02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل نہیں'

اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ کی عمارت —فائل تصویر

اسلام آباد: سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سے اصغر خان کیس کی سماعت کل تک  ملتوی کر دی گئی ہے، سیکریٹری ایوان صدر نے عدالت میں جواب داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر 2008 سے ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ اصغر خان کیس درخواست کی سما عت کی۔

سماعت کے آغاز پر سیکریٹری ایوان صدر ملک آصف نے عدالت کو بتایا کہ  ستمبر 2008 سے ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔  اس پر جسٹس خلجی عارف حیسن نے سیکرٹری ایوان صدر  سے پوچھا کہ کیا ستمبر دوھزار آٹھ سے پہلے کوئی سیاسی سیل تھا؟۔

سیکریٹری ایوان صدر نے  کہا کہ میرے علم میں نہیں تاہم ہو سکتا ہے کوئی الیکشن انفارمیشن سیل ماضی میں کام کررہا ہو لیکن جب سے صدر آصف علی زرداری ایوان صدر میں آئے ہیں کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ماضی میں آئی جے آئی کی حمایت صدر کے حلف کی نفی تھی، ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو کسی سیاسی گروپ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، آئین کے تحت صدر ریاست کا سربراہ ھو تا ھے کسی سیاسی پارٹی کا نہیں۔

رقوم کی تقسیم کے اھم  کردار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید علالت کے باعث پیش نہ  ھو سکے، عدالت نے انہیں دوبارہ نوٹس جاری کرتے ھوئے کل طلب کر لیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کے رابطہ کرنے پر انہوں نے کل عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی۔

وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ایک ٹی وی شو میں اصغر پر الزامات لگے ہیں جس پر چیف جسٹس نے اکرم شیخ کو بتایا کہ کہ ٹی وی پر ہمارے خلاف بھی باتیں ھوتی ہیں اس پر نہیں جاتے۔ اصغر خان 1965 کی جنگ کے ھیرو ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔

وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اسد درانی نے 8 مارچ 2012 کو عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا تھا، بیان حلفی کے مطابق انہوں نے 6 کروڑ روپے اندرونی انٹیلی جنس اور انتخابی اخراجات کے لیے استعمال کیے، 8 کروڑ روپے بیرونی انٹیلی جنس کے لیے آئی ایس آئی کے کراچی کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے۔

اس حصے سے مزید

بلوچستان میں بارہ مشتبہ عسکریت پسند کی ہلاکت کا دعویٰ

گومازئی میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ مشتبہ شرپسند ہلاک ہوگئے۔

بلوچستان: مختلف علاقوں میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کوہلو، ڈیرہ مراد جمالی اور قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد کی ٹارگٹ کلنگ سے دو افراد زخمی بھی ہوئے۔

بلوچستان: ذکری فرقے کے چھ افراد سمیت نو ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔