02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشتگرد ہلاک

اتوار کی صبح پاک فوج کے جوان پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب موجود ہیں۔ واضح رہے رات کو دہشگردی کی کارروائی میں ملوث مزید پانچ دہشتگردوں کی پولیس سے چھڑپیں ہوئی ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی
اتوار کی صبح پاک فوج کے جوان پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب موجود ہیں۔ واضح رہے رات کو دہشگردی کی کارروائی میں ملوث مزید پانچ دہشتگردوں کی پولیس سے چھڑپیں ہوئی ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی

پشاور: پشاور کے علاقے پاوا کئی میں پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ دو دہشتگردوں نے فرار کا راستہ نہ ملنے پر خود کو اڑا لیا۔

اس آپریشن میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

سی سی پی او پشاور، امتیاز الطاف کے مطابق دہشتگردوں کیخلاف آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔

ان کے مطابق دو دہشتگرد حلیے سے ازبک دکھائی دیتے ہیں ۔۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو انہوں نے بتایاکہ پاؤکہ کے علاقے سے دو مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق دیشت گردوں نے گھر میں مورچہ بند ہوکر پولیس پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے بعد پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئ۔

ڈان نیوز کے مطابق دہشتگردوں نے ایک گھر میں موجود مکین کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔

پولیس کمانڈوز اور ریپڈ فورس کے اہلکاروں کے علاوہ پاک فوج کے دستوں نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور سرچ آپریشن مکمل کیا۔

عسکری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچوں دہشت گرد ازبک تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد جدید اسلحے سے لیس تھے۔

خیبر پختونخواہ  کے وزیرِ اطلاعات، میاں افتخار کے مطابق اس واقعے کا تسلسل رات کو ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے سے ہے۔   یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے رات کے وقت پشاور ائیرپورٹ پر حملہ کیا تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔

ڈان نیوز سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ ایرپورٹ حملے میں دس دہشتگرد شامل تھے جن میں سے پانچ فرارہونے کی کوشش میں پاؤکئی میں داخل ہوئےاور ایک زیرتعمیرعمارت میں پناہ لے لی تھی۔

میاں افتخار کے مطابق پولیس کی سخت نفری کی وجہ سے دہشتگرد فرار نہ ہوسکے اور ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک گھر میں پناہ لی تھی۔

ایک عینی شاہد  نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ مکان میں پانچ دہشت گرد موجود تھے۔

اس حصے سے مزید

'سفارت کار نقل و حرکت میں احتیاط برتیں'

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق احتیاط کی ہدایات دی گئیں تاہم سفارتخانوں کی بندش کی کوئی ہدایت جاری یا موصول نہیں ہوئی ہے۔

حیدر آباد: عمارت گرنے سے 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

چوڑی پاڑہ میں گرنے والی تین منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب کر مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

وزیراعظم نیٹو سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے

سیاسی بحران کے باعث وزیراعظم کا دورہ منسوخ کرکے جونیئر سفارتی عہدیدار کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھیجا جائے گا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad Jehangir
16 دسمبر, 2012 12:27
قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدون پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہید کرنا ، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔مزیدبرآں کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں. .................................................................................. اقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : طالبان کی جلسوں پر حملوں کی دہمکی http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماڈل ٹاؤن کیس: کچھ حماقتیں

حکمرانوں کے منع کرنے پر پولیس کی جانب سے مقتولین کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجہ سے معاملہ مزید خراب ہوا۔

بیوروکریٹس کی یونین

ذاتی مفادات کے لیے چوری چھپے سیاسی ہونے سے زیادہ بہتر ہے کہ ریاست کے وسیع تر مفاد کے لیے کھلے عام سیاسی ہوا جائے۔

بلاگ

ڈرامہ ریویو: 'لا'...الجھتے رشتوں کی کہانی

ڈرامہ پرفیکٹ نہیں بھی تھا تو بھی یہ ان ڈراموں میں سے ایک ضرور تھا جسے دیکھ کر بیزاری کا احساس نہیں ہوتا۔

مووی ریویو : 'راجہ نٹور لال' سٹیریو ٹائپنگ کا شکار ہوگئی

یہ فلم نہ تو مزاح پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اس میں اتنا تھرلر ہے جو اسے ذہن میں نقش کر دے۔

سستا خون: براۓ انقلاب

"انقلاب" سیاست چمکانے کے لیے ایک خوشنما لفظ بن چکا ہے، اور اسے مزید چمکانے کے لیے کارکنوں کا سستا خون بھی دستیاب ہے۔

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔