29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل نہیں'

اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ کی عمارت —فائل تصویر

اسلام آباد: سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے اصغر خان کیس کی سماعت کل تک  ملتوی کر دی گئی ہے، سیکریٹری ایوان صدر نے عدالت میں جواب داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر 2008 سے ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ اصغر خان کیس درخواست کی سما عت کی۔

سماعت کے آغاز پر سیکریٹری ایوان صدر ملک آصف نے عدالت کو بتایا کہ  ستمبر 2008 سے ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔  اس پر جسٹس خلجی عارف حیسن نے سیکرٹری ایوان صدر  سے پوچھا کہ کیا ستمبر دوھزار آٹھ سے پہلے کوئی سیاسی سیل تھا؟۔

سیکریٹری ایوان صدر نے  کہا کہ میرے علم میں نہیں تاہم ہو سکتا ہے کوئی الیکشن انفارمیشن سیل ماضی میں کام کررہا ہو لیکن جب سے صدر آصف علی زرداری ایوان صدر میں آئے ہیں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ماضی میں آئی جے آئی کی حمایت صدر کے حلف کی نفی تھی، ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو کسی سیاسی گروپ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، آئین کے تحت صدر ریاست کا سربراہ ھو تا ھے کسی سیاسی پارٹی کا نہیں۔

رقوم کی تقسیم کے اھم  کردار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید علالت کے باعث پیش نہ  ھو سکے، عدالت نے انہیں دوبارہ نوٹس جاری کرتے ھوئے کل طلب کر لیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے رابطہ کرنے پر انہوں نے کل عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی۔

وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ایک ٹی وی شو میں اصغر پر الزامات لگے ہیں جس پر چیف جسٹس نے اکرم شیخ کو بتایا کہ کہ ٹی وی پر ہمارے خلاف بھی باتیں ھوتی ہیں اس پر نہیں جاتے۔ اصغر خان 1965 کی جنگ کے ھیرو ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔

وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اسد درانی نے 8 مارچ 2012 کو عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا تھا، بیان حلفی کے مطابق انہوں نے 6 کروڑ روپے اندرونی انٹیلی جنس اور انتخابی اخراجات کے لیے استعمال کیے، 8 کروڑ روپے بیرونی انٹیلی جنس کے لیے آئی ایس آئی کے کراچی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے۔

اس حصے سے مزید

کوئٹہ: دوصحافیوں سمیت تین افراد قتل

نیوز ایجنسی کے دفتر میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور بیورو،رپورٹر اور اکائونٹنٹ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

مستونگ: نیٹو ٹینکرز پر حملہ

پولیس کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔

اکبر بگٹی کی برسی پر بلوچستان میں ہڑتال

ہڑتال کے موقع پر امن و امان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

متوازی سیاست

بعض لحاظ سے ان میں اور ان لوگوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے جنھیِں وہ ہٹانا چاہتے ہیں-

انتخابی اصلاحات کی فوری ضرورت

پاکستان میں انتخابی عمل کوشفاف اور غیر متنازعہ بنانے کے لیے انتخابات کے آٹھ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

بلاگ

پاکستان کی نوجوان نسل اور غیرت بریگیڈ

"فحاشی" ایک دماغی بیماری ہے جس کا شکار ذہن عورت کو گھر کی دہلیز سے باہر دیکھ کر شدید 'صدمے' کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈی چوک، گدھا اور نا تجربہ کار حجام

آپ کے لیڈر رہیں یا چلے جائیں، یا رسی سے گدھا بندھا ہو یا نہیں، لیکن کسی نا تجربہ کار شخص کو اپنی حجامت مت بنانے دیجئے گا

دھرنے بمقابلہ جمہوریت

جمہوریت میں ہر بندے کی رائے برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سیاست دان بھی منتخب ہوجائیں، جو لیڈرشپ کے قابل نہیں۔

آزادی کے سائیڈ افیکٹس

اس قوم کا مزید آزادی کی بات کرنا بہت حیران کن ہے۔ یہ قوم تو آزادی کے سائیڈ افیکٹس کا شکار ہے۔