16 ستمبر, 2014 | 20 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

'پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے'

ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل نہیں، روایتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں، آرمی چیف۔ آئی این پی فوٹو۔
ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل نہیں، روایتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں، آرمی چیف۔ آئی این پی فوٹو۔

کراچی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیا نی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے۔

 وہ ہفتہ کو پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں پاکستان نیوی مڈ شپ مین کی 98 ویں ٹرم اور شارٹ سروس کمیشن آفیسرز کے 7 ویں بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے جس میں کل 118 افسران نے کمیشن حاصل کیا۔

 خطاب کو دوران آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے ہوئے بیرونی حالات اور کافی حد تک غیر یقینی اندرونی صورتحال نے بے شمار سیکیورٹی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔

 'آج ہمارامقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل ہمارے سامنے نہیں جبکہ روایتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں، تمام خطرات کا مقابلہ قوم کی اجتماعی کوشش سے ہی کیا جاسکتا ہے جس میں مسلح افواج کا مرکزی کردار ہے جو وہ دیگر ریاستی عناصر سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اد ا کررہی ہیں۔'

 چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ موجودہ حالات میں سمندر کی جانب سے ہماری خود مختاری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط اور جدید بحریہ کا وجود ناگزیر ہے، یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنی قوت میں اضافہ کریں اور اسی پر انحصار کریں۔

 انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان نیوی اپنی خود انحصاری کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے اور پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اس منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

 مہمان خصوصی نے کمیشن حاصل کرنے والے افسران پر زور دیا کہ وہ ملک اور سروس کے مفادات کو ہمیشہ فوقیت دیں اور کبھی بھی اپنے ذاتی احساسات کو اس قومی فریضے پر ترجیح نہ دیں جو انہیں تفویض کیا گیا ہے۔

 انہوں نے اس موقع پر افسران کو کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران، سول سروس سے تعلق رکھنے والے افسران، غیر ملکی مندوبین اور کمیشن حاصل کرنے والے افسران کے والدین اوران کے اہل خانہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

چیف جسٹس جمہوریت کو بچائیں، عمران خان کی اپیل

پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ وہ جمہوریت بچانے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرے۔

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائی میں 20 مبینہ دہشت گردہلاک، 5 ٹھکانے تباہ

سرکاری ذرائع نے بھی وادی تیراہ، جتوئی اور راجگل میں فضائی کارروائی میں مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

'درآمدی ایل این جی سے ڈھائی ارب ڈالرز کی سالانہ کی بچت ہوگی'

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کی درآمد کو ملک میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

Mr.T
29 دسمبر, 2012 17:35
General Sahab, Ap ke qoum nahi log hain, is ko qoum bananay k leay ap ko leader banna paray ga. Warna jin leadero nai is qoum ko logo mai baat dia hai, kuch arsay mai wo ap ke bhi nahi sunay gain...
ambreen fatima
30 دسمبر, 2012 08:14
I really like this website because i got information and news fastly from here.I have also a message for our laedres that PLEASE WAKE UP.
Israr Muhammad
30 دسمبر, 2012 17:45
ملک اپنے تاریخ کے نازک موڑ سے کزررهاهے اسکا مطلب آج تک کوئی بھی نہیں سمجھ سکا هے کیونکہ همارا ملک هر وقت هر منٹ هر دن هر هفتۂ هر ماہ هر سال ایسے هی نازک دور سے گزر رہا هوتا هے اب یۂ فقره همارے ملک کا ایک جز هے اب اسکے متبادل فقرے کی تلاش هونی چاہیے پاکستان کا نارمل دور تو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا شاید کب نصیب هو
Israr Muhammad
30 دسمبر, 2012 17:59
سب سے میں جرنل کے اس بیان کا مزمت کرتا هوں کیونکہ اسطرح کا بیان جرنل کا کام نہیں اسطرح کا حکومت کا کام هے نۂ کۂ جرنل کا یۂ صرف پاکستان میں هوتا هے ملک اپنے تاریخ کے نازک موڑ سے کزررهاهے اسکا مطلب آج تک کوئی بھی نہیں سمجھ سکا هے کیونکہ همارا ملک هر وقت هر منٹ هر دن هر هفتۂ هر ماہ هر سال ایسے هی نازک دور سے گزر رہا هوتا هے اب یۂ فقره همارے ملک کا ایک جز هے اب اسکے متبادل فقرے کی تلاش هونی چاہیے پاکستان کا نارمل دور تو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا شاید کب نصیب هو
سروے
مقبول ترین
قلم کار

باغیوں کی ضرورت ہے

موجودہ حکومت انتہائی قابل سول سرونٹس کو بھی صرف اس لیے ناپسند کرتی ہے، کیونکہ وہ درباریوں کی طرح نیازمندی نہیں دکھاتے۔

چھوٹے باغیچوں کی اہمیت

غریب خواتین کو لیز پر چھوٹے پلاٹ دیے جاسکتے ہیں، جہاں وہ اپنے گھر والوں کے لیے کھانے کی چیزیں اگا سکیں۔

بلاگ

جب خاموشی بہتر سمجھی جائے

اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ برطانوی پاکستانیوں کے پاس جنسی استحصال پر بات کرنے کے لیے آزادی نہیں ہے۔

نائنٹیز کا پاکستان - 6

اندازے کے مطابق اس دور میں پاکستانی فوج ہر ماہ اوسط ساڑھے سات کروڑ ڈالر ’مجاہدین‘ پر خرچ کر رہی تھی۔

ماضی کی جھلکیاں، میرانِ تالپورکے مقبرے

یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مزارات کافی خراب حالت میں ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کس وقت دیواریں منہدم ہوجائیں۔

ٹیم کو محمد حفیظ کی ضرورت ہے

ٹی-20 اور ون ڈے، دوںوں ہی میں وہ سب سے اچھے آل راؤنڈر ہیں، اور یہاں وہ پاکستان کے لیے اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔