہے کہ ملالئے کو نا صرف اعزاز سے نوازنا چاہئے بلکہ اس کا ایک مجسمہ بھی بنانا چاہئے۔

ہالی ووڈ سپر اسٹار کی چھ سالہ بیٹی شیلو کو ملالئے کے ساتھ اس کے پالتو جانوروں کی بھی فکر لاحق ہے۔

جولی نے مضمون میں مزید لکھا کہ ان کی بچوں کو ملالئے کے والدین سے بھی دلی ہمدردی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوبل کمیٹی کو نوبل انعام کے لیے ملالئے کے نام پر ضرور غور کرنا چاہئے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ہر بچی کو ملالئے کے لیے آواز اٹھانی چاہئےکیونکہ 'اب ہم سب ملالہ ہیں' ۔

جولی نے دنیا بھرمیں کام کرنے والی تنظمیوں سے پاکستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے فنڈز جمع کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

اس حصے سے مزید

'سلمان کی 'نو انڑی میں انٹری

سیکوئل میں سلمان اور فردین ٹرپل جبکہ انیل ڈبل رول میں نظر آئیں گے، رپورٹ۔

معروف ریسلر واریئر انتقال کر گئے

مشہور امریکی ریسلر الٹی میٹ واریئر 54 سال کی عمر میں چل بسے، چند دن قبل ہی ڈبلیو ڈبلیو ای ہال آف فیم میں شامل ہوئے تھے۔

عدالت کا میرا کیخلاف تحقیقات کا حکم

میرا نے فحاشی اور ناجائز تعلقات کو فروغ دیا جن پر انہیں سزا ہونی چاہیئے، درخواست گزار شبیر احمد۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

rai tanveer
18 اکتوبر, 2012 09:31
is larki ko goli jis ne b mari he is ko b saza lazmi milni chaye aur jis ne nabi pak ki shan e pak me gustakhi ki he iske koi mafi ne . is larki k liay to har koi tarap raha he aur humary nabi pak k liay kisi pe koi asar ne huwa he. yeh hein humary hukmaran
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔