02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

بینظیر قتل کیس: امریکی شہری مارک سیگل کے سمن جاری

فائل فوٹو۔۔۔

راولپنڈی:آج اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں سماعت ہوئی۔

دوران سماعت عدالت نے امریکی شہری مارک سیگل کو طلبی کے سمن جاری کردیے۔

عدالت نے مارک سیگل کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ پانچ جنوری دوہزار تیرہ کو ذاتی طور پر حاضر ہو کر اپنا بیان قلمبند کرائیں۔

جج نے استغاثہ کے دیگر پانچ گواہان پروفیسر ڈاکٹر مصدق، انچارج ون ون ٹو ٹو ڈاکٹر عبدالرحمان، ایس ایس پی یاسین فاروق، ایس پی اشفاق انور کو بھی طلبی کے سمن جاری کیے۔

آج کی سماعت میں وکلائے صفائی اور استغاثہ نے گواہوں مجسٹریٹ احمد مسعود جنجوعہ اور ایس ایچ او سٹی اعجاز شاہ پر جرح مکمل کی۔

کیس کی مزید سماعت بائیس دسمبر کو ہوگی۔

اس حصے سے مزید

'وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جائے'

لاہور ہائی کورٹ نے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

عالمی ادارے کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے بھرپور عزم کا مطالبہ

پولیو کی نگرانی کرنے والے بورڈ آئی ایم بی پی نے وزیراعظم کے پولیو سیل کو خیالی جنگ میں مصروف ادارہ قرار دیا تھا۔

اسلامک اسٹیٹ اسلام کے خلاف ہے: پاکستان علماء کونسل

کونسل نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کو فروغ دینے والی آئی ایس جیسی انتہاء پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار نہ کریں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟