02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

جی ایچ کیو حملے کے مجرمان کی سزا برقرار

دس اکتوبر 2009 کو جی ایچ کیو پر کیے گئے حملے میں گیارہ فوجی ہلاک جبکہ نو حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ فائل فوٹو۔۔۔

اسلام آباد: ملٹری اپلیٹ کورٹ نے جنرل ہیڈکوارٹر (جی ایچ کیو) حملے میں ملوث مجرموں کی سزا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر عقیل عرف عثمان کی سزائے موت سمیت تمام مجرمان کی سزا برقرار رکھی ہے۔

جی ایچ کیو حملہ کیس میں ملٹری کورٹ نے سات ملزمان کو 14 اگست 2011 کو سزا سنائی تھی جس میں ڈاکٹر عقیل عرف عثمان کو سزائے موت ہوئی تھی جبکہ عمران صدیق کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دیگر ملزمان میں خلیق الرحمان، محمد عثمان  اور واجد محمود کو پچیس، پچیس برس جبکہ محمد عدنان اور طاہر شفیق کو بالترتیب سات اور آٹھ سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ملزمان نے فیصلے کیخلاف ملڑی اپیلٹ کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاہم اپیلیٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں ساتوں مجرموں کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی ہے۔

دس اکتوبر 2009 کو دس مسلح ملزمان نے راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹر(جی ایچ کیو) پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں گیارہ فوجی اور تین شہری جنہیں یرغمال بنا لیا گیا تھا، ہلاک ہو گئے تھے، فوج کی جوابی کارروائی میں نو حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عثمان اپاکستان آرمی کی میڈیکل کورپس میں سپاہی تھے جبکہ عمران صدیق آرمی کے ریٹائرڈ فوجی تھے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔

کچرہ چننے والوں کی زندگی میں عارضی انقلاب

شاکر جان کی خواہش ہے کہ مظاہرین ڈی چوک پر ہمیشہ موجود رہیں، جن کی وجہ سے اس کے لیے روزی کمانا آسان ہوگیا ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔