30 جولائ, 2014 | 2 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

نوے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی،' سپریم کورٹ'

۔ — اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کی جانب سے نوے کی دہائی میں انتخابات سے قبل سیاست دانوں کو رقوم کی تقسیم کے حوالے سےسولہ سال تک زیر التوا رہنے والے اصغرخان کیس میں اپنا مختصر فیصلہ سنایا ہے۔ فیصلے کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ انیس سو نوے کے انتخابات میں کرپشن  اور دھاندلی ہوئی، اس کے لیے ایوان صدر میں ایک سیل بنایا گیا جس نے آئی جے آئی کی حمایت کی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ غلام اسحاق خان نے آئین کی خلاف ورزی کی تھی۔

تین رکنی بنچ نے  اس کیس کی سماعت کی ۔فیصلے میں کہا گیا ھے کہ رقم لینے والوں سے پیسہ،  منافع سمیت  واپس لیا جائے، یونس حبیب کے خلاف بھی کاروائی کی جائے اور آئی ایس آئی میں سیاسی سیل ختم کیا جائے۔

فیصلے کے مطابق صدر، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی الیکشن سیل قائم کرنےکےمجازنہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فوج اور آئی ایس آئی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔

عدالت نے کہا ہے کہ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کی تحقیقات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے کیا جائے۔

'انیس سو نوے میں ہونے والے عام انتخابات میں بدعنوانی اور کرپشن ہوئی تھی ۔ ایوانِ صدر میں 'الیکشن سیل' قائم کیا گیا تھا جس نے من پسند امیدواروں کی مالی مدد کی، من مانے نتائج کیلئے سیاسی جماعت اور گروہوں کو سپورٹ کرکے پاکستانی عوام کو ان کےمتعلقہ نمائیندوں کو منتخب کرنے سے روکا گیا۔' سپریم کورٹ
فیصلے میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت ریٹائرڈ جرنیلوں  اور یونس حبیب کےخلاف کارروائی بھی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ، اسد درانی کیخلاف کارروائی کا حکم دیا۔ ،

آج ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل عرفان قادر نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے اپنے دلائل میں عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

عرفان قادر کا الزام تھا کہ موجودہ عدلیہ حکومت کو غیرمستحکم کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج، آئی ایس آئی اور عدلیہ ماضی میں جمہوری حکومتیں گرانے میں شامل رہے اورعدالتیں فوجی مداخلت کی اجازت دیتی رہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ادارے شامل تھے’۔

اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصغر خان کیس پندرہ سال سے زیرالتوا رہا،اس کیس میں کارروائی میں تاخیر کی ذمہ دار عدلیہ ہے۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس افتخار نے ریمارکس دیے کہ صدر مملکت کو غیرجانبدار ہونا چاہئے، ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔

سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان تمام سیاستدانوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جنہیں مبینہ طور پر نوے کے انتخابات میں رقم فراہم کی گئی تھی جو انہوں نے انتخابات پر خرچ کی۔ اور ایف آئی ان تمام لوگوں کیخلاف شفاف تحقیقات شروع کرے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر عہدہ سیاسی ہے اور ان کے حلف میں سیاست میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے یہ بھی کہا کہ رقم کی تقسیم کا انکشاف نصیراللہ بابر نے کیا تھا، رقم تقسیم کرنے کاکام قومی مفاد کے نام پر ہوا۔

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ دیکھنا یہ ھے رقم تقسیم کرنے والوں پر زمہ داری عائد ھوتی ہے یا نہیں، جن پر رقم لینے کا الزام ھے انھیں بھی سنا جائے۔

دوران سماعت، چیف جسٹس نے کہا تھا کہ شہادتوں سے معلوم ہوا ہے کہ سیاستدانوں میں رقم ایوان صدر سے تقسیم ہوئی، بادی النظر میں ایوان صدر اس معاملے میں ملوث تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں صرف جمہوری عمل چلے گا، جمہوریت کو پٹری سے نہیں اترنے دیں گے، آئین میں سب سے بڑا عہدہ صدر کا ھوتا ھے، آئین میں وزیر اعظم کو نہیں بلکہ صدر کو ملک کا سربراہ کہا گیا ہے۔

درست فیصلہ ہوا، اصغر خان

مہران بینک اسکینڈل کو سپریم کورٹ میں لے جانے والے سابق ایئرچیف اصغرخان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے بالکل درست اور توقعات کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ بہت پہلے آجانا چاہئے تھا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اصفر خان کیس کا مختصر فیصلہ سنائے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اصغرخان نے کہا کہ حکومت کو اب مہران بینک اسکینڈل کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرنا چاہئے۔ جرم کرنے والا فوجی ہو یا سویلین اسے سزا ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ریٹائرڈ فوجیوں کیخلاف فیصلہ دیا گیا ہے۔۔

اصغرخان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فیصلے پر عمل نہ کرنا حکومت کیلئے ممکن نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف اسلم بیگ اور آئی ایس آئی سربراہ اسد درانی کیخلاف آئین کا آرٹیکل چھ لاگو ہوسکتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت نے واضح کردیا ہے کہ کوئی شخص کسی کے غیرآئینی حکم کے پیچھے چھپ نہیں سکتا۔۔

اس حصے سے مزید

انقلاب صرف جمہوریت کے ذریعے ہی آئے گا، وزیراعظم

نواز شریف نے احتجاج کرنے والوں کو کہا ہے کہ وہ سڑکوں پر آنے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔

اسلام آباد میں فوج کا معاملہ پارلیمنٹ میں

پی پی پی نے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کا حکومتی فیصلے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔

آرٹیکل 245 کا نفاذ: حکومتی اعلامیے کی نقل پیش کرنیکا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دارالحکومت میں آئین کے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے حکمنامے کی نقل پیش کرنے کا نوٹس جاری کردیا۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

جنگ اور ہوائی سفر

پرواز کرنے کا معجزہ، جو انسانی ذہانت کا خوشگوار مظہر ہے، انسان کے انتقامی جذبات اور خون کی پیاس کی نذر ہوگیا ہے

بلاگ

مووی ریویو: 'کک' صرف سلمان خان کی فلم نہیں

باصلاحیت اداکاروں کے ساتھ فلم بنا کر ساجد ناڈیا والا نے خود کو ایک قابل ڈائریکٹر منوا لیا ہے۔

عید پر انکو نہ بھولیں

رمضان میں انسانی ہمدردی کا جو جذبہ آپ کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اسے محض وقتی ابال ثابت نہ ہونے دیں-

کراچی کی قدیم عید گاہیں

سمجھا یہ جاتا ہے کہ کراچی کی پہلی عید گاہ بندر روڈ پر جامع کلاتھ مارکیٹ کے بالمقابل ہے لیکن تاریخی حقائق کچھ اور ہیں

ترغیب و خواہشات: رمضان کا نیا چہرہ؟

کسی مقامی رمضان ٹرانسمیشن کو لگائیں اور وہ سب کچھ جان لیں جو اب اس مقدس مہینے کے نئے چہرے کو جاننے کے لیے ضروری ہے