23 اپريل, 2014 | 22 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

پاکستان کیجانب سے انٹیلجنس سربراہ حملہ کے الزام کی تردید

افغانستان کے صدر حامد کرزئی۔ فائل فوٹو اے پی۔

اسلام آباد: پاکستانی دفتر خارجہ نےافغان صدر حامد کرزئی کیجانب سے انٹیلی جنس چیف اسداللہ خالد پرحملے کی منصوبہ بندی کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

ہفتہ کے روز دفتر خارجہ ایک ترجمان نے افغان صدر کی جانب سے لگائے گئے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو الزامات کی بجائے اپنی سیکورٹی کوتاہیوں کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

اس سے قبل، صدر حامد کرزئی نے الزام لگایا تھا کہ افغان انٹیلی جنس کے سربراہ اسد اللہ خالد پرحملہ کی منصوبہ بندی پاکستان کے شہر کوئٹہ میں کی گئی۔

ایک پریس کانفرنس سے بات چیت میں کرزئی نے پاکستان پر براہ راست الزام لگانے سے گریز کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر اسلام آباد سے بات کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان اس مجرمانہ حرکت کی تحقیقات پر تعاون کیلیے تیار ہے۔ تاہم اس قسم کی الزام تراشی مناسب نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر افغان حکومت الزام تراشی سے پہلے  پاکستان سے معلومات کا تبادلہ کرلیتی۔

نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی(این ڈی ایس) کے سربراہ خالد پر جمعرات کو کابل کے  وسطی علاقے تائیمان میں خود کش حملہ کیا گیا تھا۔

افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن کرزئی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند کابل کے وسط میں اس طرح کی کارروائی نہیں کر سکتے۔

اس حصے سے مزید

افغان انتخابات: ابتدائی نتائج میں عبداللہ عبداللہ پہلے نمبر پر

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ان نتائج کے مطابق اشرف عنی دوسرے اور زلمے رسول تیسرے نمبر پر ہیں۔

'پاک - افغان پراکسی وار دوبارہ شروع ہوسکتی ہے'

امریکی اخبارات نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد پاکستان اور افغانستان پراکسی جنگ کا آغاز کرسکتے ہیں۔

افغان صدارتی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

پاکستان سمیت دنیا بھر نے افغانستان میں صدارتی انتخابات کی تکمیل کا خیرمقدم۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

!مار ڈالو، کاٹ ڈالو

مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس پر شدید غصہ آ رہا ہے اور میں اسے سچ بولنے پر چیخ چیخ کر ڈانٹنا چاہتا ہوں-

خطبہء وزیرستان

کس سازش کے تحت 'آپکو' بدنام کرنے کے لئے دھماکے کیے جاتے ہیں؟ کس صوبے کے مظلوم عوام آپکے بھائی ہیں؟

مووی ریویو: ٹو اسٹیٹس

عالیہ بھٹ کی بے ساختہ اداکاری نے اپنے اب تک بے شمار مداح پیدا کرلئے ہیں حالانکہ یہ ان کی تیسری فلم ہے۔

بیچارے مولانا حالی اور صحافت

'صحافت' لفظ کی طاقت کا بے جا استعمال نہیں بلکہ محرومیت کے شکار لوگوں کو طاقت بخشنا ہے