24 جولائ, 2014 | 25 رمضان, 1435
ڈان نیوز پیپر

افغانستان فضل اللہ کو حوالے کرے، پاکستان

وزیرِخارجہ حناربانی کھر۔ —فائل تصویر

اسلام آباد: اطلاعات کے مطابق پاکستان نےافغانستان میں روپوش پاکستان تحریک طالبان سوات کے چیف مولوی فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

فضل اللہ سوات میں فوجی آپریشن کے بعد افغان  صوبے کنڑ میں روپوش ہو گئے تھے۔

ٹی وی چینلز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے  یہ مطالبہ اتوار کی رات امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے پاکستان اور افغانستان مارک گراسمین کے ساتھ ایک ملاقات میں کیا  تھا۔

کھر نے گرامسین پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان پر مولوی فضل اللہ کو حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فضل اللہ پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان علاقے میں روپوش ہیں اور ان کے ساتھی وقتاً فوقتاً پاکستان کی دیر، چترال اور دوسرے علاقوں میں موجود فوجی چیک پوسٹوں پر حملے کرتے ہیں۔

ٹی وی چینلز کے مطابق وزیر خارجہ نے امریکی  نمائندے کو بتایا کہ فضل اللہ پاکستان میں سرحد پار حملوں میں مُلوث ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملالئے یوسف زئی پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اس حصے سے مزید

افغانستان کا پاکستان پر شدت پسند حملوں کی پشت پناہی کا الزام

ماضی میں بھی پاکستان ان الزامات کی ترید کرتا رہا ہے۔ افغان ترجمان نے اس حوالے سے کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیے۔

کابل: خود کش حملے میں تین غیر ملکی مشیر ہلاک

ابتدائی رپورٹس میں غیر ملکی مشیروں کی شہریت کے بارے تفصیلات موصول نہیں ہوسکی ہیں۔

'پاکستان، افغانستان ناکام ہوئے تو القاعدہ واپس آ جائے گی'

افغانستان میں کامیابی کا دارومدار پاکستان کی اپنی سرحدوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی پر بھی ہے، امریکی جنرل۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ایک عہد ساز فیصلہ

مذہب کا مطلب صرف بے لچک پن اور سخت گیری نہیں ہوتا، مذہبی آزادی میں ضمیر، خیالات، احساسات، عقیدہ سب شامل ہونا چاہئے-

بے وجہ پوائنٹ اسکورنگ

ہوسکتا ہے عمران خان پی ایم ایل-ن کی حکومت گرانا چاہتے ہوں لیکن کیا وہ واقعی ملک اور اسکے جمہوری اداروں کے لئے خطرہ ہیں؟

بلاگ

صحت عامہ کا بنیادی مسئلہ

سیاسی جماعتیں اپنے حامیوں کو محض نعرے لگوانے کے بجاۓ تعمیری سرگرمیوں کے لئے کیوں متحرک نہیں کرتیں؟

وزیرستان کے اکھاڑے سے

کشتی کا تو پتا نہیں اصلی ہے یا نہیں لیکن ہم نے ان پہلوانوں کو کسرت اکٹھے ہی کرتے دیکھا ہے۔

شکایتوں کا بن جو میرا دیس ہے

شکایتی ٹٹو زنده قوم کی نشانی ہوتے ہیں۔ مستقل شکایت کرتے رہنا اب ہماری پہچان بن چکا ہے۔

کھیلنے دو: گراؤنڈز کہاں ہیں؟

سیدھی سی بات ہے، ملائی تبھی زیادہ اور بہترین ہوگی جب دودھ زیادہ ہوگا-