18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

'پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے'

ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل نہیں، روایتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں، آرمی چیف۔ آئی این پی فوٹو۔
ہمارا مقابلہ ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل نہیں، روایتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں، آرمی چیف۔ آئی این پی فوٹو۔

کراچی: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیا نی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے۔

 وہ ہفتہ کو پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں پاکستان نیوی مڈ شپ مین کی 98 ویں ٹرم اور شارٹ سروس کمیشن آفیسرز کے 7 ویں بیچ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کر رہے تھے جس میں کل 118 افسران نے کمیشن حاصل کیا۔

 خطاب کو دوران آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے ہوئے بیرونی حالات اور کافی حد تک غیر یقینی اندرونی صورتحال نے بے شمار سیکیورٹی چیلنجز کو جنم دیا ہے۔

 'آج ہمارامقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضح شکل ہمارے سامنے نہیں جبکہ روایتی خطرات بھی کئی گنا بڑھ چکے ہیں، تمام خطرات کا مقابلہ قوم کی اجتماعی کوشش سے ہی کیا جاسکتا ہے جس میں مسلح افواج کا مرکزی کردار ہے جو وہ دیگر ریاستی عناصر سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اد ا کررہی ہیں۔'

 چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ موجودہ حالات میں سمندر کی جانب سے ہماری خود مختاری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط اور جدید بحریہ کا وجود ناگزیر ہے، یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنی قوت میں اضافہ کریں اور اسی پر انحصار کریں۔

 انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان نیوی اپنی خود انحصاری کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے اور پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ اس منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

 مہمان خصوصی نے کمیشن حاصل کرنے والے افسران پر زور دیا کہ وہ ملک اور سروس کے مفادات کو ہمیشہ فوقیت دیں اور کبھی بھی اپنے ذاتی احساسات کو اس قومی فریضے پر ترجیح نہ دیں جو انہیں تفویض کیا گیا ہے۔

 انہوں نے اس موقع پر افسران کو کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 تقریب میں تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران، سول سروس سے تعلق رکھنے والے افسران، غیر ملکی مندوبین اور کمیشن حاصل کرنے والے افسران کے والدین اوران کے اہل خانہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس حصے سے مزید

تحفظ پاکستان آرڈیننس سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود وفاقی حکومت نے تحفظ پاکستان بل 2014 کو سینیٹ میں پیش کر دیا ہے۔

اسلام آباد منڈی دھماکے کی تفتیش میں امرود فارم کا مینیجر گرفتار

حکام کے مطابق تقریباً 40 پیٹیاں ایک مسافر بس کی چھت پر لوڈ کرکے اسلام آباد کی پھل و سبزی کی مارکیٹ میں لائی گئیں تھیں۔

پروسیکیوٹر کی تقرری سے متعلق مشرف کی درخواست مسترد

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔


تبصرے بند ہیں.

تبصرے (4)

Mr.T
29 دسمبر, 2012 17:35
General Sahab, Ap ke qoum nahi log hain, is ko qoum bananay k leay ap ko leader banna paray ga. Warna jin leadero nai is qoum ko logo mai baat dia hai, kuch arsay mai wo ap ke bhi nahi sunay gain...
ambreen fatima
30 دسمبر, 2012 08:14
I really like this website because i got information and news fastly from here.I have also a message for our laedres that PLEASE WAKE UP.
Israr Muhammad
30 دسمبر, 2012 17:45
ملک اپنے تاریخ کے نازک موڑ سے کزررهاهے اسکا مطلب آج تک کوئی بھی نہیں سمجھ سکا هے کیونکہ همارا ملک هر وقت هر منٹ هر دن هر هفتۂ هر ماہ هر سال ایسے هی نازک دور سے گزر رہا هوتا هے اب یۂ فقره همارے ملک کا ایک جز هے اب اسکے متبادل فقرے کی تلاش هونی چاہیے پاکستان کا نارمل دور تو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا شاید کب نصیب هو
Israr Muhammad
30 دسمبر, 2012 17:59
سب سے میں جرنل کے اس بیان کا مزمت کرتا هوں کیونکہ اسطرح کا بیان جرنل کا کام نہیں اسطرح کا حکومت کا کام هے نۂ کۂ جرنل کا یۂ صرف پاکستان میں هوتا هے ملک اپنے تاریخ کے نازک موڑ سے کزررهاهے اسکا مطلب آج تک کوئی بھی نہیں سمجھ سکا هے کیونکہ همارا ملک هر وقت هر منٹ هر دن هر هفتۂ هر ماہ هر سال ایسے هی نازک دور سے گزر رہا هوتا هے اب یۂ فقره همارے ملک کا ایک جز هے اب اسکے متبادل فقرے کی تلاش هونی چاہیے پاکستان کا نارمل دور تو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا شاید کب نصیب هو
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔