01 اگست, 2014 | 4 شوال, 1435
ڈان نیوز پیپر

'مستحکم پاکستان کے لئے انتخابات ناگزیر ہیں'

قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف۔ فائل فوٹو۔۔۔
قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف۔ فائل فوٹو۔۔۔

رائیونڈ: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ مضبوط اور مستحکم پاکستان کے لئے انتخابات ناگزیر ہیں۔

جمعرات کو رائیونڈ میں سندھ کے سیاسی رہنما سردار علی گوہر مہر سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل اور بحرانوں سے باہر نکالنے کا واحد راستہ شفاف انتخابات کا بروقت انعقاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے اور وہاں امن و امان کی تشویشناک صورتحال پر قابو پانا ملک کی معاشی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن سندھ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اقتدار ملنے کی صورت میں سندھ میں قانون شکن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

اس حصے سے مزید

رحیم یار خان: ماں بیٹی کو تیزاب سے جھلسا دیا گیا

پولیس نے آمنہ کے سابق شوہر احمد سمیت چار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کردی ہے۔

ق لیگ، طاہر القادری پی ٹی آئی مارچ میں شامل ہو سکتے ہیں

ڈاکٹر قادری چوہدری شجاعت کے ذریعے پی ٹی آئی اور اپنے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے حتمی نتائج کے منتظر۔

تمام غیر قانونی تقرریاں منسوخ کی جائیں: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے مختلف اداروں کے سربراہوں کی تقرریوں پر اعتراضات اُٹھائے ہیں۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

ہمارا پارٹ ٹائم لیڈر

اتنی ناکارہ لیڈرشپ کی مثال مشکل سے ملیگی جس میں کسی دوراندیشی کی کوئی جھلک نہ ہو-

بجٹ اور صحت کا شعبہ

ایسا لگتا ہے کہ صحت کے بجٹ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کیلئے عطیات دینے والے ملکوں کے پیسے پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے

بلاگ

پکوان کہانی: موسم گرما کی سوغات 'آم

پرانے وقتوں کے لوگوں کی دلچسپ تصور اور حکمت کی بدولت، پھلوں کا بادشاہ عام انسان کی غذا بن گیا۔

پاکستان میں اسٹارٹ اپس اب تک ناکام کیوں؟

آجکل یہ فیشن سا بن گیا ہے کہ ہر کوئی یہی کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس 'اسٹارٹ اپ' ہے-

ساغر صدیقی : ایک دل شکستہ شاعر

وہ خوبصورت نظمیں لکھتے، پھر بلند آواز میں خالی نگاہوں سے پڑھتے، پھر ان کاغذات کو پھاڑ دیتے جن پر وہ نظمیں لکھی ہوتیں

پکوان کہانی: کابلی پلاؤ - شمال کی شان

گوشت میں پکے چاول اس خطے کے جنگجوؤں کی ذہنی مطابقت اور جسمانی ساخت کے لیے موزوں تھے۔