02 ستمبر, 2014 | 6 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

' جنوبی پنجاب کو جلد از جلد صوبہ بنایا جائے'

۔۔۔فائل فوٹو۔
۔۔۔فائل فوٹو۔

اسلام آباد: پنجاب میں نئے  صوبوں کےقیام سے متعلق پارلیمانی کمیشن کے اجلاس کے دوران بہاولپور اور ملتان سے تین اراکین پر مشتمل ماہرین کی ٹیم نے کمیشن کو تجویز دی کہ جنوبی پنجاب کو  جلد از جلد  صوبہ بنایا جائے۔

پیر کو سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق، ماہرین کی ٹیم نے بریفنگ کے دوران کمیشن کو یہ تجویز دی۔

ماہرین میں تاج محمد لنگاہ، خیر محمد بدھ اور رافعت الرحمن رحمانی  شامل ہیں۔

اس موقع پر پاکستان سرائیکی پارٹی کے تاج محمد لنگا نے اہم دستاویزات بھی کمیشن کے حوالےکیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر  نے بتایا کہ کمیشن کو بذریعہ ای میل آٹھ  مکمل دستاویزات  اور  تجاویز بھی موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی کمیشن  کا آئندہ اجلاس جنوری کے پہلے ہفتے میں دوبارہ ہوگا۔

اس حصے سے مزید

سپریم کورٹ : پندرہ پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس جاری

ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وہ صرف ایک مرتبہ عمران خان سے ملے ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے پولیس فورس کو نفسیاتی دھچکا

ایس ایس پی آپریشن عصمت اللہ جونیجو کے مظاہرین کے ہاتھوں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچنے سے پولیس اہلکاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

سیاسی معاملات میں فوج کی مدد حاصل نہیں کریں گے، عمران خان

دوسری جانب پاک فوج نے بھی کہا ہے کہ وہ وجودہ سیاسی بحران کے پیچھے نہیں ہے۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

احتیاطی نظربندی کا غلط قانون

فوجی اور سویلین حکومتوں نے باقاعدگی سے احتیاطی نظربندی کو اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اوردھمکانے کے لیے استعمال کیا ہے۔

توجہ طلب شعبہ

بجلی کی لائنیں لگانے اور مرمت کرنے کو دنیا کے دس خطرناک ترین پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے-

بلاگ

سیاست اور اخلاقیات

پتہ نہیں وہ کون سے ملک یا قومیں ہوتی ہیں جن کے عہدیدار کسی بھی ناکامی کی صورت میں فوراً اپنے عہدے سے مستعفی ہوجاتے ہیں۔

تاریخ کی تکرار

پولیس پر تشدد اور دہشت گردی کا الزام لگانے والے کیا اپنے گھروں پر کسی ایرے غیرے نتھو خیرے کو چڑھائی کی اجازت دیں گے؟

آبی مسائل کا ذمہ دار ہندوستان یا خود پاکستان؟

پاکستان میں پانی اور بجلی کے بحران کی وجہ پچھلے 5 عشروں سے پانی کے وسائل کی خراب مینیجمنٹ ہے۔

نوازشریف: قوت فیصلہ سے محروم

نواز شریف اپنے بادشاہی رویے کی وجہ سے پھنس چکے ہیں، جو فیصلے انہیں چھ ماہ پہلے کرنے چاہیے تھے وہ آج کر رہے ہیں۔