02 اکتوبر, 2014 | 6 ذوالحجہ, 1435
ڈان نیوز پیپر

پشاور: فائرنگ کے تبادلے میں پانچ دہشتگرد ہلاک

اتوار کی صبح پاک فوج کے جوان پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب موجود ہیں۔ واضح رہے رات کو دہشگردی کی کارروائی میں ملوث مزید پانچ دہشتگردوں کی پولیس سے چھڑپیں ہوئی ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی
اتوار کی صبح پاک فوج کے جوان پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب موجود ہیں۔ واضح رہے رات کو دہشگردی کی کارروائی میں ملوث مزید پانچ دہشتگردوں کی پولیس سے چھڑپیں ہوئی ہیں۔ فائل تصویر اے ایف پی

پشاور: پشاور کے علاقے پاوا کئی میں پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ دو دہشتگردوں نے فرار کا راستہ نہ ملنے پر خود کو اڑا لیا۔

اس آپریشن میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

سی سی پی او پشاور، امتیاز الطاف کے مطابق دہشتگردوں کیخلاف آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔

ان کے مطابق دو دہشتگرد حلیے سے ازبک دکھائی دیتے ہیں ۔۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو انہوں نے بتایاکہ پاؤکہ کے علاقے سے دو مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق دیشت گردوں نے گھر میں مورچہ بند ہوکر پولیس پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس کے بعد پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئ۔

ڈان نیوز کے مطابق دہشتگردوں نے ایک گھر میں موجود مکین کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔

پولیس کمانڈوز اور ریپڈ فورس کے اہلکاروں کے علاوہ پاک فوج کے دستوں نے بھی کارروائی میں حصہ لیا اور سرچ آپریشن مکمل کیا۔

عسکری ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچوں دہشت گرد ازبک تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد جدید اسلحے سے لیس تھے۔

خیبر پختونخواہ  کے وزیرِ اطلاعات، میاں افتخار کے مطابق اس واقعے کا تسلسل رات کو ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے سے ہے۔   یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے رات کے وقت پشاور ائیرپورٹ پر حملہ کیا تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی کے بعد وہاں سے فرار ہوگئے تھے۔

ڈان نیوز سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ ایرپورٹ حملے میں دس دہشتگرد شامل تھے جن میں سے پانچ فرارہونے کی کوشش میں پاؤکئی میں داخل ہوئےاور ایک زیرتعمیرعمارت میں پناہ لے لی تھی۔

میاں افتخار کے مطابق پولیس کی سخت نفری کی وجہ سے دہشتگرد فرار نہ ہوسکے اور ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک گھر میں پناہ لی تھی۔

ایک عینی شاہد  نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ مکان میں پانچ دہشت گرد موجود تھے۔

اس حصے سے مزید

اسلامک اسٹیٹ اسلام کے خلاف ہے: پاکستان علماء کونسل

کونسل نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کو فروغ دینے والی آئی ایس جیسی انتہاء پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار نہ کریں۔

وزيراعظم نااہلی کيس:سپريم کورٹ کالارجربينچ بنانےکی درخواست مسترد

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ پر اعتراض کی درخواست بھی چیف جسٹس نے مسترد کر دی، کیس کی سماعت جمعرات سے ہو گی۔

پروین رحمان قتل کیس: پولیس تفتیش میں ناکام

سپریم کورٹ میں پولیس حکام نے تسلیم کیا کہ کراچی میں ہوئے اس قتل کے معاملے میں ان کی تفتیشی صلاحیت محدود ہوگئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (1)

Mohammad Jehangir
16 دسمبر, 2012 12:27
قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدون پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہید کرنا ، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔مزیدبرآں کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں. .................................................................................. اقبال جہانگیر کا تازہ ترین بلاگ : طالبان کی جلسوں پر حملوں کی دہمکی http://www.awazepakistan.wordpress.com
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ماؤں اور بچوں کے قاتل ہم

پاکستان سے کم فی کس آمدنی رکھنے والے ممالک پیدائش کے دوران ماؤں اور بچوں کی اموات پر قابو پا چکے ہیں۔

تبدیلی کا پیش خیمہ

اکثر ایسے بڑے واقعات پیش آتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کو تیز کردیتے ہیں، مگر ایسے حالات کسی فرد کے پیدا کردہ نہیں ہوتے۔

بلاگ

!گو نواز گو

اس ملک میں پڑھے لکھے لوگوں کی قدر ہی نہیں۔ جب تک پڑھے لکھوں کو وی آئی پی پروٹوکول نہیں دیا جاتا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر ایک ڈالر جبکہ بعد میں سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اس کے باوجود ہم پہلے سے انتظامات نہیں کرتے۔

مقابلہ خوب ہے

کوئی دنیا کے در در پر پھیلے ہمارے کشکول کی زیارت کرے، پھر اس میں خیرات ڈالنے والوں کو فتح کرنے کے ہمارے عزم بھی دیکھے۔

پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی

آخر ذہنی بیماریوں کے شکار کتنے اور لوگوں کو اپنے گھرانوں کی بے حسی، اور معاشرے کی جانب سے ٹھکرائے جانے کو جھیلنا پڑے گا؟