23 اگست, 2014 | 26 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

کراچی: فائرنگ کے واقعات میں دو افراد ہلاک

۔ فائل تصویر
۔ فائل تصویر

کراچی: کراچی میں فائرنگ اور پر تشدد واقعات میں بدہ کے روز مسجد کے پیش امام سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

 نیوکراچی کے علاقے تین نمبر پر مسلح دہشت گرد اسلامیہ مسجد میں داخل ہوئے اور پیش امام مولانا احسن رشید کو گولیوں کا نشانہ بنایا تاہم فرار ہوتے ہوئے ایک ملزم کوعلاقہ مکینوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

  دوسری جانب شاہراہ قائدین پر کار کے شوروم پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تنویر بنگش کی نماز جنازہ  نمائش چورنگی پر ادا کر دی گئی ہے۔

 پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ ہے۔

 اس سے قبل بوٹ بیسن کے علاقے میں بینک سے رقم لے کر نکلنے والے دو سکیورٹی گارڈز سے مسلح ملزمان نے لوٹ مار کرنی چاہی جس پر مزاحمت کرنے پر ایک گارڈ محمد فیروز کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

 ملزمان تیرہ لاکھ روپے کی رقم لوٹ کر فرار ہوگئے۔

 پولیس کے مطابق واردات میں ساتھی سیکیورٹی گارڈ کے ملوث ہونے کاشبہ ہے جس پر تفتیش جاری ہے۔

اس حصے سے مزید

کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں 5 افراد ہلاک

ایک مزار پر فائرنگ سے سجادہ نشین سید ذاکر حسین شاہ، اور متولی یونس اور نواز موقع پر ہی ہلاک ہوگئے.

الطاف حسین کو دھرنوں کے مقامات پر صفائی کے فقدان پر تشویش

انہوں نے حکومت اور دھرنے دینے والی جماعتوں کے رہنماوٴں پر زور دیا کہ خدارا وہ صرف فوٹو سیشن کے لیے مذاکرات نہ کریں۔

'ہمارے معاشرے میں تشدد کو سماجی منظوری حاصل ہے'

کراچی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے زیراہتمام ایک کانفرنس کے مقررین نے معاشرتی رویوں پر تنقیدی سوالات اُٹھائے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

حسین عبداللہ
05 دسمبر, 2012 15:23
دیکھئے اسلامیہ مسجد سے جس حملہ آور کو پکڑاگیا ہے اس کی شناخت بتارہی ہے کہ یہ فرقہ واریت نہیں بلکہ صرف دہشت گردی ہے جس کے پیچھے سیاسی جماعتوں کے ڈیٹھ اسکواڈ اور مذہبی مخصوص تشریح رکھنے والے ہیں جیسے طالبان القاعدہ جھنگوی
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ڈرامے کی آخری قسط

اب اس آخری میلوڈرامہ کا جو بھی انجام ہو- اس نے پاکستانیوں کی آخری ہلکی سی امید کوبھی ریزہ ریزہ کردیا ہے-

پی ٹی آئی کی خالی دھمکیاں

جو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، وہ حقیقت سے دور ہیں۔ ایسا کوئی راستہ موجود نہیں، جس سے پارٹی اپنی ان دھمکیوں پر عمل کر سکے۔

بلاگ

سیاست میں شک کی گنجائش

شکوک کے ساتھ ساتھ ان افواہوں کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ عمران خان اور طاہرالقادری اصل میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

پکوان کہانی : شاہی قورمہ

جو اکبر اعظم کے شاہی باورچی خانے کی نگرانی میں راجپوت خانساماؤں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔

دفاعی حکمت عملی کے نقصانات

مصباح کے دفاعی انداز کے اثرات ہمارے جارحانہ انداز رکھنے والے بیٹسمینوں پر بھی پڑے ہیں

پاکستان ایک "ساس" کی نظر سے

68 سالہ جین والر کو پاکستان بہت پسند آیا، اتنا زیادہ کہ بقول ان کے مجھے پاکستان سے محبت ہوگئی ہے۔