29 اگست, 2014 | 2 ذوالقعد, 1435
ڈان نیوز پیپر

کوئٹہ میں فائرنگ سے چار پولیس اہلکار ہلاک

پولیس اہلکار ایک جائے وقوعہ پر۔ – فائل فوٹو اے پی

کوئٹہ: ہفتہ کے روز کوئٹہ کےعلاقے غوث آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اے ایس آئی سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے سٹیلایٹ ٹاون کے علاقے میں پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے باعث تین اہلکار جائے وقوعہ پر ہی جان کی بازی ہارگئے۔

فائرنگ کے واقعے میں چوتھا زخمی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں چل بسا۔ سی سی پی کوئٹہ میر زبیر محمود کہتے ہیں کہ پولیس عوام کے تحفظ کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔

پولیس کی گاڑی علاقے میں معمول کی گشت پر تھی کہ اس پر فائرنگ کی گئی اور حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

واقعے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردیں۔

ابتک کسی گروہ کیجانب سے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

اس حصے سے مزید

آواران: فائرنگ سے چھ افراد ہلاک

حکام کے مطابق مسلح افراد نے ذکری فرقے سے تعلق والے افراد پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ایک عبادت گاہ میں موجود تھے۔

کوئٹہ: دوصحافیوں سمیت تین افراد قتل

نیوز ایجنسی کے دفتر میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور بیورو،رپورٹر اور اکائونٹنٹ کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔

مستونگ: نیٹو ٹینکرز پر حملہ

پولیس کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔


تبصرے بند ہیں.
سروے
مقبول ترین
قلم کار

اسلام آباد کا تماشا

عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن ایک کمزور وزیر اعظم کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر تحقیقات کر سکے گا.

جمہوریت کے تسلسل کی ضرورت

حکومت نےکس قدر عجلت میں مذاکرات کا فیصلہ کیا، اس سے معاملات کے اوپر جی ایچ کیو کی گرفت کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے۔

بلاگ

اجتماعی سیاسی قبر

فوج کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاستدان سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

مووی ریویو: مردانی - پاورفل کہانی، بہترین پرفارمنس

بولی وڈ اداکار رانی مکھرجی اور طاہر بھاسن دونوں ہی اپنی بولڈ پرفارمنس کے لئے تعریف کے لائق ہیں۔

عظیم مقاصد، پر راستہ؟

اس طوفان کے نتیجے میں ان چاہی افرا تفری پھیل سکتی ہے، اسلیے اچھے مقاصد کے لیے ایسے راستے اختیار نہیں کیے جانے چاہییں۔

انقلاب معافی چاہتا ہے

ڈی چوک وہ سیاسی چراغ ہے جس کو اگر ضدی شہزادے کافی حد تک رگڑ دیں تو کچھ پتا نہیں اس میں سے انقلاب کا جن نکل ہی آئے۔