18 اپريل, 2014 | 17 جمادی الثانی, 1435
ڈان نیوز پیپر

آئیوری کوسٹ: بھگدڑ مچنے سے ساٹھ افراد ہلاک

آئیوری کوسٹ: بھگدڑ میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے کپڑے جائو وقوعہ پر پڑے ہوئے ہیں جبکہ قریب ہی ایک سیکیورٹی اہلکار بھی کھڑا ہو ہے۔ فوٹو اے پی۔۔۔

ابدجان: آئیوری کوسٹ کے مرکزی شہر ابدجان میں منگل کو نئے سال کی خوشی میں ایک اسٹیڈیم کے باہر کی جانے والی آتش بازی کے بعد مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

ایمرجنسی افیشل کے مطابق حادثہ فیلکس ہوفی ایٹ بوئگنی اسٹیڈیم کے قریب پیش آیا جہاں تماشائی آتش بازی دیکھنے کیلیے جمع ہوئے تھے۔

ایک زخمی نے اسپتال میں رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز لوگوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کیلیے پہنچی ہی تھیں کہ اسی دوران بھگدڑ مچ جس کے نتیجے میں متعدد افراد گر گئے اور پیروں تلے روندے گئے۔

وزیر داخلہ حامد باکایوکو نے قومی ٹیلی ویژن پر دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ حادثے میں 60 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہو گئے۔

صدر ایلیسین آتارا اسپتال میں زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور اسے قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تفصیلات جاننے کیلیے تحقیقات جاری ہے۔

ابدجان میں یہ 2010 کے بعد رونما ہونے والا سب سے بدترین واقعہ ہے، 2010 میں اسٹیڈیم میں فٹبال میچ کے دوران بھگدڑ مچنے سے 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مغربی افریقہ کا مستحکم معاشی حب آئیوری کوسٹ 2011 میں ہونے والی خانہ جنگی کے نقصانات سے باہر آنے کی کوشش کررہا ہے، خانہ جنگی میں 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حصے سے مزید

نیروبی دھماکوں میں چھ افراد ہلاک

ذیادہ آبادی والے ایک علاقے میں دو ہوٹلوں اور ایک کلینک میں لگاتار دھماکے ، پچیس افراد زخمی ۔

نائیجیریا: عسکریت پسندوں کا کالج پر حملہ، 43 ہلاک

شدت پسندوں نے کالج کی رہائشی عمارت پر گولہ باری کرنے کے بعد فائرنگ کی اور طالب علموں کو چھریوں کے وار سے بھی ہلاک کیا۔

شمالی نائیجیریا میں بوکو حرم کا حملہ، 60 ہلاک

حملے کے بعد فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے بھاگتے ہوئے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا اور انہیں ہلاک کیا گیا۔


تبصرے بند ہیں.
مقبول ترین
بلاگ

ریویو: بھوت ناتھ - ریٹرنز

مرکزی کرداروں سے لیکر سپورٹنگ ایکٹرز سب اپنی جگہ کمال کے رہے اور جس فلم میں بگ بی ہوں اس میں چار چاند تو لگ ہی جاتے ہیں۔

میانداد کا لازوال چھکا

جب بھی کوئی بیٹسمین مقابلے کی آخری گیند پر اپنی ٹیم کو چھکے کے ذریعے جتواتا ہے تو سب کو شارجہ ہی یاد آتا ہے۔

جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی سیاسی جماعتیں

مذہب کے نام پر کوئی متفقہ سیاسی نظام بن ہی نہیں سکتا کیونکہ مذاہب کے درجنوں دھڑے کسی ایک ایشو پر متفق نہیں ہو سکتے۔

یکسانیت اور رنگا رنگی

یکسانیت جانی پہچانی بلکہ اطمینان بخش بھی ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب ہے چیلنج سے بچنا، جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔