02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

متحدہ مجلس عمل بحال

ایم ایم اے کے رہنما اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان متحدہ مجلس عمل کی میٹنگ کی صدارت کر رہے ہیں۔ فوٹو آن لائن

اسلام آباد: مختلف دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے لیکن دینی جماعتوں کے اتحاد میں اس مرتبہ جماعت اسلامی کو شامل نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں دینی جماعتوں کے سربراہ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، یہاں تک کہ نظریاتی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایم ایم اے کی تشکیل نو کی جارہی ہے، لیکن اس میں جماعت اسلامی شامل نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی نے اتحاد میں شمولیت کیلیے رابطہ کیا تو ان کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ دنی جماعتوں کے اس اتحاد میں اس دفعہ متحدہ مجلس عمل کی بانی جماعت جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ان کا تعلق نہ حکومت سے ہے نہ طالبان سے لیکن وہ ہر طرح کے فوجی آپریشن کے مخالف ہیں، خواہ وہ  پاکستان میں ہو یا افغانستان میں۔

دینی جماعتوں کے اس مشترکہ اجلاس میں اویس نورانی، قاری زوار بہادر، مفتی ابرار، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر،پروفیسر ساجد میر،علامہ ساجد نقوی اور دیگر مذہبی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے پولیس فورس کو نفسیاتی دھچکا

ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو کے مظاہرین کے ہاتھوں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچنے سے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

سیاسی معاملات میں فوج کی مدد حاصل نہیں کریں گے، عمران خان

دوسری جانب پاک فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ وجودہ سیاسی بحران کے پیچھے نہیں ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔