23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

متحدہ مجلس عمل بحال

ایم ایم اے کے رہنما اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان متحدہ مجلس عمل کی میٹنگ کی صدارت کر رہے ہیں۔ فوٹو آن لائن

اسلام آباد: مختلف دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے لیکن دینی جماعتوں کے اتحاد میں اس مرتبہ جماعت اسلامی کو شامل نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں دینی جماعتوں کے سربراہ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، یہاں تک کہ نظریاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایم ایم اے کی تشکیل نو کی جارہی ہے، لیکن اس میں جماعت اسلامی شامل نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی نے اتحاد میں شمولیت کیلیے رابطہ کیا تو ان کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ دنی جماعتوں کے اس اتحاد میں اس دفعہ متحدہ مجلس عمل کی بانی جماعت جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ان کا تعلق نہ حکومت سے ہے نہ طالبان سے لیکن وہ ہر طرح کے فوجی آپریشن کے مخالف ہیں، خواہ وہ  پاکستان میں ہو یا افغانستان میں۔

دینی جماعتوں کے اس مشترکہ اجلاس میں اویس نورانی، قاری زوار بہادر، مفتی ابرار، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر،پروفیسر ساجد میر،علامہ ساجد نقوی اور دیگر مذہبی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

اسلام آباد دھرنے: حکومت اوراحتجاجی جماعتوں میں مذاکرات

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کے باعث موجودہ سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

ایل او سی خلاف ورزی: ہندوستان کو ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کی تجویز

قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر ہندوستان کے پاس سرحد پر دراندازی کے ثبوت ہیں تو پیش کرے۔

'پی ٹی آئی کے استعفے راتوں رات قبول نہیں ہوسکتے'

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ یہ استعفے عجلت میں قبول نہیں کیے جائیں گے، اس حوالے سے طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک گھریلوجھگڑا

افسوس ہے کہ پی ایم ایل اور پی ٹی آئی بے حسی سے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، جسکی وجہ سے فوجی اسٹبلیشمنٹ حرکت میں آرہی ہے۔

کچھ جوابات

وزیر اعظم کا اعلان کردہ کمیشن مسئلے سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھا دے گا۔

بلاگ

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔

مووی ریویو: گارڈینز آف گیلیکسی ایک ویژول ٹریٹ ہے

جو یادوں کے ایسے دور میں لے جاتی ہے جب ایکشن کے بجائے مزاح کسی کامک کا سرمایہ اور اسے بیان کرنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔