19 اپريل, 2014 | 18 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

کارپوریٹ قربانی

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

گائے، بکری ہو کہ بیل آج کل اِن ہیں، اگر نگاہ اٹھا کر اوپر آسمان کی طرف دیکھیں تو بڑے بڑے بل بورڈز پر بیٹھے یہ جانور  آپ پر ہنس رہے ہوتے ہیں۔

ویسے یہ آپ جیسے چھوٹے موٹے سڑک چھاپ  پیدل  یا چھوٹی  چھوٹی گاڑیوں میں پھرنے والوں کے لیے نہیں جو ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ تو سڑک پر دوڑتی لینڈکروزر والوں کے لیے ہیں، جو جنت میں بھی جائیں گے تو لینڈ کروزر جیسے جانور پر بیٹھ کر کہ وہاں بھی انکے لیے سارا ٹریفک ایک طرف کھڑا ہوگا کہ صاحب گذر جائیں تو غریب غربا بھی آگے جاسکیں۔

اب کہ کارپوریٹ قربانی کا زمانہ ہے، جیسے ڈھگے ان گاڑیوں میں بیٹھے ہوتے ہیں، جن کےجسم پھول کر کپا ہوگئے ہیں، آنکھوں پر چربی چڑھی ہے اور توند ہے کہ قابو میں نہیں۔ یہ اور بات ہے کہ صاحب روز اپنے ایلیٹ جم بھی جاتے ہیں، تھوڑا پسینہ بہانے اور سوشلائیز کرنے کیلیے۔ کیونکہ وہاں ان جیسے اور بھی آئے ہوئے ہوتے ہیں اور پانچ دس گاڑیاں جم کے باہر بھی انکے محافظوں سمیت  انکی حفاظت کے لیےکھڑی رہتی ہیں۔ ایسے ہی جانور بھی آجکل بل بورڈز پر نظر آرہے ہیں۔ جن  کے تو بس نام ہی کافی ہیں۔

بادشاہ، انڈرٹیکر، عربین ہارس، وڈیرہ، جینٹلمین، ہینڈسم اور بلیک ٹائیگر پر بیٹھ کر آئینگے تو جنت کے دروازے  توکھلے ہی پائینگے۔

پہلے تو عید سے ایک دو دن پہلے سوچا جاتا تھا کہ کیا لینے جانا ہے۔ اب تو ایک مہینہ پہلے سے اخبارات   میں بڑے بڑے اشتہارات چھپ رہے ہیں کارپوریٹ قربانی کے۔ بکنگ بھی ہوچکی۔ آپ کو گھر بیٹھے اعلیٰ تعلیمیافتہ قصایوںکے ہاتھوں قربان ہونے والے جانوروں کا گوشت کارپوریٹ پیکنگ کے ساتھ آپ کے گھروں نہیں کوٹھیوں پر پہونچا دیا جائے گا۔

بل بورڈز پر تو جانور ہیں ہی۔ لیکن ویب اور فیس بک اور ٹویٹر پر بھی آپ کے لیے سب کچھ موجود ہے۔ آپ تکلیف کیوں کرتے ہیں۔ اب جب ہر کام آن لائن ہو رہا ہے، پیار محبت اور دوستی دشمنی سے لیکر  دین پھیلانے اور انقلاب لانے تک تو  آپ قربانی بھی آن لائن  ہی کریں۔

جانور بمع اپنے نام اور خصوصیات ویب پر موجود ہیں، تصویر بھی دو تین اینگل سے لی گئی ہیں۔ ویب سائیٹ نہیں مل رہی تو کوئی بات نہیں، فیس بک تو ہے نا! اپنے اہلِ خانہ سمیت  جانورپسند فرمائیں۔ کلک کریں لائیک کریں۔ قیمتیں بھی مناسب ہیں، آپ کی حیثیت کے مطابق، ہزاروں سے لاکھوں میں ہیں۔ساڑھے چار لاکھ تک کا بیل تو میں نے بھی دیکھا، کچھ کی قیمت کی جگہ فائیو اسٹار لگے ہیں، اسکے لیے آپ کو فون کرنا پڑیگا۔

آپ پیمینٹ بھی آن لائن کرسکتے ہیں۔ آپ اپنی سہولیت سے روپے، پاؤنڈ اور ڈالرز میں  بھی رقم کی ادائیگی کرسکتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ، بینک ٹرانسفر  یا پھر پےپال جو بھی آپ کا دل چاہے۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

آپ کے ایمان کو تازہ کرنے کے لیے جسٹس مفتی تقی عثمانی کا کریڈٹ کارڈ کے اسلامی استعمال کے بارے میں فتوا بھی موجود ہے۔ اس لیےگھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ دھول ، مٹی اور گوبر کی بو سے بچیں اور اپنا قیمتی وقت بھی بچائیں۔ اپنے ایئرکنڈیشنڈ روم میں بیٹھ کر کافی انجوائے بھی کریں توآن لائن خریداری  بھی کریں۔

کیٹل فارمز کی کئی ویب سائیٹس موجود ہیں۔  کچھ نا بھی سمجھ میں آئے تو اپنا فیس بک تو ہے ہی۔ لاگ اِن کریں جانور ہی جانور ہیں، اپنی پسند کا جانور اپنی حیثیت کے مطابق آرڈر کریں۔ گھر بیٹھے قربانی کے مزے اڑائیں۔  باقی ثواب تو  ویسے بھی یار لوگ آجکل فیس بک سے ہی کما رہے ہیں۔

کوئی بھی اسلامی پوسٹ کرکے باقیوں کو بتا دیتا ہے کہ  اس پر لائیک کرکے ری پوسٹ کرینگے تو  ڈھیروں ثواب ملے گا۔ سب ثواب کمانے میں لگے ہوئے ہیں۔ موبائیل پر تو یہ کام کب سے چل رہا تھا  کہ یہ میسیج دس لوگوں کو فارورڈ کریں توآپ کے ثواب میں اضافہ اور گناہوں میں کمی ہوگی، لیکن فیس بک پر ثواب کی گنجائش  کچھ زیادہ ہی ہے ۔

ویسے بچارے بکرے کو کیا معلوم کہ اسکی تصویر بھی فیس بک پر لگی ہے اور بھائی لوگ اسے لائیک پر لائیک کر رہے ہیں۔ لیکن اب بات تصویر سے بھی آگے نکل گئی ہے۔ اب تو قربانی کی مووی بنتی ہے۔ گھروں  میں بیٹھ کے دکھائی اور دیکھی جاتی ہے۔  اور یوٹیوب، وہ تو قربانیوں کی موویز سے بھرا ہوا ہے، خون میں لت پت جانور کو دیکھ کر انہیں کونسی تسکین ملتی ہے وہ تو دیکھنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔

میں تو ایک بار قربانی والی عید کے دن بچوں کو لے کر نکلا کہ قریب کی دکان سے کوئی چیز دلا دیتا ہوں تو سامنے والی گلی میں قربانی ہورہی تھی اور وہ بھی اونٹ کی۔ اونٹ بے چارہ خون میں لت پت زمین پر لٹا پڑا تھا اور  لوگوں کا اژدہام اسکے اردگرد جمع تھا اوربھائی لوگ مووی  بھی بنا رہے تھے۔ میں نے تو  فورا گلی  ہی بدل لی کہ کہیں یہ منظر بچوں کےمعصوم ذہنوں میں نا رہ جائے۔

لیکن اب کیا کروں کہ یہ نا صرف جانوروں کی قربانی کی فلمیں یو ٹیوب پر پوسٹ کرتے ہیں۔ اب تو انسانوں کو ذبح کرکے فلمیں بھی پوسٹ کردیتے ہیں اور پھر یوٹیوب پر پابندی بھی ان ہی لوگوں نے توڈلوائی ہے۔

کارپوریٹ قربانی کے چکر میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ  ہمارے ارد گرد بھی قربانی ہونے والی ہے۔ جو لوگ بے چارے اس مہنگائی کے دور میں مرغی قربان کرنے کے لائق بھی نہیں رہے   انہیں بھی توپل صراط پار کرنی ہوگی۔

وہ لوگ بچارے کیا کریں جو دو چار ہزار میں بکرا لے آتے تھے ان کے لیے تو اب بہت ہی مشکل ہوگئی ہے۔ بکرے بھی دس سے اوپر ہی ملتے ہیں۔اب حصہ بھی ڈالنا ہے تو گائے بیل میں بکرے کا تو حصے داری میں کوئی ذکر بھی نہیں۔ حصہ لینے کے بینرز بھی جگہ جگہ نسب ہیں۔

اب تو جو پہلے صرف کھال پر اپنا حق جتاتے تھے انہوں نے بھی مدرسوں کے دیکھا دیکھی قربانی میں حصےدار بننے کے بینرز لگا دیے ہیں۔ آپ کی کھال تو بعد میں کھینچیں گے، پہلے تو آپ قربانی میں حصےدار بنیں۔ باقی گوشت تو آپ کو گھر بیٹھے مل جائے گا۔

کیوں آپ قصایوں کے چکر میں پڑتے ہیں۔ انکے اپنے اور سالوں کے تجربےکار قصائی تو موجود ہی ہیں ۔آپ بس اپنے حصے کے پیسے دے دیں، باقی خیر ہے۔ اطمینان سے رہیں آپ کو پل صراط بھی پار کروا دینگے۔

ان دنوں چاقو چھروں اور گھاس پھونس کے ساتھ ساتھ  ڈیپ فریزر اور فرج کی خریداری بھی زوروں پر ہے۔ ساری گاڑیوں کا رخ یا تو منڈیوں کی طرف ہے جو شہر بھر کی سڑکوں بازاروں یا گلی کوچوں میں قائم کردی گئی ہیں یا پھر انکا رخ ڈیپ فریزر بیچنے والی دکانوں کی طرف ہے۔

یہ غریب وریب کیا چیز ہوتی ہے، انکے لیے تو چھیچھڑے اور اوجڑی کافی ہے۔ ہم تو بھئی فریز کرینگے اور آپ کو تو معلوم ہی ہے یہ جو روسٹ کروانے اور ہنٹر بیف بنوانے کے بینرلگے ہیں کہ گوشت آپ کا ذائقہ ہمارا، وہ  بھی تو ہمارے لیے ہی ہیں نا۔ اب عید پر بھی گوشت انجوائے نہیں کرینگے تو کب کرینگے۔

بس مجھے صرف یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ یہ جو غریب غربا ہیں، جن کے نصیب میں یہی چھیچڑے اور اوجڑیاں ہیں۔ جن بے چاروں کی کھال تو پہلے ہی اتارلی گئی ہے۔ اب ہزار دو ہزار میں تو کسی کےحصےدار بننے سے رہے۔ وہ کس جانور پر بیٹھ کر پلصراط پار کرینگے۔

السٹریشن -- خدا بخش ابڑو

مالدار تو عمرے اور حج کرکے اپنے گناہ بھی بخشواکر پھر سے نئے بن کر آجاتے ہیں  اوربڑے  بڑے اپنے جیسے مشٹنڈے جانوروں کی قربانی کر کےاپنے پل صراط پار کرنے کا بندوبست بھی کرلیتے ہیں ۔لیکن یہ جو مسکین ہیں وہ  وہاں  بھی کیا نیچےکھڑے انکے پل صراط پار کرنے کا نظارہ ہی کر رہے  ہونگے؟


وژیول آرٹس میں مہارت رکھنے والے خدا بخش ابڑو بنیادی طور پر ایک سماجی کارکن ہیں۔ ان کے دلچسپی کے موضوعات انسانی حقوق سے لیکر آمرانہ حکومتوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ڈان میں بطور الیسٹریٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اس حصے سے مزید

'دہشت گردی ختم کیے بغیر مضبوط دفاع کا قیام ناممکن'

مضبوط معیشت اور دہشت گردی ختم کیے بغیر ملکی دفاع کا قیام ناممکن ہے،وزیر اعظم کا کاکول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب

معروف صحافی حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی

سینئر صحافی اور مایہ ناز ٹیلی ویژن اینکر پرسن حامد میر قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے، حالت خطرے سے باہر۔

'سپریم کورٹ نے جمہوریت کو سہارا دینا سیکھا'

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے آئین شکنی کی روایت ختم کرکے سماجی کردار وسیع کیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

Raza
25 اکتوبر, 2012 14:09
Assalamu Alaikum khuda bux abro ap na bhot hi acha lekha hai mujeh bhot pasand Aaya our hansi bhi. Wesa bhi ap ka har blog bhot acha hota hai. EID MUBARK
Raza
25 اکتوبر, 2012 14:12
Assalamu Alaikum khuda bux abro ap na bhot hi acha lekha hai mujeh bhot pasand Aaya our hansi bhi. Wesa bhi ap ka har blog bhot acha hota hai. EID MUBARAK
MUHAMMAD ALI SURHIO JACOBABAD
26 اکتوبر, 2012 04:58
Abro Sb ap ne bohat achi tanqid ki or sath sath aina b dikha diya. EID MUBARAK.
Sohail Sangi
26 اکتوبر, 2012 05:42
Abro with wit and satire is also "in". Very nice piece
مقبول ترین
بلاگ

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے

2 - پاکستان کی شہری تاریخ ... ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا

بھٹو حکومت کے ابتدائی سالوں میں قوم کا مزاج یکسر تبدیل ہو گیا تھا، کیونکہ ملک ایک نئے پاکستان کی طرف بڑھ رہا تھا-

دو قومی نظریہ اور ہندوستانی اقلیتیں

دو قومی نظریہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں تو تفریق کرتا ہے لیکن دیگر اقلیتوں، خاص کر دلتوں کو یکسر فراموش کرتا ہے۔

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔