17 ستمبر, 2014 | 21 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

رمشاء مسیح کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم

رمشہ لو لے جاتے ہوئے۔ اے ایف پی فوٹو

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمشاء مسیح کے خلاف مقدس اوراق کی توہین کیے جانے سے متعلق درج کی جانے والی ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

رمشاء مسیح کیس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن نے پولیس کو رمشاء مسیح کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رمشاء مسیح پرقرآنی اوراق جلانے کا الزام لگایا گیا تھا، تاہم کسی نے رمشاء کو مقدس اوراق کی توہین کا مرتکب ہوتے نہیں دیکھا۔

چشم دید گواہ سامنے نہ آنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے پولیس کو حکم دیا کہ رمشاء مسیح کےخلاف مقدس اوراق نذرآتش کیے جانے سے متعلق درج ایف آئی آر فوری طور پر خارج کی جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے نواحی گاؤں کی رہائشی رمشا کو سولہ جولائی کو ایک مقامی شخص کی شکایت پر پولیس نے توہین مذہب کے قانون کے تحت گرفتار کیا تھا۔

سات ستمبر کو عدالت نے رمشا کو پانچ پانچ لاکھ کے دو مچلکوں پر اڈیالہ جیل سے ضمانت پررہا کرنے کا حکم دیا۔

آٹھ ستمبر رہائی کے بعد رمشا کو سخت حفاظتی نگرانی میں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اس حصے سے مزید

عمران خان کو این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ تک رسائی دینے کا فیصلہ

لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے عمران خان کو شکست دی تھی۔

وزیراعظم کیخلاف پی اے ٹی کے دو کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج

مقدمے میں وزیراعلیٰ پنجاب، وزیرداخلہ، وزیر ریلوے، آئی جی اسلام آباد اور دیگر اعلٰی سرکاری حکام کو نامزد کیا گیا ہے۔

دفعہ 144 کے تحت درج مقامات ختم کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقامات خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ماورا قانون اقدام کی اجازت نہیں سکتی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Riyaz
30 جون, 2013 19:02
كیا میں پوچ سكتا ہوں كہ وہ امام جو اس لڑكی پر جہوتا الزام لگایا تہا ، مطلب حافظ محمد خالد چشتی كو كیا ہوا ؟ وہ اب كہاں ہے؟ اور كیا كر رہا ہے ؟ اور كس اور بیگناہ پر الزام لگانا چاہتا ہے ؟ كیا اس كو اس كی جہوت كی الزام كی سزا ملے گی كہ نہیں ؟ كیا اس جہوتا امام ابہی بہی كسی مسجد میں نماز اور خطبہ دیتا ہے كہ نہیں ؟ اللہ ہم كو ایسا جہوتا اماموں سے بچا كے ركہے
سروے
مقبول ترین
قلم کار

مزید جمہوریت

نظام لپیٹ دینے اور امپائر کی باتیں کرنے کے بجائے ہمارا مطالبہ صرف مزید جمہوریت ہونا چاہیے، کم جمہوریت نہیں۔

تبدیلی آگئی ہے

ملک میں شہری حقوق کی عدم موجودگی میں عوام اب وسیع تر بھلائی کا سوچنے کے بجائے اپنے اپنے مفاد کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

بلاگ

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

ماضی ہو یا حال، اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بدعنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حیثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔

کراچی میں فرقہ وارانہ دہشتگردی

کراچی ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور روزانہ کوئی نہ کوئی بے گناہ سنی یا شیعہ اپنی جان گنوا رہا ہے۔

اجمل کے بغیر ورلڈ کپ جیتنا ممکن

خود کو ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کہنے والے ہمارے کرکٹ حکام کی پوری باؤلنگ کیا صرف اجمل کے گرد گھومتی ہے۔

کریچر - تھری ڈی: گوڈزیلا یا ڈیوی جونز کا کزن؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا بپاشا ہارر تھرلرز تک محدود ہوگئی ہیں جبکہ عمران عبّاس نے انکے گرد چکر کاٹنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔