17 اپريل, 2014 | 16 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

صدر کی ملالئے سے ہسپتال میں ملاقات

ملالہ یوسفزئی جسے اکتوبر میں تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں نے اسکول بس میں نشانہ بنایا تھا۔ فائل فوٹو۔۔۔
ملالہ یوسفزئی جسے اکتوبر میں تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں نے اسکول بس میں نشانہ بنایا تھا۔ فائل فوٹو۔۔۔

کراچی: صدر آصف علی زرداری اور ان کی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری نے برمنگھم میں ملالئے یوسف زئی سےملاقات کی اوران کی خیریت دریافت کی۔

 ڈان نیوز کے مطابق، صدر زرداری کا کہنا تھا کہ قوم ملالئے کی بہادری پر فخر کرتی ہے، وہ دہشتگردوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئیں۔

 صدر نے کہا کہ دہشتگردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ملالہ قوم کا عزم بن کر ابھری ہیں۔

 صدر زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے ملالئے کو پاکستانی قوم کی نیک تمناؤں کاپیغام بھی پہنچایا۔

 واضح رہے کہ نو اکتوبر کو ملالئے یوسفزئی اسکول سے گاڑی میں روانہ ہوئیں تو گھات لگائے ملزمان نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے ملالہ سمیت دو طالبات زخمی ہوگئیں تھیں۔

 اس حملے کے کچھ دیر بعد پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) نے ڈان کے نمائندے سے گفتگو میں  ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔

 ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملالہ کو طالبان مخالف پروپیگنڈا کرنے اور سیکولر خیالات کو فروغ دینے پرنشانہ بنایا گیا ۔

اس حصے سے مزید

خیبرپختونخوا میں پولیو مہم فوج کے سپرد

وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر خیبر پختونخوا میں پولیو کے خاتمے کی مہم پاک فوج کے سپرد کردی گئی۔

چیئرمین پیمرا، واپڈا عہدوں سے فارغ

وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا سے استعفیٰ لیکر ظفر محمود کو نیا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔

ڈی جی خان میں حادثہ، 13 افراد ہلاک

مخالف سمت سے آنے والی دو بسیں بس سٹینڈ پر کھڑے لوگوں پر چڑھ گئیں جس کے نتیجے ہلاکتیں پیش آئیں۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

میڈیا کے چٹخارے

پاکستانی میڈیا کو جتنی زیادہ آزادی ہے اسکی اپروچ اتنی ہی جانبدارانہ ہے، عوام کی پولرائزیشن میں میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

ٹی ٹی پی نہیں تو پھر مذاکرات کیوں؟

عام آدمی کو صرف تحفظ چاہئے اور اگر مذاکرات یہ نہیں دے رہے تو ان کو مزید آگے بڑھانے سے کیا حاصل؟