28 اگست, 2014 | 1 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

وزیر اعلیٰ بلوچستان پر اراکین کا اعتماد

وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو آن لائن۔۔۔۔۔۔

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اراکین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، اجلاس میں کئی اراکین نے صوبائی حکومت پر تنقید کی تاہم چھیالیس حاضر اراکین نے نواب اسلم رئیسانی کے حق میں تحریک اعتماد منظور کرلی۔

بلوچستان اسمبلی کے 65 اراکین کے ایوان میں چھیالیس اراکین نے نواب اسلم رئیسانی کے حق میں تحریک اعتماد منظور کی۔

تحریک سید احسان شاہ نے پیش کی اور اراکین نے کھڑے ہوکر وزیراعلیٰ کے حق میں تحریک کو منظوری دی۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس  قائم مقام اسپیکرمطیع اللہ کی زیرصدارت میں شروع ہوا تو پینسٹھ اراکین کے ایوان میں سے چھالیس موجود تھے، اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے صوبے میں امن وامان سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں امن وامان کی صورتحال خراب اور عوام کو پریشان کن صورتحال کا سامنا ہے۔

اس دوران مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی پر اعتماد کا اظہار کیا۔

سینئر صوبائی وزیر مولانا واسع نے کہا کہ بلوچستان کو اندورنی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے جس کے باعث صوبے میں امن وامان کی صورتحال ابتر ہے۔

اے این پی کے پارلیمانی لیڈر مرک اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے امن نہیں آئے گا، امن وامان کے لئے وفاق ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاملات حل کرے جس کے بعد ہی بلوچستان میں امن آئے گا۔

بی این پی عوامی کے پارلیمانی لیڈر سید احسان شاہ نے کہا بلوچستان میں پرانا کھیل کھیلا جارہا ہے، عدالتی حکومت کو جواز بنا کر بعض قوتیں بلوچستان کے خلاف سازشیں کررہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہمیشہ مختلف ہیلے بہانوں سے حکومتیں ختم کی گئی ہیں اور اگر بلوچستان حکومت ختم کی گئی تو کوئی اور حکومت بھی نہیں رہے گا۔

مسلم لیگ ن کے خالد اچکزئی نے کہا ک بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی نہیں بلکہ نواب رئیسانی کی حکومت ہے۔

صوبائی وزیرعین اللہ شمس کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ اور فوج اپنی حدود سے نکل جائیں تو ان پر تنقید کی جاسکتی ہے، اگرمسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں تواس میں ادارے ملوث ہیں، صوبائی حکومت کیا کرے، سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں اداروں کو نامزد کیا ہے اور سیکیورٹی ادارے وفاق کے زیر اختیار ہیں۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی نے مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بلوچستان حکومت کے خلاف  سازش کی وہ قابل مذمت ہیں۔

اس حصے سے مزید

مستونگ: نیٹو ٹینکرز پر حملہ

پولیس کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔

اکبر بگٹی کی برسی پر بلوچستان میں ہڑتال

ہڑتال کے موقع پر امن و امان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے۔

مستونگ: صوفی بزرگ کے مزار پر دھماکا

شیخ تقی کے مزار میں شدت پسندوں نے دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا، عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے، ایک خاتون زخمی ہوئی ہیں۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (2)

انور امجد
13 نومبر, 2012 22:59
دنیا میں کہیں بھی عدلیہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ عوام کی منتخب کی ہوئی حکومت کو کارکردگی کا بہانا بنا کر ختم کرنے کا حکم دے۔ عدلیہ کے جج ان عہدوں پر اپائنٹ کئے جاتے ہیں اور وہ عوامی نمائندے نہیں ہوتے۔ ملک میں جمہوری طور سے منتخب کی ہوئی پارلیمنٹ موجود ہے اور حکومتی مسائل ان کو حل کرنا چاہیے۔ جب تک وزیر اعلٰی بلوچستان کو عوامی نمائندوں کی حمائت حاصل ہے ان کی حکومت قائم رہنی چاہیے۔ اس وقت جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
بولان کاکڑ ، کوئٹہ جنوبی پشتونخوا
14 نومبر, 2012 04:02
چھیالیس چوروں نے ڈاکو پر اعتماد کیا ہے اور عدالتی حکم کا مذاق اڑھا یا ہے عوام کو تو ان پر اعتماد نہیں ہے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

متوازی سیاست

بعض لحاظ سے ان میں اور ان لوگوں میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے جنھیِں وہ ہٹانا چاہتے ہیں-

انتخابی اصلاحات کی فوری ضرورت

پاکستان میں انتخابی عمل کوشفاف اور غیر متنازعہ بنانے کے لیے انتخابات کے آٹھ شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

بلاگ

پاکستان کی نوجوان نسل اور غیرت بریگیڈ

"فحاشی" ایک دماغی بیماری ہے جس کا شکار ذہن عورت کو گھر کی دہلیز سے باہر دیکھ کر شدید 'صدمے' کا شکار ہو جاتا ہے۔

ڈی چوک، گدھا اور نا تجربہ کار حجام

آپ کے لیڈر رہیں یا چلے جائیں، یا رسی سے گدھا بندھا ہو یا نہیں، لیکن کسی نا تجربہ کار شخص کو اپنی حجامت مت بنانے دیجئے گا

دھرنے بمقابلہ جمہوریت

جمہوریت میں ہر بندے کی رائے برابر کی اہمیت رکھتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سیاست دان بھی منتخب ہوجائیں، جو لیڈرشپ کے قابل نہیں۔

آزادی کے سائیڈ افیکٹس

اس قوم کا مزید آزادی کی بات کرنا بہت حیران کن ہے۔ یہ قوم تو آزادی کے سائیڈ افیکٹس کا شکار ہے۔