23 ستمبر, 2014 | 27 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

متحدہ مجلس عمل بحال

ایم ایم اے کے رہنما اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان متحدہ مجلس عمل کی میٹنگ کی صدارت کر رہے ہیں۔ فوٹو آن لائن

اسلام آباد: مختلف دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے لیکن دینی جماعتوں کے اتحاد میں اس مرتبہ جماعت اسلامی کو شامل نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں دینی جماعتوں کے سربراہ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، یہاں تک کہ نظریاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایم ایم اے کی تشکیل نو کی جارہی ہے، لیکن اس میں جماعت اسلامی شامل نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی نے اتحاد میں شمولیت کیلیے رابطہ کیا تو ان کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ دنی جماعتوں کے اس اتحاد میں اس دفعہ متحدہ مجلس عمل کی بانی جماعت جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ان کا تعلق نہ حکومت سے ہے نہ طالبان سے لیکن وہ ہر طرح کے فوجی آپریشن کے مخالف ہیں، خواہ وہ  پاکستان میں ہو یا افغانستان میں۔

دینی جماعتوں کے اس مشترکہ اجلاس میں اویس نورانی، قاری زوار بہادر، مفتی ابرار، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر،پروفیسر ساجد میر،علامہ ساجد نقوی اور دیگر مذہبی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

طاہر القادری کا دھرنے کے شرکاءکو واپسی کی اجازت دینے سے انکار

طاہر القادری نے پیر کو دھرنے میں شریک اپنے حامیوں کو گھر واپسی کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی خامیوں کا ذمہ دار آر اوز کو قرار دے دیا

آر اوز قانونی طور پر پولنگ اسٹیشنز کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر انہوں نے یہ ٹاسک خود مکمل نہیں کیا۔

حکومت کو پولیو ایمرجنسی سینٹر قائم کرنے کی جلدی

ایسا نظر آتا ہے کہ اس مرکز کا قیام انڈیپینڈنٹ مانیٹرنگ بورڈکو مطمین کرنے کے لیے عمل میں لایا جارہا ہے ۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مڑی تڑی باتیں اور مقاصد

چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرنے، اور غیر آئینی اقدامات سے پاکستان کے مسائل میں صرف اضافہ ہی ہوگا۔

ذمہ داری ضروری ہے

سرکلر ڈیٹ کے لاعلاج مرض کی بدولت عالمی مالیاتی ادارے ہمارے توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

بلاگ

خواب دو انقلابیوں کے

ایک انقلابی خود کو وزیر اعظم بنتا دیکھ رہا ہے تو دوسرا صدارتی محل میں مریدوں سے ہاتھ پر بوسے کروانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

کوئی ان سے نہیں کہتا۔۔۔

ریڈ زون کے محفوظ باسیو! ہمیں دہشت گردوں، ڈاکوؤں، چوروں، اغواکاروں، تمہاری افسر شاہی اور پولیس سے بچانے والا کوئی نہیں۔

بلوچ نیشنلزم میں زبان کا کردار

لسانی معاملات پر غیر دانشمندانہ طریقہ سے اصرار مزید ناراضگی اور پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جو شاید مناسب قدم نہیں۔

خواندگی کا عالمی دن اور پاکستان

تعلیم کو سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جن کے لیے تعلیم ایک جنس ہے جسے بیچ کر منافع کمایا جاسکتا ہے-