18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

بلاول بھٹو کے سیاسی کیریئر کا آغاز

ستائیس دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری عوام سے خطاب کررہے ہیں۔ رائٹرز تصویر
ستائیس دسمبر کو بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری عوام سے خطاب کررہے ہیں۔ رائٹرز تصویر

گڑھی خدا بخش: سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی اور انکے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اپنے سیاسی کریئر کے آغاز کو دیکھنے ہزاروں افراد گڑھی خدا بخش میں جمعرات کو جمع ہوئے۔

اپنی تقریر کی دوران بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی  کی حکومت نے عوام کی طاقت عوام کے حوالے کردی، ان کا راستہ جمہوریت کا ہے جو انھیں شہید بنظیر بھٹو نے دیا۔

انکے مطابق، پی پی پی نے سیاست کو عدلیہ پر قربان کردیا لیکن وہ آج بھی انصاف کے طالب ہیں۔

بلاول بھٹو نے عدلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انکا کام انصاف کرنا ہے سیاست نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی والدہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے سیاسی مخالفین کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ نفرت کی سیاست کرکے اقتدار چاہتے ہیں لیکن انہیں ناکامی ہوگی۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ 'آج جمہوریت کے دعویداروں کو ایوان صدر میں جنرل ضیا اور مشرف وردی میں نظر نہیں آیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ایجنسیوں کی مدد سے بی بی شہید کا راستہ روکا اور اصغر خان  کیس میں سب پتہ بھی چل گیا۔'

انکا کہنا تھا کہ آج نظام بدل رہا ہے، پرانے برج اور تخت الٹ رہے ہیں، تاج اچھالے جارہے ہیں۔

انہوں نے بینظیر بھٹو کو گواہ بنا کر وعدہ کیا کہ پیپلز پارٹی کبھی کسی دہشتگرد سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔

اس سے قبل بے نظیر بھٹو کی پانچویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بی بی کے مزار پر حاضری دی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جمعرات کا دن ملک اور پارٹی کے لیے اہم ہوگا کیوں کہ ایک نیا بھٹو اپنا سیاسی کیریر شروع کرنے جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قائدین پر ہر قسم کا تشدد کیا گیا اور بھٹو پر ملک توڑنے تک جیسے الزامات لگائے گئے۔

صدر زرداری کا خطاب

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شفاف انتخابات کے انتظامات کئے ہیں۔ کسی کو پاکستان میں مصری ماڈل اختیار کرنے کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔

بلاول بھٹو کی تقریر کے بعد صدر آصف علی زرداری نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ حکومت نے شفاف انتخابات کے انتظامات کئے ہیں۔ کسی کو پاکستان میں مصری ماڈل اختیار کرنے کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی عوامی حکومت پانچ سال مکمل کررہی ہے اور شفاف انتخابات کیلئے بہت سے آئینی اور قانونی اقدامات کئے گئے ہیں۔

صدر نے اپنے خطاب کے دوران مشرق وسطٰی میں آمریت مخالف لہر کا بھی حوالہ دیا اور نشاندھی کی کہ اس وقت پیپلز پارٹی نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر پاکستان بچایا۔۔صدر نے کہا کہ پاکستان میں کسی کو مصری ماڈل اختیار کرنے کی غلط فہمی میں رہنا چاہئے۔۔

صدر نے کہا کہ مفاہمت کی پالیسی انہوں نے نہیں بلکہ مادر جمہوریت نصرت بھٹو نے شروع کی تھی اور انہوں نے ہی ضیاء الحق کے عہد میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تھا۔

اس حصے سے مزید

ایم کیو ایم کا کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر احتجاج

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ کے رہنماؤں نے تحفظ پاکستان آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیا۔

علماء و مشائخ کنونشن میں مذہب کے نام پر ناانصافی کی مذمت

کنونشن میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرے، جو شدت پسندی اور دیگر واقعات میں ملوث ہیں۔

خیرپور میں گیس پائپ لائن دھماکے سے تباہ

پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سندھ کے مختلف شہروں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔